پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں کشمیر اوورسیز کے سینیئر رہنما حاجی احسان دانش نے کہا ہے کہ اوورسیز کشمیری آزاد کشمیر کے موجودہ نظام سے مایوس نہیں، ووٹ قوم کی امانت ہے اور اسی کے ذریعے نمائندے منتخب ہو کر قانون سازی کرتے اور اپنے علاقے اور ملک کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں۔ اگر حکومت میں کوئی کردار دیا گیا تو ڈیلیور کرکے دکھاؤں گا۔
’وی نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں حاجی احسان دانش نے کہاکہ وہ 32 سال سے اوورسیز میں مقیم ہیں، ہر انتخابات سے قبل آزاد کشمیر آتے ہیں، اور انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اوورسیز کشمیری اپنے ملک کے حالات کو اسی شدت سے محسوس کرتے ہیں جس شدت سے پاکستان اور آزاد کشمیر میں رہنے والے لوگ ان مسائل کو محسوس کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ بیرون ملک رہنے والے اپنے ملک کو بھول گئے ہیں، یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے ہم ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے ہر صورت آتے ہیں اور اپنے بچوں اور دوستوں کو بھی ساتھ لاتے ہیں تاکہ وہ بھی انتخابی عمل کا حصہ بنیں۔
راجا فاروق حیدر کی کامیابی پر دھاندلی کے الزام کا جواب
حاجی احسان دانش نے کہاکہ ان کا تعلق راجا فاروق حیدر کے حلقے سے ہے اور وہ قریباً 25، 30 سال سے ان کے ساتھ انتخابی عمل کا حصہ بنتے رہے ہیں۔
انہوں نے راجا فاروق حیدر کو انتہائی نفیس اور شفاف انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابی عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی پر یقین نہیں رکھتے اور جہاں کہیں بھی ایسا کوئی واقعہ نظر آئے، اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے راجا فاروق حیدر کو ٹھپے لگا کر کامیاب کرانے کے الزام کے حوالے سے حاجی احسان دانش نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اشفاق ظفر کبھی بھی الیکشن نہیں جیتے، اور پانچویں مرتبہ شکست ہوئی ہے، ٹھپے لگانے کی بات میں کوئی حقیقت نہیں۔
انہوں نے کہاکہ 2016 میں جب راجا فاروق حیدر وزیراعظم بنے تھے تو اس وقت الیکشن میں مخالف امیدوار کو 15 ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی تھی، جبکہ اب علاقے تقسیم ہونے کی وجہ سے دو یونین کونسلز لیپا کے ساتھ منسلک ہوگئی ہیں، جس کے باعث ووٹوں کا تناسب کم ہوا ہے۔
حاجی احسان دانش نے کہاکہ جہاں تک انہوں نے دیکھا، الیکشن انتہائی شفاف ہوا اور انہیں اپنے پولنگ اسٹیشن پر پولنگ ایجنٹ کی حیثیت سے کسی ایک ووٹ کے بارے میں بھی اعتراض نہیں ہوا۔
اوورسیز کشمیریوں کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
اوورسیز کشمیریوں کے مسائل کے حوالے سے حاجی احسان دانش نے کہاکہ گزشتہ کنونشن جو چیف آف آرمی اسٹاف کی قیادت اور وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں منعقد ہوا تھا، بڑی تعداد میں کشمیریوں اور پاکستانیوں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہاکہ اس موقع پر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ ان کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ایک بڑا مسئلہ پاکستان میں موجود جائیدادوں پر قبضے کا تھا، جس کے لیے ’قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن‘ شروع کیا گیا اور وہ الحمدللہ کامیابی سے جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گرین چینل کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری میں کوٹا بڑھایا گیا، کالجز میں کوٹا بڑھایا گیا اور ملازمتوں میں اوورسیز پاکستانیوں کا کوٹا بھی بڑھایا گیا، جو ایک اچھا قدم تھا اور اس سے ان کی کافی پریشانیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں اسکولوں کی کمی بڑا مسئلہ ہے
حاجی احسان دانش نے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑا مسئلہ اسکولوں کی کمی ہے، جبکہ پاکستانی بچوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے داخلوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ متعلقہ حکام سے بھی اس معاملے پر بات کی گئی ہے اور انہوں نے یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ قائد ن لیگ میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کو اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔
اوورسیز نشست پر گلف کو نظر انداز کرنے کا شکوہ
آزاد کشمیر اسمبلی میں اوورسیز نشست پر برطانیہ اور یورپ کو ترجیح دیے جانے جبکہ گلف کے اوورسیز کشمیریوں کو نظرانداز کرنے پر حاجی احسان دانش نے کہاکہ آج ان کی وزیر امور کشمیر امیر مقام سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے یہی معاملہ ان کے سامنے رکھا۔
انہوں نے کہاکہ گلف والوں کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان آنے والی سب سے زیادہ ترسیلات زر مشرق وسطیٰ سے آتی ہیں۔
’آزاد کشمیر میں سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امن و امان کا مسئلہ ہے‘
آزاد کشمیر میں سرمایہ کاری کے مواقع اور سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے حاجی احسان دانش نے کہاکہ لوگ بیرون ملک اس لیے سرمایہ کاری کرتے ہیں کیونکہ وہاں سیکیورٹی کے معاملات بہت بہتر ہوتے ہیں۔
انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہاکہ گزشتہ عرصے میں انہوں نے انجینیئرنگ کونسل پاکستان میں ایک کمپنی میں رجسٹرڈ کرائی، لیکن جب ٹینڈر کے لیے اپلائی کیا تو مقامی لوگوں نے ان سے ناراضی کا اظہار کیا، یہاں تک کہ انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں اور کہا گیا کہ انہیں اٹھا کر دریا میں پھینک دیں گے۔
حاجی احسان دانش نے کہاکہ جب تک سیکیورٹی نہیں ہوگی تو کوئی شخص اپنے بچوں کا رسک کیسے لے گا۔ ان کے مطابق ان کی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امن و امان کا مسئلہ ہے، جسے بہتر کرنا ہوگا۔
انہوں نے عدالتوں کے نظام کو بہتر بنانے اور سزا و جزا کا معاملہ درست کرنے پر بھی زور دیا۔
’جماعت کردار دے تو سرمایہ کاری کے لیے خدمت کو تیار ہوں‘
ایک سوال کے جواب میں حاجی احسان دانش نے کہاکہ اگر مسلم لیگ (ن) انہیں سرمایہ کاری کے حوالے سے کوئی کردار دیتی ہے تو وہ قبول کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر خدمت کا موقع ملا تو وہ اسے امانت سمجھ کر ضرور ادا کریں گے اور جس طرح انہوں نے بیرون ملک اپنا قدم جمایا اور ایک نام پیدا کیا، اسی طرح یہاں بھی کام کریں گے۔
’نوجوانوں کو سرکاری ملازمت کے بجائے ہنر کی طرف آنا چاہیے‘
حاجی احسان دانش نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہاکہ انہیں صرف سرکاری ملازمت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے بلکہ اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے انہیں ٹیکنیکل تعلیم کی طرف لے جانا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ جہاں بھی وہ انتخابی مہم میں گئے، لوگوں کی شکایات یہی تھیں کہ ان کے بچوں کو قلی، کلرک یا چپڑاسی بھرتی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ انہیں ان باتوں سے بہت دکھ ہوتا ہے۔
حاجی احسان دانش نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہاکہ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے، تاہم اللہ تعالیٰ نے مدد کی، انہوں نے رسک لیا اور آگے بڑھے۔
ان کا کہنا تھا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ٹیکنیکل تعلیم کی طرف لے کر جائیں۔ چھوٹے چھوٹے کورسز موجود ہیں، جن میں سرویئر، سیفٹی، کیمرہ مین اور ٹیلرنگ کے کورسز شامل ہیں۔ یہ کورسز کچھ ماہ میں مکمل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر ایک بچے کو سرکاری ملازمت مل بھی جائے تو ساری زندگی کام کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ پر اسے چند لاکھ روپے ملیں گے، اس سے کیا بنے گا۔
ان کے مطابق اس طرح معاشرہ نیچے جا رہا ہے، جسے بچانے کے لیے بچوں کو ٹیکنیکل تعلیم کی طرف لے جانا ہوگا۔
حاجی احسان دانش نے کہاکہ اگر کوئی بچہ ٹیکنیکل تعلیم یافتہ ہو تو ان سے رابطہ کر سکتا ہے اور وہ اپنی بساط کے مطابق اس کی ضرور مدد کریں گے۔
’14 اگست اور کشمیر کے دن اوورسیز میں بھرپور انداز میں مناتے ہیں‘
آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کو ایک ہی پلڑے میں رکھنے اور برابر قرار دینے والوں کے حوالے سے سوال پر حاجی احسان دانش نے کہا کہ ہر انسان کی سوچ مختلف ہے۔
حاجی احسان دانش نے کہاکہ انہوں نے پوری کوشش کی ہے کہ جتنے بھی ایونٹس ہوتے ہیں، ان میں 14 اگست، 23 مارچ اور کشمیر کے تمام ایام کو بہت اچھے طریقے سے منایا اور منظم کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ وہ ان پروگراموں میں اپنی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور نجی پروگرام بھی کرتے ہیں، کیونکہ انہیں اپنے ملک سے محبت ہے۔












