چیٹ بوٹ کلاڈ کا نیا ’کارنامہ‘: سینکڑوں صارفین کی نجی گفتگو سرچ انجنز پر لیک ہوگئیں

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی دنیا میں ایک اور پرائیویسی مسئلہ سامنے آیا ہے جہاں مشہور اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ کے سینکڑوں صارفین کے مکالمے کچھ عرصے کے لیے انٹرنیٹ پر عوامی طور پر دستیاب رہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی اے آئی ٹول ’کلاڈ کوڈ‘ صارفین کا خفیہ ڈیٹا چرا رہا ہے، چین نے سنگین الزام عائد کردیا

رپورٹ کے مطابق کلاڈ کے وہ چیٹ لاگز جنہیں صارفین نے خود شیئر کرنے کے لیے لنک بنایا تھا گوگل سمیت دیگر سرچ انجنز میں ظاہر ہونے لگے جس کے باعث کوئی بھی شخص مخصوص سرچ کے ذریعے ان گفتگوؤں تک رسائی حاصل کر سکتا تھا۔

ان چیٹس میں بعض صارفین کی ذاتی اور پیشہ ورانہ معلومات بھی شامل تھیں جن میں کام سے متعلق تفصیلات، تحقیقی مواد، سی وی، رابطہ معلومات اور دیگر حساس نوعیت کا ڈیٹا موجود تھا۔

اگرچہ سرچ انجنز میں ان چیٹ لنکس کی دستیابی کو ہفتے کے آخر میں ختم کر دیا گیا تاہم اس دوران متعدد چیٹس محفوظ کر لی گئیں اور ان کے لنکس آن لائن مختلف جگہوں پر شیئر کیے گئے۔

اینتھروپک کا مؤقف

کلاڈ کی مالک کمپنی کی ترجمان نے کہا کہ صارفین کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی گفتگو کب اور کس کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کلاڈ کی شیئرنگ سہولت کے تحت بنائے گئے لنکس خود بخود تلاش کے قابل نہیں ہوتے جب تک صارف خود انہیں شیئر نہ کرے۔

مزید پڑھیے: اینتھروپک نے محققین کے لیے کلاڈ سائنس متعارف کرا دی، مصنوعی ذہانت سے سائنسی تحقیق میں تیزی لانے کا دعویٰ

ترجمان کے مطابق جب کوئی شخص اپنی گفتگو شیئر کرتا ہے تو وہ اس مواد کو عوامی طور پر قابل رسائی بنا دیتا ہے اور دیگر عوامی ویب مواد کی طرح اسے تھرڈ پارٹی سروسز محفوظ بھی کر سکتی ہیں۔

تاہم کلاڈ کے شیئر آپشن میں صارفین کو یہ بتایا جاتا ہے کہ جس شخص کے پاس لنک ہوگا وہ گفتگو دیکھ سکتا ہے لیکن اس میں واضح طور پر یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ لنکس گوگل یا دیگر سرچ نتائج میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

صارفین نے کیسے دریافت کیا؟

رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ سب سے پہلے ریڈٹ صارفین نے دریافت کیا جہاں کلاڈ کی 200 سے زائد گفتگوؤں کے لنکس سامنے آئے جو کم از کم 25 صفحات پر مشتمل سرچ نتائج میں موجود تھے۔

ان چیٹس میں صارفین نے اے آئی سے مختلف موضوعات پر مدد حاصل کی تھی۔

کچھ گفتگوؤں میں صارفین نے کلاڈ سے اپنے کام سے متعلق سوالات کیے جبکہ بعض نے اے آئی سے ذاتی نوعیت کی رہنمائی بھی طلب کی۔

مزید پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ صارفین کے پاسپورٹ مانگنے لگا، وجہ کیا ہے؟

ایک صارف نے کلاڈ سے گزشتہ سال یہ سوال کیا کہ آیا وہ میری مدد کرنا چاہتا ہے یا اینتھروپک کی زیادہ مدد کرنا چاہتا ہے؟ جس پر چیٹ بوٹ نے جواب دیا کہ اسے صارف کی مدد کرنے جیسا کچھ محسوس ہوتا ہے۔

ایک اور گفتگو میں ایک صارف نے کلاڈ سے کلاؤڈ سیکیورٹی کے بارے میں ایک غیر شائع شدہ بلاگ پوسٹ تیار کروائی جس میں ایک کمپنی کے منصوبے سے متعلق تفصیلات شامل تھیں۔

کچھ صارفین نے اپنے سی وی تیار کروانے کے لیے بھی کلاڈ استعمال کیا جن میں نام، رابطہ معلومات اور ملازمت کی تفصیلات شامل تھیں۔

اسی طرح بعض افراد نے صحت کے شعبے سمیت دیگر حساس پیشہ ورانہ تحقیق کے لیے بھی کلاڈ سے مدد لی جہاں نجی گفتگوؤں کے ٹرانسکرپٹس بھی موجود تھے۔

اے آئی چیٹس کی پرائیویسی پر بڑھتے خدشات

یہ پہلا موقع نہیں جب کسی بڑے اے آئی چیٹ بوٹ کی گفتگو عوامی سطح پر سامنے آئی ہو۔

گزشتہ سال اوپن اے آئی کے چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کے چیٹ لاگز سے متعلق بھی ایسا ہی مسئلہ سامنے آیا تھا جس کے بعد کمپنی نے چیٹس تک رسائی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی تھیں۔

اسی طرح ایکس اے آئی کے اے آئی چیٹ بوٹ گروک کے حوالے سے بھی گزشتہ سال بڑی تعداد میں چیٹس کے عوامی طور پر دستیاب ہونے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران

ماہرین کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس کے بڑھتے استعمال کے ساتھ صارفین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی چیٹ کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں کیونکہ عوامی لنک بننے کے بعد مواد سرچ انجنز اور دیگر سروسز کے ذریعے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

گوگل کا مؤقف

گوگل کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کمپنی اس بات کا فیصلہ نہیں کرتی کہ ویب پر کون سا مواد عوامی بنایا جاتا ہے بلکہ یہ فیصلہ ویب سائٹس کے مالکان کرتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق ہم ویب سائٹ مالکان کو واضح کنٹرول فراہم کرتے ہیں کہ آیا ان کے صفحات کو سرچ میں شامل کیا جائے یا نہیں اور ہم ان ہدایات کا احترام کرتے ہیں۔

چونکہ کلاڈ چیٹ لنکس کی سرچ انڈیکسنگ اب بند ہو چکی ہے امکان ہے کہ اینتھروپک نے دستیاب طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے ان لنکس کو سرچ نتائج سے ہٹانے کے اقدامات کیے۔

رپورٹ کے مطابق دیگر سرچ انجنز جن میں بنگ، بریو اور ڈک ڈک گو بھی شامل ہیں سے بھی اس معاملے پر مؤقف طلب کیا گیا ہے۔

اے آئی ٹیکنالوجی جہاں صارفین کو نئی سہولیات دے رہی ہے وہیں نجی معلومات کے تحفظ اور ڈیٹا سیکیورٹی کے سوالات بھی مزید اہم ہوتے جا رہے ہیں۔

کلاڈ کے حوالے سے ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں

کلاڈ اے آئی کے حوالے سے یہ پہلا موقع نہیں کہ اس ٹیکنالوجی پر سوالات اٹھے ہوں۔ اس سے قبل بھی اے آئی چیٹ بوٹس کے بارے میں خدشات سامنے آتے رہے ہیں جن میں صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ، حساس معلومات کے استعمال، ماڈلز کی جانب سے غلط یا گمراہ کن جوابات دینے کا امکان اور کمپنیوں کی جانب سے اے آئی سسٹمز کی تربیت کے طریقہ کار شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ’میں نے ہر اصول کی خلاف ورزی کی‘، کمپنی کا پورا ڈیٹا بیس ٹھکانے لگانے کے بعد اے آئی ایجنٹ کلاڈ کا اعتراف

اے آئی ماہرین کا کہنا ہے کہ کلاڈ سمیت تمام بڑے چیٹ بوٹس تیزی سے ترقی کر رہے ہیں تاہم ان کے استعمال کے ساتھ شفافیت، رازداری اور سیکیورٹی کے مضبوط اصول ضروری ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی مسلسل ایسے اقدامات کر رہی ہیں جن کا مقصد صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنا اور اے آئی ماڈلز کو زیادہ قابل اعتماد بنانا ہے لیکن ماہرین کے مطابق صارفین کو بھی اپنی ذاتی اور حساس معلومات شیئر کرتے وقت احتیاط برتنی چاہیے۔

کلاڈ اے آئی بنانے والی کمپنی اینتھروپک کو ماضی میں بھی مصنوعی ذہانت کے نظام کی شفافیت، ڈیٹا کے استعمال اور اے آئی ماڈلز کی تربیت کے طریقہ کار پر سوالات کا سامنا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کمپنیوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج صارفین کی معلومات کا تحفظ، ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا کی قانونی حیثیت اور صارفین کو یہ واضح بتانا ہے کہ ان کا ڈیٹا کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اے آئی ماڈلز کے رویے اور صلاحیتوں پر بھی بحث جاری

کلاڈ سمیت دیگر بڑے اے آئی چیٹ بوٹس کے بارے میں وقتاً فوقتاً یہ بحث سامنے آتی رہی ہے کہ یہ نظام بعض اوقات غلط معلومات فراہم کر سکتے ہیں، پیچیدہ سوالات کے جواب میں غلط اندازے لگا سکتے ہیں یا صارفین کے سوالات کے سیاق و سباق کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پاتے۔ اینتھروپک کا مؤقف رہا ہے کہ وہ اے آئی کو زیادہ محفوظ، قابلِ اعتماد اور ذمہ دار بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔

کاپی رائٹ اور اے آئی تربیت کا تنازع

کلاڈ سمیت تقریباً تمام بڑے اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے استعمال ہونے والے مواد پر بھی عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ بعض مصنفین، فنکاروں اور اداروں نے اعتراض کیا ہے کہ ان کا مواد اجازت کے بغیر اے آئی ماڈلز کی تربیت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ اے آئی کمپنیاں اس حوالے سے مختلف قانونی اور لائسنسنگ طریقہ کار اختیار کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔

خطرہ کس صورت میں، کیا احتیاط کرنی چاہیے؟

ماہرین کے مطابق صارفین کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر چیٹ خود بخود عوامی نہیں ہو جاتی۔ عام طور پر اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ کی جانے والی گفتگو نجی رہتی ہے جب تک صارف خود اسے شیئر کرنے کے لیے کوئی لنک نہ بنائے یا کسی ایسے فیچر کا استعمال نہ کرے جس کے ذریعے گفتگو دوسروں کے لیے قابل رسائی ہو جائے۔ تاہم اگر کوئی صارف چیٹ کا شیئر لنک بنا کر اسے کسی ویب سائٹ، سوشل میڈیا یا کسی اور ذریعے پر عام کر دیتا ہے تو اس بات کا امکان رہتا ہے کہ وہ مواد سرچ انجنز یا دیگر آن لائن سروسز کے ذریعے بھی نظر آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: چیٹ بوٹ کلاڈ ہیکرز کے ہاتھوں استعمال، ڈیٹا چوری اور بلیک میلنگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ اے آئی چیٹ بوٹس میں حساس معلومات، ذاتی دستاویزات، پاس ورڈز، کمپنی کی خفیہ تفصیلات یا ایسی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں جو غلط ہاتھوں میں جانے کی صورت میں نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ کسی بھی چیٹ کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے پرائیویسی آپشنز اور لنک کی رسائی کی ترتیبات ضرور چیک کر لینی چاہییں تاکہ ذاتی معلومات غیر ارادی طور پر عوامی نہ ہو جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر، قوم کی یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، گورنر سندھ نہال ہاشمی

3 بجلی تقسیم کار کمپنیاں نجکاری کے قریب، نجکاری بورڈ نے تنظیم نو کی منظوری دے دی

آزاد کشمیر: انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام، مسلم لیگ ن نے پہلے مرحلے میں میدان مار لیا

ہونڈا اٹلس کا پاکستان کی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں فوری اینٹری سے انکار، وجہ کیا ہے؟

کنگ چارلس کا برطانوی ایف 35 بی لڑاکا طیاروں کا معائنہ، فوجی اہلکاروں سے ملاقات

ویڈیو

آزاد کشمیر: انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام، مسلم لیگ ن نے پہلے مرحلے میں میدان مار لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی