پاکستان کے خلاف افغان طالبان کی جانب سے ڈرون حملوں میں بھارت کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کی ناکامی سے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان افغان طالبان کی سرپرستی میں دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جہاں 20 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کے سرگرم ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو افغان طالبان کی حمایت اور بھارت کی مالی معاونت حاصل ہے، جبکہ دہشتگردوں کے لیے موجود ماحول بھارتی ریاستی پالیسی کے مذموم عزائم کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے جون 2026 میں پاکستان کے خلاف ڈرون حملے کا دعویٰ کیا، تاہم پاک فضائیہ کے دفاعی نظام نے ڈرون کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا۔
پاکستان کے خلاف افغان طالبان کی جانب سے مبینہ ڈرون حملوں میں بھارت کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کی ناکامی سے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔@KulAalam @awaisReporter pic.twitter.com/cOjN3gNJfR
— Media Talk (@mediatalk922) August 10, 2026
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں استعمال ہونے والے یو اے ایس ڈرونز افغانستان میں تیار نہیں کیے گئے بلکہ بھارت کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔ جون سے جولائی 2026 کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 9 ڈرون حملے کیے گئے۔
برآمد کیے گئے ڈرونز کی رینج 50 سے 270 کلومیٹر تک ہے اور یہ 5 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں بھارتی فراہم کردہ ڈرونز کو تکنیکی اعتبار سے محدود صلاحیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان میں طالبان مخالف گروپس کی کارروائیاں تیز، چوکی پر حملہ کرکے اسلحہ پر قبضے کا دعویٰ
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس ڈرونز سے نمٹنے کے لیے مضبوط مربوط دفاعی نظام اور سافٹ کِل و ہارڈ کِل صلاحیت موجود ہے، جس کے باعث ایسے ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنایا جاسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیکنالوجی اور مؤثر دفاعی حکمت عملی کے باعث بھارت اور افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے خلاف مشترکہ عزائم کامیاب نہیں ہوسکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی عسکری ٹیکنالوجی اس سے قبل بھی ’معرکۂ حق‘ کے دوران اپنے دانت کٹھے کر چکی ہے۔














