وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش ہوگی اور تفتیش کے ہر مرحلے سے اہل خانہ کو آگاہ رکھا جائے گا۔ کیس حل ہونے کے بعد پولیس اور میڈیکو لیگل کی کوتاہیوں پر کارروائی کی جائے گی۔
آرٹس کونسل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ میر رضا کیس کی تفتیش کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، جوڈیشل کمیشن تفتیش کے لیے نہیں بلکہ پولیس اور میڈیکو لیگل نظام کی کوتاہیوں کی نشاندہی کے لیے بنایا جا رہا تھا۔
مزید پڑھیں:میر رضا علی کیس: خودکشی کے مؤقف سے قتل کی تحقیقات تک، 11 اگست تک کیا کچھ بدل گیا؟
انہوں نے کہا کہ کمیشن بنانے سے قبل وزیر داخلہ اور میئر کراچی کو میر رضا کے والدین کے پاس بھیجا گیا تھا، تاہم بعد میں اہلخانہ نے جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کی درخواست کی، جس کا احترام کیا گیا۔
نئے صوبوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئین میں نیا صوبہ بنانے کا طریقہ کار واضح ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔ سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف کئی قراردادیں منظور کرچکی ہے، اس لیے موجودہ یا مستقبل کی اسمبلی میں نئے صوبے کے قیام کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔
پیپلز پارٹی پر دوہرا مؤقف اختیار کرنے کے الزام پر مراد علی شاہ نے کہا کہ پنجاب میں نئے صوبے کی بات اس لیے کی جاتی ہے کہ پنجاب اسمبلی خود نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے قراردادیں منظور کرچکی ہے۔
ن لیگ کی جانب سے سندھ حکومت پر تنقید کے سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پنجاب والوں کو سندھ کی اتنی فکر ہے تو آئینی طریقہ کار اختیار کریں، سندھ آئیں اور انتخابات لڑیں۔ عوام نے حمایت کی تو سندھ کی خدمت کریں، ورنہ اپنی پارٹی سے کہیں کہ وفاقی حکومت کے ذریعے سندھ کی خدمت کرے۔
مزید پڑھیں:میر رضا کیس کے حقائق جلد عوام کے سامنے لائیں گے، آئی جی سندھ
مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہ بلائے جانے پر مراد علی شاہ نے کہا کہ 90 روز میں اجلاس بلانا آئینی تقاضا ہے۔ وفاقی حکومت سے پوچھا جائے کہ سندھ کے مطالبے کے باوجود اجلاس کیوں نہیں بلایا جارہا۔
پریا کماری کی بازیابی سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ نے اعتراف کیا کہ اب تک کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔ ان کے مطابق ایک، 2 مرتبہ اطلاعات ضرور ملیں، تاہم ان سے کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔













