چین کے ایک سرکاری سائبر سکیورٹی ادارے نے امریکی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنی انتھروپک کے کوڈنگ ٹول “کلاڈ کوڈ” میں مبینہ سکیورٹی بیک ڈور کی موجودگی کا دعویٰ کرتے ہوئے صارفین کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
چین کے نیشنل وَلنریبلٹی ڈیٹا بیس (NVDB) کے مطابق کلاڈ کوڈ کے بعض ورژنز میں ایسا کوڈ موجود ہے جو صارفین کی رضامندی کے بغیر ان کی حساس معلومات، بشمول جغرافیائی محلِ وقوع اور شناخت سے متعلق ڈیٹا، انتھروپک کے سرورز تک منتقل کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف
این وی ڈی بی، جو چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ایک سائبر سکیورٹی پلیٹ فارم ہے نے اس معاملے کو سنگین سکیورٹی خطرہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں اور صارفین کو فوری طور پر اپنے سسٹمز کا جائزہ لینے اور متاثرہ سافٹ ویئر کو اَن انسٹال یا محفوظ ورژن میں اپ گریڈ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
کلاڈ کوڈ ایک اے آئی کوڈنگ ٹول ہے جو صارفین کی ہدایات کے مطابق کمپیوٹر کوڈ تیار کرنے، سافٹ ویئر میں موجود خرابیوں کی نشاندہی اور کوڈ کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی نے امریکی حکومت کو 5فیصد شراکت کی تجویز کیوں دی؟
دوسری جانب سان فرانسسکو میں قائم اے آئی کمپنی انتھروپک نے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ تاہم کمپنی کے انجینئر تھارق شیہپار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مذکورہ فیچر مارچ میں اکاؤنٹس کے غلط استعمال اور اے آئی ماڈلز کی غیر مجاز نقل (ڈسٹلیشن) کو روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی اب مزید مؤثر حفاظتی اقدامات نافذ کر چکی ہے اور متنازع فیچر کو نئے ورژن میں مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے باعث سوچنے کی صلاحیت متاثر، سافٹ ویئر انجینیئرز بھی خود کو بے مقصد تصور کرنے لگے
ادھر چینی ٹیکنالوجی کمپنی Alibaba نے بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے ملازمین کے لیے 10 جولائی سے کلاڈ کوڈ کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ڈیٹا سکیورٹی، صارفین کی پرائیویسی اور اے آئی ٹیکنالوجی کے عالمی ضوابط پر بحث میں تیزی آ رہی ہے۔














