سیشن عدالت نے سوشل میڈیا انفلوئنسر پر مبینہ جنسی تشدد کے مقدمے میں ٹک ٹاکر رجب بٹ اور 4 دیگر ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے 18 اگست کو طلب کرلیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفریاب نے سوشل میڈیا انفلوئنسر کی جانب سے دائر نجی شکایت پر سماعت کی اور پانچوں ملزمان کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ پھر خبروں کی زینت، مقدمہ بھی درج اور دولت کا انکشاف بھی
متاثرہ خاتون نے 2025 میں دائر درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ ملزمان نے اسے مبینہ جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں بلیک میل کیا۔
خاتون کا کہنا تھا کہ اس کے پاس الزامات کے شواہد موجود ہیں، جن میں واٹس ایپ پیغامات، میڈیکل رپورٹ اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا گیا بیان شامل ہے۔
ملزمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سیشن عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کررکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ کی عبوری ضمانت منظور، عدالت نے پولیس کو یوٹیوبر کی گرفتاری سے روک دیا
گزشتہ ماہ نواب ٹاؤن پولیس نے ایک کیفے میں خواتین پر مبینہ حملے اور فائرنگ کے الزام میں رجب بٹ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ یہ مقدمہ بھی اسی خاتون کی شکایت پر درج کیا گیا تھا جس نے 2025 میں رجب بٹ پر جنسی تشدد کے الزامات عائد کیے تھے۔
خاتون نے جولائی میں درج درخواست میں الزام لگایا تھا کہ رجب بٹ نے کیفے میں اس پر اور دیگر افراد پر حملہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: معروف ٹک ٹاکرز رجب بٹ اور ندیم نانی والا کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا
رجب بٹ کو دیگر مقدمات کا بھی سامنا ہے، جن میں مذہبی جذبات مجروح کرنے، آن لائن جوا کھیلنے کی تشہیر اور جسمانی تشدد کے الزامات شامل ہیں۔













