پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اختلافات، پی پی اور پی ٹی آئی کے رابطے، کیا سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی کا امکان ہے؟

بدھ 12 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں اور دونوں جماعتوں کے درمیان حکومتی اتحاد کا مستقبل اب چند دنوں میں واضح ہونے کا امکان ہے۔ آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج اور مبینہ دھاندلی سے متعلق پیپلز پارٹی کے تحفظات نے دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی فاصلے مزید بڑھا دیے ہیں، جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی نے تاحکم ثانی پارلیمان میں حکومت کے ساتھ تعاون محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی حکومت کے بعض اقدامات اور قانون سازی میں حکومتی بلوں کی حمایت نہیں کرےگی، قائمہ کمیٹیوں میں حکومتی بلوں کی منظوری کے بجائے ان میں ضروری ترامیم پیش کی جائیں گی جبکہ منظوری کے مرحلے پر بھی بعض حکومتی بلوں کی مخالفت کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ ن کو الٹی گنتی کی دھمکی دینے والی پیپلز پارٹی اب کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرے گی؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے فی الحال مسلم لیگ ن کے وزرا اور رہنماؤں سے سیاسی رابطے محدود رکھنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں، تاہم پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا اتحاد 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں قائم ہونے والے سیاسی سیٹ اپ سے چلا آ رہا ہے۔ دونوں جماعتیں حکومت کے قیام کے بعد کئی اہم معاملات پر ایک ساتھ کھڑی رہیں، تاہم 4 سالہ سیاسی سفر کے دوران دونوں کے درمیان کبھی قربت اور کبھی شدید اختلافات دیکھنے میں آئے۔

آئینی ترامیم، انتخابی معاملات، حکومتی فیصلوں اور سیاسی حکمت عملی پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔

اب آزاد کشمیر کے انتخابات نے ان اختلافات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے آزاد کشمیر میں انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کیا اور مسلم لیگ ن پر انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ آزاد کشمیر میں ہونے والے واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے پر مسلم لیگ ن کی قیادت سے تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔

سی ای سی کے اجلاس میں حکمت عملی طے کی جائےگی، قمر زمان کائرہ

پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے واضح کیاکہ اس وقت ذرائع کی بنیاد پر چلنے والی خبروں پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا، پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس کافی عرصے سے نہیں ہوا اور معمول کے مطابق یہ اجلاس اب ہونا ہے، جس میں پارٹی آئندہ کی سیاسی حکمت عملی طے کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے سنجیدہ تحفظات ہیں جو مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے سامنے بھی رکھے جا چکے ہیں۔

قمر زمان کائرہ کے مطابق پیپلز پارٹی ماضی میں بھی سیاسی نظام سے اختلافات کے باوجود اسمبلیوں سے باہر نہیں گئی اور نظام کے اندر رہ کر مسائل کو درست کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کبھی ایک صفحے پر نہیں تھے، نہ اب مکمل طور پر ایک صفحے پر ہیں اور نہ مستقبل میں ہوں گے، تاہم سیاسی جماعتیں اپنے مشترکہ نکات تلاش کرکے ان پر مل کر کام کرتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیاکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے آئینی ترامیم کے معاملے پر بھی تمام ترامیم کی حمایت نہیں کی گئی بلکہ جن ترامیم پر اتفاق تھا صرف انہی کی حمایت کی گئی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے نظام اور آئینی معاملات پر اعتراضات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، لیکن پارٹی نظام کو ختم کرنے کے بجائے اس میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

ن لیگ نے آزاد کشمیر سے متعلق جو یقین دہانیاں کرائیں ان پر عمل نہیں ہوا، شہلا رضا

پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے بھی آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ ن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد مسلم لیگ ن کی جانب سے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، ان کے بعد معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔

انہوں نے انتخابی نتائج اور مسلم لیگ ن کی کامیابی کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے کہاکہ عوام سے یہ توقع کرنا کہ وہ اچانک بڑی تعداد میں مسلم لیگ ن کے حق میں ووٹ ڈال دیں گے، درست سیاسی اندازہ نہیں۔

شہلا رضا کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر آزاد کشمیر کے معاملے پر سیاسی دباؤ خاصا بڑھ چکا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے بعض بیانات سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ اگر مسلم لیگ ن کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ آئے تو پیپلز پارٹی اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی کر سکتی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی قیادت اختلافات کو حکومتی اتحاد کے خاتمے تک پہنچا ہوا معاملہ قرار نہیں دے رہی۔

اختلاف رائے کو دشمنی یا لڑائی نہیں سمجھنا چاہیے، رانا ثنااللہ

مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ نے اختلافات کو جینوئن سیاسی اختلافات قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف رائے کو دشمنی یا لڑائی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ دونوں جماعتیں پہلے بھی معاملات پر بیٹھ کر بات کرتی رہی ہیں اور آئندہ بھی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر حذیفہ رحمان نے بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اتحاد برقرار رہنے کی امید ظاہر کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے بہت سے رہنماؤں سے ذاتی اور سیاسی رابطے موجود ہیں اور اگر کسی مخصوص معاملے پر کسی پیغام رسانی یا بیان سے روکا گیا ہو تو وہ الگ بات ہے، تاہم عمومی طور پر یہ کہنا درست نہیں کہ دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے سے ذاتی روابط بھی ختم کردیں۔

انتخابی مہم کے دوران مخالف تقاقیر غیرمعمولی بات نہیں، حذیفہ رحمان

حذیفہ رحمان کے مطابق آزاد کشمیر انتخابات کے دوران بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر بنیادی طور پر انتخابی مہم کا حصہ تھیں اور ان کا مقصد پیپلز پارٹی کے ووٹرز کو متحرک کرنا تھا۔

ان کے بقول انتخابی مہم میں حکومت یا مسلم لیگ ن پر تنقید سیاسی طور پر غیر معمولی بات نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان جو تلخی پیدا ہوئی ہے، وہ مذاکرات کے ذریعے کم کی جا سکتی ہے اور ماضی کی طرح آئندہ بھی چھوٹے بڑے اختلافات پر بیٹھ کر بات ہو سکتی ہے۔

تاہم اسی دوران پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان مبینہ رابطوں نے سیاسی صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی ایک اعلیٰ شخصیت نے تحریک انصاف سے رابطہ کیا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ موجودہ حکومتی اتحاد کے لیے ایک اہم سیاسی پیشرفت ہو سکتی ہے، تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے اس دعوے کی تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

حذیفہ رحمان نے اس دعوے پر کہاکہ انہیں ایسے کسی رابطے کا علم نہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیاکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اور کسی جماعت کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کسی دوسری جماعت سے رابطہ نہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد قائم رہے اور دونوں جماعتیں مل کر آگے بڑھیں۔

حذیفہ رحمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پیپلز پارٹی کے الگ ہونے کی صورت میں بھی قومی اسمبلی میں حکومت کے پاس عددی گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے اور بعض آزاد ارکان بھی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود وزیراعظم کی کوشش ہوگی کہ پیپلز پارٹی کو ساتھ رکھا جائے کیونکہ سیاسی اتحاد کو مضبوط رکھنا حکومت کے مفاد میں ہے۔

اس صورتحال میں اصل فیصلہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کے اجلاس میں ہونے کا امکان ہے۔ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں یہ سوال زیر بحث آ سکتا ہے کہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ کے ساتھ کس حد تک چلنا ہے، حکومت سے تعاون کس حد تک جاری رکھنا ہے اور آیا مسلم لیگ ن کے ساتھ سیاسی اتحاد کو موجودہ شکل میں برقرار رکھا جائے یا اس میں تبدیلی لائی جائے۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اختلافات نئی بات نہیں، عامر ضیا

سینیئر تجزیہ کار عامر ضیا کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات نئے نہیں بلکہ دونوں جماعتوں کے درمیان ایک پرانا سیاسی تضاد موجود ہے۔

ان کے مطابق پیپلز پارٹی کو پنجاب کی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کے لیے مسلم لیگ ن پر تنقید بھی کرنا پڑتی ہے، لیکن دوسری جانب دونوں جماعتیں موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایک دوسرے کی ضرورت بھی ہیں۔

عامر ضیا کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اگر مسلم لیگ ن سے مکمل فاصلہ اختیار کرتی ہے تو اسے یہ سیاسی تاثر بھی ختم کرنا ہوگا کہ وہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ کا حصہ بن چکی ہے۔

ان کے خیال میں جب تک تحریک انصاف ایک مضبوط مخالف سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے، پیپلز پارٹی کے لیے مکمل طور پر حکومتی اتحاد سے نکل جانا آسان فیصلہ نہیں ہوگا۔

حکومتی اتحاد سے الگ ہونا پیپلزپارٹی کے لیے آسان فیصلہ نہیں ہوگا، عامر الیاس رانا

سینیئر تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے صدر مملکت کی جانب سے بعض عدالتی تقرریوں میں تاخیر کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس حوالے سے بھی سیاسی و آئینی سطح پر رابطے جاری ہیں۔

ان کے مطابق بعض تقرریوں کے معاملے پر پیدا ہونے والی صورتحال کو بھی آنے والے دنوں میں حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں مختلف سیاسی شخصیات کے درمیان ملاقاتیں متوقع ہیں، پیپلز پارٹی کے لیے مکمل علیحدگی بھی آسان فیصلہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ پارٹی قیادت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت سے نکلنے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کیا ہوگی، قومی اسمبلی میں حکومت کی عددی پوزیشن پر اس کا کتنا اثر پڑے گا اور اگر نئے انتخابات کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کا سیاسی فائدہ کس جماعت کو حاصل ہوگا۔

’دوسری جانب مسلم لیگ ن کے لیے بھی پیپلز پارٹی کو مکمل طور پر الگ کر دینا سیاسی طور پر خطرے سے خالی نہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب حکومت کو معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔‘

’نیاسی سیاسی سمجھوتا بھی ہو سکتا ہے‘

ذرائع کی جانب سے پارلیمان میں حکومتی قانون سازی کی مخالفت اور قائمہ کمیٹیوں میں حکومتی بلوں کی حمایت نہ کرنے کے دعوے اگر عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو یہ اس بات کا واضح اشارہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی نے حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی سطح پر منتقل کر دیا ہے۔ تاہم اگر آئندہ چند روز میں وزیراعظم یا مسلم لیگ ن کی قیادت پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو دونوں جماعتوں کے درمیان ایک نیا سیاسی سمجھوتا بھی سامنے آ سکتا ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس وقت بنیادی سوال یہی ہے کہ پیپلز پارٹی واقعی حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے یا وہ مسلم لیگ ن پر سیاسی دباؤ بڑھا کر اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے۔ موجودہ بیانات اور پس پردہ رابطوں سے یہ ضرور ظاہر ہو رہا ہے کہ تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے، لیکن حتمی فیصلہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کے آئندہ اجلاسوں میں ہی سامنے آئے گا۔

قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس سے قبل پیپلز پارٹی کی حکمت عملی خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی حکومتی بلوں سے فاصلہ اختیار کرتی ہے، قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن طرز کا کردار ادا کرتی ہے اور حکومت کے اہم معاملات پر حمایت سے گریز کرتی ہے تو اسے اتحاد کے اندر رہتے ہوئے عملی سیاسی فاصلے کی ابتدا سمجھا جائے گا۔

اس کے برعکس اگر دونوں جماعتوں کی قیادت میں دوبارہ اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوتے ہیں اور آزاد کشمیر کے معاملے سمیت دیگر تحفظات پر کوئی فارمولہ طے پا جاتا ہے تو موجودہ بحران وقتی ثابت ہو سکتا ہے۔

’پیپلز پارٹی فی الفور حکومت سے مکمل علیحدگی کی طرف نہیں جائےگی‘

فی الحال سب سے زیادہ قرین قیاس منظرنامہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ پیپلز پارٹی فوری طور پر حکومت گرانے یا مکمل علیحدگی کا اعلان کرنے کے بجائے پہلے اپنے سیاسی اور پارلیمانی وزن کو استعمال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن پر دباؤ بڑھائے گی۔

اس دوران تحریک انصاف کے ساتھ مبینہ رابطوں کی خبریں بھی پیپلز پارٹی کے لیے ایک اضافی سیاسی آپشن پیدا کرتی ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے لیے تحریک انصاف کے ساتھ کسی باقاعدہ سیاسی صف بندی کی طرف جانا بھی ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا، ہم پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، شاہ غلام قادر

یوں آنے والے چند دن حکومت اور پیپلز پارٹی دونوں کے لیے فیصلہ کن ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سی ای سی اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس، قومی اسمبلی کا آئندہ اجلاس، مسلم لیگ ن کی جانب سے رابطوں کی کوششیں اور دونوں جماعتوں کے درمیان پس پردہ مذاکرات اس بات کا تعین کریں گے کہ موجودہ تلخی صرف سیاسی دباؤ تک محدود رہتی ہے یا پاکستان کی موجودہ حکومتی صف بندی میں واقعی بڑی تبدیلی آتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp