افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں سونے کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کان کنی نے مقامی لوگوں کی زندگی، زراعت اور قدرتی ماحول کو شدید متاثر کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: سونے کی کان کنی پر طالبان اور مقامی آبادی میں جھڑپیں، متعدد زخمی
شیوا کے علاقے میں درجنوں کھدائی کی مشینیں دن رات پہاڑوں کو کھود رہی ہیں، جبکہ ملک بھر سے ہزاروں کان کن سونا نکالنے کے لیے یہاں پہنچے ہوئے ہیں۔

مقامی کسان محمد امین نے بتایا کہ کان کنی سے پہلے دریا کا پانی صاف اور گہرا تھا، مگر اب پانی پینے اور نہانے کے قابل بھی نہیں رہا۔ دھول اور مٹی کے باعث دریا کے کنارے موجود گھاس بھی ختم ہوگئی اور کھیتی باڑی ممکن نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی کانیں کیسے افغانوں کو خوشحال بنائیں گی؟
ان کے مطابق پہلے وہ 40 بکریاں پالتے تھے، تاہم اب صرف 15 بکریوں کے لیے خوراک کا انتظام کرپاتے ہیں۔

افغان طالبان حکومت نے اقتدار میں واپسی کے بعد ملک کے معدنی وسائل سے آمدن بڑھانے کے لیے کان کنی کے شعبے کو وسعت دی ہے۔ بدخشاں کے محکمہ کان کنی کے مطابق صوبے میں تقریباً 650 سے 700 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جبکہ ہزاروں افراد کان کنی میں کام کررہے ہیں۔
مقامی افراد کے لیے روزگار کے محدود مواقع کے باعث ملک کے مختلف حصوں سے لوگ سونے کی کانوں میں کام کرنے بدخشاں پہنچ رہے ہیں۔

تاہم حکام نے ماحولیاتی نقصان کے باعث تقریباً 225 کان کنی کے مقامات بند بھی کیے ہیں۔ محکمہ کان کنی کے سربراہ کے مطابق بعض علاقوں میں سیلاب، کیچڑ اور ملبے کے باعث پل، دکانیں اور ایک اسکول تباہ ہوچکے ہیں۔
مقامی چرواہے فاضل نے کہا کہ سونے کی کان کنی سے مقامی آبادی کو فائدہ نہیں پہنچ رہا بلکہ اس کا فائدہ صرف طاقتور لوگوں کو ہورہا ہے۔














