مصنوعی ذہانت کے مشورے پر عمل، چینی کسان کی 25 ایکڑ فصل تباہ

منگل 11 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین میں ایک کسان مصنوعی ذہانت کی ایک ایپلی کیشن سے جڑی بوٹیوں اور کیڑوں کی تلفی سے متعلق مشورہ لے کر اس پر عمل کرنے کے نتیجے میں اپنی 25 ایکڑ فصل سے محروم ہوگیا۔

چینی میڈیا کے مطابق وو نامی کسان کھاد ڈالنے، فصل کی دیکھ بھال اور دیگر زرعی امور کے لیے مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشن سے مشورے لیتا تھا اور معلومات کی خود تصدیق یا ماہرین سے مشاورت نہیں کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے پہلی بار نئے وائرس ڈیزائن کر دیے، طبی تحقیق میں بڑی پیشرفت لیکن نئے خطرات بھی

واقعہ اس وقت پیش آیا جب کسان نے تل کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی روک تھام کے لیے مکمل طریقہ کار سے متعلق مصنوعی ذہانت سے مشورہ طلب کیا۔ ایپلی کیشن نے اسے ایک ایسا کیمیائی علاج تجویز کیا جس کے استعمال سے اس کے کھیت میں موجود فصل اور جڑی بوٹیاں دونوں تباہ ہوگئیں۔

زرعی ماہرین کے مطابق فصل کو نقصان پہنچانے میں فلُوفیناسیٹ نامی جڑی بوٹی مار دوا کا کردار تھا، جو تل کی فصل کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے اور اسے انتہائی احتیاط اور درست مقدار میں استعمال کرنا ضروری ہے۔

کسان نے تائیوان کی ویب سائٹ سی ٹی وانٹ کو بتایا کہ دوا کے چھڑکاؤ کے اگلے ہی روز پودے خراب ہوگئے۔ اس کے مطابق جڑی بوٹیوں کے ساتھ فصل بھی مر گئی اور فصل کے پودے زیادہ تیزی سے متاثر ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق جس مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشن سے کسان نے مشورہ لیا، اس میں گفتگو کے آغاز پر واضح انتباہ بھی موجود تھا کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ معلومات غلط ہوسکتی ہیں اور صارف کو ان کی تصدیق کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے انسانی نسل کی بقا کو خطرہ، گوگل ڈیپ مائنڈ کا انتباہ

ماہرین نے اس واقعے کو مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی معلومات پر آنکھیں بند کرکے انحصار کے خطرات کی مثال قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز بعض اوقات سائنسی یا تکنیکی نوعیت کی غلط معلومات فراہم کرسکتی ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے قبل معلومات کی ماہرین اور مستند ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیگر معروف مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز سے متعلق بھی ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جہاں صارفین نے فراہم کردہ معلومات کی تصدیق نہ کرنے کے باعث مشکلات کا سامنا کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp