کلاڈ کی ہر اے آئی تحریر میں چھپا نشان، صارفین کو اعتراض کیوں؟

منگل 11 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اپنے نئے کلاڈ ماڈلز سے تیار ہونے والی تحریروں میں خفیہ واٹرمارکس شامل کرنا شروع کر دیے ہیں تاہم اس اقدام پر صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی کمپنی ’اینتھروپک‘ کلاڈ اے آئی کے لیے اپنی چپ تیار کرے گی

امریکا میں قائم ٹیکنالوجی کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قدم یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ میں شفافیت سے متعلق قواعد کے تحت اس کے عزم کا حصہ ہے۔ نئے ضوابط کے تحت 2 اگست 2026 اور اس کے بعد متعارف کرائے جانے والے نئے ماڈلز سے تیار ہونے والے مواد میں مشین کے ذریعے پڑھے جانے کے قابل یہ نشان موجود ہوگا۔

واٹرمارک کیسے کام کرے گا؟

واٹرمارک کیا ہوتا ہے اور صارفین کو اعتراض کیوں ہے؟

واٹرمارک سے مراد کسی مواد میں شامل کیا جانے والا ایسا شناختی نشان ہے جس سے بعد میں اس کے ماخذ یا تخلیق کے طریقے کا پتا لگایا جا سکے۔ کلاڈ کے معاملے میں یہ کوئی ایسا لوگو یا عبارت نہیں جو صارف کو تحریر میں دکھائی دے بلکہ متن کے اندر ایک خفیہ اور مشین کے ذریعے قابلِ شناخت نشان شامل کیا جاتا ہے۔

اس کا مقصد یہ معلوم کرنے میں مدد دینا ہے کہ کوئی متن اے آئی ماڈل سے تیار ہوا ہے یا نہیں۔

اینتھروپک کے مطابق یہ نشان متن کو کاپی اور پیسٹ کرنے کے بعد بھی برقرار رہ سکتا ہے اور بعض ترامیم کے باوجود موجود رہ سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: چیٹ بوٹ کلاڈ کا نیا ’کارنامہ‘: سینکڑوں صارفین کی نجی گفتگو سرچ انجنز پر لیک ہوگئیں

صارفین کا اعتراض بنیادی طور پر اس بات پر ہے کہ ان کی تیار کردہ تحریر میں کمپنی کی جانب سے ایک ایسا پوشیدہ نشان شامل کیا جا رہا ہے جس پر ان کا براہ راست اختیار نہیں۔ اس سے بعض صارفین کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں تعلیمی ادارے، ملازمت دینے والے ادارے، ناشرین یا دیگر پلیٹ فارم اس نشان کی بنیاد پر کسی تحریر کو اے آئی سے تیار شدہ قرار دے سکتے ہیں حالانکہ کلاڈ خود بھی تسلیم کرتا ہے کہ واٹرمارک حتمی ثبوت نہیں ہوگا۔ متن میں ترمیم، ترجمہ، مختصر کیا جانا یا دوسرے مواد کے ساتھ ملایا جانا اس نشان کو متاثر کر سکتا ہے جبکہ واٹرمارک نہ ملنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ متن لازماً انسان نے لکھا ہے۔ اسی لیے ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر نشان فیصلہ کن ثبوت نہیں تو اس کا استعمال غلط فہمی یا غیر ضروری نگرانی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اینتھروپک کے مطابق یہ نشان دنیا بھر میں کلاؤڈ کی تمام مصنوعات پر لاگو ہوگا جن میں کلاڈ کوڈ، کلاڈ کوورک، کلاڈ ٹیگ اور اے پی آئی شامل ہیں۔ یہ سہولت مائیکروسافٹ فاؤنڈری، گوگل کلاڈ اور اے ڈبلیو ایس جیسے کلاڈ شراکت داروں کے ذریعے فراہم کی جانے والی کلاؤڈ سروسز میں بھی شامل ہوگی۔

کمپنی کے مطابق یہ نظام ان تمام خطوں میں لاگو ہوگا جہاں کلاڈ کی خدمات دستیاب ہیں۔

کلاڈ مواد کو نشان زد کرنے کے لیے 2 طریقے استعمال کرے گا۔ پہلا طریقہ تحریری واٹرمارک کا ہے جس کے تحت متن کے اندر ہی ایسا غیر محسوس نشان شامل کیا جائے گا جسے عام صارف دیکھ نہیں سکے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی اے آئی ٹول ’کلاڈ کوڈ‘ صارفین کا خفیہ ڈیٹا چرا رہا ہے، چین نے سنگین الزام عائد کردیا

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اگر یہ متن کاپی کرکے کسی دوسری جگہ پیسٹ کیا جائے تو واٹرمارک متن کے ساتھ منتقل ہوجائے گا اور بعض صورتوں میں معمولی ترمیم کے بعد بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ چونکہ یہ واٹرمارک ماڈل کی سطح پر شامل کیا جائے گا اس لیے متن کسی بھی کلاؤڈ پراڈکٹ یا پلیٹ فارم سے تیار کیا گیا ہو اس میں یہ نشان موجود رہے گا۔

دوسرے طریقے کے تحت معاون فائل فارمیٹس میں فائل کے ساتھ تصدیق شدہ ماخذ سے متعلق میٹا ڈیٹا منسلک کیا جائے گا جس سے فائل کے ماخذ کی شناخت میں مدد مل سکے گی۔

واٹرمارک کی شناخت کیسے ہوگی؟

اینتھروپک کے مطابق وہ ایسی رہنمائی جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی مدد سے صارفین اور دیگر فریق ان واٹرمارکس کی شناخت کر سکیں گے۔ تاہم جو ادارے اپنی مصنوعات یا خدمات میں کلاڈ استعمال کرتے ہیں انہیں یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ کے تحت اپنی تعمیل کا جائزہ خود لینا ہوگا۔

واٹرمارک کی بھی کچھ حدود ہیں

کمپنی نے خود واضح کیا ہے کہ یہ واٹرمارک اس بات کا حتمی ثبوت فراہم نہیں کرتا کہ کوئی متن لازماً کلاڈ ہی نے تیار کیا ہے کیونکہ بہت سے صارفین اے آئی ماڈل کو مکمل تحریر تیار کرنے کے بجائے پہلے سے موجود متن کی تدوین، پروف ریڈنگ، ترجمے یا خلاصہ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: انتھراپک کا اپنے جدید ماڈل کلاڈ سونیٹ 4.5 جاری، دیگر اے آئی ماڈلز کو چیلنج

اینتھروپک کے مطابق کلاڈ کے ذریعے کارروائی کے بعد مواد میں تبدیلی کی جا سکتی ہے جبکہ نشان زدہ متن میں ترمیم، اس کے کسی حصے کو الگ کرنا یا اسے دوسرے مواد کے ساتھ جوڑنا بھی ممکن ہے۔

اسی طرح اگر کسی متن میں واٹرمارک موجود نہ ہو تو اس کا مطلب بھی یہ نہیں ہوگا کہ وہ مکمل طور پر انسان نے لکھا ہے۔ کمپنی کے مطابق اگر صارف نے ایسے ماڈل سے متن تیار کیا ہو جس میں واٹرمارکنگ کی سہولت دستیاب ہونے سے پہلے کا ورژن استعمال کیا گیا ہو یا متن میں بڑے پیمانے پر ترمیم یا ترجمہ کیا گیا ہو یا متن بہت مختصر ہو تو قابلِ اعتماد نشان موجود نہ بھی ہو سکتا ہے۔

واٹرمارک کے کاپی اور پیسٹ کے ذریعے منتقل ہونے کے دعوے اور اس کی بیان کردہ حدود کے باعث صارفین اب اس کی افادیت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔

ایک صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایک انتہائی خراب فیچر ہے اور اگر کوئی شخص صرف ایک چھوٹے سے متن میں ایک پیراگراف شامل کرنا چاہے تو پورا متن دوبارہ لکھ دیا جاتا ہے۔ صارف نے اسے غیر ضروری نگرانی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یورپی یونین کو پوری دنیا کے لیے اس قسم کے فیصلے کرنے کا اختیار کیوں ہونا چاہیے۔

ایک اور صارف نے کہا کہ اگر وہ کسی منصوبے کے لیے ادائیگی کر رہا ہے تو وہ نہیں چاہتا کہ اس کے مواد میں خفیہ واٹرمارکس شامل کیے جائیں۔ اس صارف کے مطابق اگر کمپنی نے واقعی اسی سمت میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے تو صارفین کو ایسے اوپن سورس متبادل پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے جو اس قسم کا کنٹرول عائد نہ کرتے ہوں۔

ایک تیسرے صارف نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شخص کلاڈ سے تیار کردہ مواد کو براہ راست کاپی اور پیسٹ نہیں کرتا تو پھر یہ واٹرمارک اس پر کس طرح اثر انداز ہوگا۔

مزید پڑھیں: کیا اے آئی واقعی قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی، میٹا اور دیگر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

یوں اینتھروپک کا نیا نظام اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شفاف شناخت کی جانب ایک اہم قدم ضرور قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی صارفین کی جانب سے رازداری، مواد پر اختیار اور واٹرمارک کی حقیقی افادیت سے متعلق سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp