افغانستان میں لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی کو 4 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پابندی ختم نہ ہونے پر والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں، جبکہ کئی خاندان اپنی بیٹیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے خفیہ اسکولوں اور آن لائن کورسز کا سہارا لے رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کی افغانستان کے مختلف علاقوں میں متعدد والدین سے گفتگو کے مطابق لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد تعلیم جاری رکھنے سے روکنے کے فیصلے نے کئی خاندانوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کردیا ہے۔ بعض مذہبی رجحان رکھنے والے والدین بھی اس پابندی کے جواز پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان نے لڑکیوں سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے وہ خواتین کو انسان نہیں سمجھتے، ملالہ یوسفزئی
افغانستان میں طالبان حکومت نے مارچ 2022 میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ اسی سال کے آخر میں خواتین کے لیے جامعات بھی بند کردی گئی تھیں۔ طالبان حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی عارضی ہے، تاہم اقوام متحدہ کے مطابق اب تک کم از کم 10 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم پر عائد پابندیوں سے براہ راست متاثر ہو چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق گزشتہ سال افغانستان کے 10 میں سے 9 مردوں نے کہا تھا کہ لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے، جبکہ تقریباً دو تہائی مردوں نے بیٹی کی تعلیم کی حمایت کو نیکی کا عمل قرار دیا۔
ایک افغان انجینئر احمد نے بتایا کہ ان کی اہلیہ ثانوی اسکول میں ریاضی کی استاد تھیں لیکن اب انہیں پڑھانے کی اجازت نہیں، جبکہ ان کی چار بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن ان کی بیٹیاں ناخواندہ رہ جائیں گی۔
احمد کے مطابق ان کی بڑی بیٹی پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے قریب ہے اور خفیہ تعلیمی کورسز کی فیس ان کی ماہانہ آمدن کے نصف سے زیادہ ہے۔ وہ اپنے خاندان کو افغانستان سے باہر لے جانے کے امکانات بھی تلاش کر رہے ہیں، تاہم مختلف ممالک کے ویزوں اور دیگر مشکلات کے باعث یہ راستہ بھی آسان نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 75 فیصد افغان طالبان سے غیر مطمئن، کرپشن اور اقربا پروری پر اپنے ہی ارکان کی تنقید
کابل صوبے کے ایک قصبے میں رہنے والے ڈاکٹر محمد نے بتایا کہ وہ ہمیشہ اپنی دونوں بیٹیوں کو بہترین جامعات میں تعلیم دلوانے کا خواب دیکھتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی ترقی کے لیے خواتین کی ضرورت ہے اور انہیں صرف گھروں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں بیٹیاں 12 اور 14 سال کی ہیں اور پرائمری تعلیم کے آخری سال میں ہیں۔ وہ گزشتہ چار برس سے پابندی کا کوئی حل تلاش کر رہے ہیں۔ اب انہوں نے ایک ایسے نجی اسکول کا پتا لگایا ہے جہاں خفیہ طور پر عمومی مضامین مذہبی تعلیم کے ساتھ پڑھائے جاتے ہیں، تاہم اس اسکول میں تعلیم کی فیس زیادہ ہے اور تکمیل پر کوئی سند بھی نہیں دی جاتی۔
محمد کو خدشہ ہے کہ حکام نے اگر اسکول کا معائنہ کیا تو ان کی بیٹیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ہر ممکن راستہ تلاش کریں گے۔
قندھار سے تعلق رکھنے والے ایک اور والد نے بتایا کہ ان کی 12 سالہ بیٹی فلکیات میں بہت دلچسپی رکھتی ہے اور نظام شمسی کے بارے میں سوالات کرتی رہتی ہے۔ جب بیٹی نے پوچھا کہ اگر وہ چھٹی جماعت سے آگے نہیں پڑھ سکتی تو سیکھے گی کیسے، تو والد کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کے خلاف منظم امتیازی نظام، اقوامِ متحدہ میں طالبان حکومت پر شدید تنقید
انہوں نے بتایا کہ وہ خاندان کو کابل منتقل کرچکے ہیں اور بیٹی کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے خفیہ اسکولوں اور آن لائن ڈیزائن اور کمپیوٹر کورسز سمیت مختلف راستے تلاش کر رہے ہیں۔
ایک اور والد نے بتایا کہ ان کی 13 سالہ بیٹی ثانوی اسکول نہ جا سکنے پر شدید مایوسی کا شکار ہے۔ ان کے مطابق بیٹی کو پارکوں میں جانے اور تفریح کی بھی اجازت نہیں، جس کے باعث وہ زیادہ تر گھر میں رہتی ہے۔ والد نے بتایا کہ بعض اوقات بیٹی کی مایوسی دیکھ کر وہ خود بھی دوسرے کمرے میں جاکر روتے ہیں۔
ایک اور افغان والد نصیر نے بتایا کہ ان کی بیٹی اور اس کی ہم جماعتوں کے لیے پرائمری اسکول کا آخری دن انتہائی تکلیف دہ تھا۔ انہوں نے اور ان کی اہلیہ، جو خود بھی استاد ہیں، گھر میں ایک چھوٹی لائبریری قائم کی ہے اور پرانی درسی کتابوں کی مدد سے اپنی بیٹیوں کو گھر پر تعلیم دے رہے ہیں۔
نصیر کے مطابق ان کی بیٹیاں گھر میں دوسروں کے بچوں کو بھی پڑھاتی ہیں اور حال ہی میں خفیہ طور پر باہر جا کر تعلیمی کلاسز میں شرکت شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال کے باعث خاندان راتوں کو سو نہیں پاتا۔
نصیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام تعلیم یافتہ افراد نہیں چاہتا اور سوال اٹھایا کہ افغانستان میں معمول کی زندگی کب واپس آئے گی۔














