یورپ ایک بار پھر شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں آنے کو تیار ہے، جون اور جولائی میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کے بعد برطانیہ اور فرانس میں شدید گرمی کے انتباہات جاری کر دیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور فرانس کے بعض علاقوں میں رواں ہفتے درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرکے وسطِ 30 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ہے۔ برطانیہ میں یہ رواں سال گرمی کی پانچویں لہر ہوگی۔
مزید پڑھیں:یورپ میں شدید گرمی کی لہر سے 1,300 سے زائد اموات، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ
شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث برطانیہ میں پانی کے استعمال پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور بعض علاقوں میں باغات اور فصلوں کو پانی دینے پر بھی پابندیاں نافذ ہیں۔ ملک میں 2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد پانی کے استعمال کی پابندیوں کی زد میں ہیں۔
فرانس میں بھی خشک سالی کی صورتحال سنگین ہوگئی ہے اور ملک کے قریباً 70 فیصد حصے میں پانی کے استعمال پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان پابندیوں میں باغات کو پانی دینے، سوئمنگ پول بھرنے، گاڑیاں دھونے اور فصلوں کو آبپاشی فراہم کرنے پر مختلف نوعیت کی پابندیاں شامل ہیں۔
اسپین کے محکمہ موسمیات کے مطابق جولائی 2026 ملک میں 1961 کے بعد ریکارڈ کیے گئے گرم ترین جولائی کے مہینوں میں شامل رہا، جبکہ اسپین کے مرکزی علاقے میں جولائی اس لحاظ سے خشک ترین رہا کہ گزشتہ ماہ صرف 4.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو معمول کی بارش کا صرف 26 فیصد ہے۔
شدید گرمی اور خشک سالی کے باعث اسپین اور یونان کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی آگ بھی بھڑک اٹھی ہے۔ اسپین کے جنوبی علاقے اندلس میں جنگلات کی آگ کے باعث قریباً 500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر کا خدشہ، کئی شہروں میں پارہ 50 ڈگری تک جانے کا امکان
دوسری جانب جرمنی میں شدید گرمی اور کم بارش کے باعث دریائے رائن میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوگئی ہے، جس سے تجارتی جہاز رانی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ دنیا کا تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے اور سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور ہنگری میں بھی آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔














