سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے مسلح دہشتگرد کے داخلے کی کوشش ناکام بنا دی۔
رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مال روڈ راولپنڈی میں فائرنگ کرنے والے ملزم کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ کراس فائرنگ کے دوران ایک فوجی جوان زخمی ہوگیا، جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: جی ایچ کیو حملہ کیس کے فیصلے پر تحریک انصاف کا ردعمل، سزاؤں کو سیاسی انتقام قرار دے دیا
ہلاک ہونے والے ملزم کی شناخت ضلع خیبر کے رہائشی محمد حسین کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم پاکستان تحریک انصاف کا سرگرم رکن تھا۔ وہ پی ٹی آئی کی متعدد ریلیوں، جلسوں اور احتجاجوں میں فعال طور پر حصہ لیتا رہا۔ ملزم کے پی ٹی آئی لیڈرشپ و ممبران اسمبلی کے ساتھ بھی متعدد رابطے سامنے آئے ہیں۔
ملزم محمد حسین کے قبضے سے پارٹی پرچم، اسلحہ، گولیاں اور اہم دستاویزات برآمد کی گئی ہیں۔
تشدد کی سیاست کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ
دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے راولپنڈی مال روڈ پر پی ٹی آئی کارکن کی جانب سے سیکیورٹی اہلکار پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کی سیاست اور اسلحے سے لیس ہوکر احتجاج کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکا ہے۔
خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکن کی جانب سے سیکیورٹی اہلکار پر فائرنگ کا کوئی جواز نہیں تھا، مسلح ہوکر دن دیہاڑے سیکیورٹی اہلکار پر فائرنگ قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام احتجاج ریکارڈ پر ہیں کہ وہ ہمیشہ اسلحے سے لیس ہوکر آئے، پی ٹی آئی نے اپنے احتجاجوں میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو شہید کیا۔
مزید پڑھیں: تشدد کی سیاست کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی پرامن احتجاج پر یقین نہیں رکھتی، ان کا کوئی ایک احتجاج بھی پرامن نہیں ہوا، ان کے مقاصد اور عزائم پوری قوم دیکھ چکی ہے۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ آج کے واقعے سے بہت سی چیزیں دنیا کے سامنے آئی ہیں، پی ٹی آئی کارکن سے پارٹی کا جھنڈا اور دیگر دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں۔













