چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستانی نوجوان ’کاکروچ‘ نہیں، بلکہ کل کے قائد، پاکستان کا مستقبل اور اقبال کے شاہین ہیں۔
انٹرنیشنل یوتھ ڈے کے موقع پر وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور 2047 کا پاکستان نوجوانوں کی قیادت میں دنیا کی قیادت کرنے والا پاکستان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو انتشار کے بجائے ترقی، خوشحالی، ہنر، روزگار اور قومی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
مسلم لیگ ن کے علاوہ نوجوانوں کے لیے کسی نے کام نہیں کیا
رانا مشہود نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی نوجوانوں کے حوالے سے ایک طویل تاریخ ہے، مسلم لیگ ن کی یوتھ پالیسیز کو نکال دیا جائے تو نوجوانوں کے لیے آج تک کسی نے کام نہیں کیا۔ شہباز شریف نے 1997 میں پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد بوٹی مافیا کا خاتمہ کیا اور میرٹ کی بنیاد پر بچوں اور بچیوں کو آگے آنے کا موقع دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایسے بچے بھی تعلیمی میدان میں ٹاپ کرنے لگے جن کا تعلق عام گھرانوں سے تھا۔ ایک ایسی بچی نے ٹاپ کیا جس کی والدہ گھروں میں برتن مانجھتی تھیں، ایک حافظ قرآن بچہ رکشہ چلا کر گھر کا خرچہ پورا کرنے کے باوجود ٹاپ کرگیا جبکہ پنجاب یونیورسٹی کا 125 سالہ ریکارڈ بھی ایک ایسے بچے نے توڑا جو تنور پر روٹیاں لگاتا تھا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے دور میں سی پیک منصوبے کو تباہی سے دوچار کیا گیا، رانا مشہود
ان کے مطابق مسلم لیگ ن نے میاں نواز شریف کی سربراہی میں ہمیشہ میرٹ کو فروغ دیا اور پاکستان کی پہلی یوتھ پالیسی 2010 میں دی گئی۔ اس پالیسی کے تحت لیپ ٹاپس، دانش اسکول، سافٹ لونز، اسکالرشپس اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کی ٹریننگز سمیت تعلیم کے ہر شعبے میں سرمایہ کاری شروع کی گئی۔
ترسیلات زر 43 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی، 2030 تک 70 ارب ڈالر کا ہدف
رانا مشہود نے کہا کہ بیرون ملک روزگار حاصل کرنے والے پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی ترسیلات زر میں اضافہ کررہی ہیں۔ گزشتہ سال ترسیلات زر 32 ارب ڈالر سے بڑھ کر 37 ارب ڈالر تک پہنچیں جو ایک ریکارڈ تھا، جبکہ رواں سال یہ 43 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی ہے۔
ان کے مطابق حکومت 2030 تک ترسیلات زر کو 70 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے ایک نئی ’ونڈو آف اپرچونٹی‘ کھلی ہے اور ایسے مواقع بار بار نہیں ملتے۔
انہوں نے بیرون ملک جانے والے پاکستانی نوجوانوں کو برین ڈرین کے بجائے برین گین قرار دیتے ہوئے چین کی مثال دی۔ ان کے مطابق چین نے 1960 اور 1970 کی دہائی میں لاکھوں نوجوانوں کو بیرون ملک بھیجا اور بعد میں یہی نوجوان واپس آکر نئے چین کی بنیاد رکھنے میں شریک ہوئے۔
رانا مشہود نے کہا کہ پاکستان سے باہر جانے والے نوجوان بھی جو کچھ وہاں سیکھیں گے اور کمائیں گے، واپس پاکستان آکر سرمایہ کاری کریں گے اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
گزشتہ سال 7 لاکھ 73 ہزار نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار ملا
رانا مشہود نے بتایا کہ حکومت نوجوانوں کو پاکستان کے اندر اور بیرون ملک پلیٹ فارمز اور مواقع فراہم کر رہی ہے۔ گزشتہ سال 7 لاکھ 73 ہزار بچوں کو براہ راست اور بالواسطہ پاکستان سے باہر ملازمتیں دلوائی گئیں جبکہ رواں سال کا ہدف 19 لاکھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پروڈکٹیو ایمپلائمنٹ کے حوالے سے کمیٹی قائم کر رکھی ہے جس کی وہ سربراہی کرتے ہیں۔ پاکستان کا ڈیجیٹل یوتھ ہب منفرد ماڈل ہے جسے اقوام متحدہ، چین اور علی بابا سمیت مختلف اداروں نے سراہا ہے۔
ڈیجیٹل یوتھ ہب پر ساڑھے 8 لاکھ سے زائد رجسٹریشن
ان کے مطابق ڈیجیٹل یوتھ ہب پر نوجوان بغیر سفارش کے میرٹ کی بنیاد پر رجسٹر ہوتے ہیں اور انہیں اسکالرشپ، ٹریننگ، ایمپلائمنٹ اور کیریئر پروگریشن کے مواقع اے آئی بیسڈ نظام کے ذریعے خودکار طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ ساڑھے 8 لاکھ سے زیادہ بچے اور بچیاں رجسٹر ہوچکے ہیں جبکہ 3 ہزار سے زیادہ کمپنیاں بھی رجسٹرڈ ہیں۔ پلیٹ فارم پر 16 ہزار سے زیادہ اسکالرشپس اور لاکھوں ملازمتوں کے مواقع موجود ہیں۔
رانا مشہود نے کہا کہ حکومت ’کروڑ نوکریاں دینے‘ کے دعوے کے بجائے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہنر دینے اور انہیں یہ عزم دینے پر توجہ دے رہی ہے کہ ’آپ سب کچھ کر سکتے ہو۔‘
مزید پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کو بھکاری بنارہا ہے، اس سے بچنا چاہیے، رانا مشہود
نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی گیم چینجر
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی پہلی نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی جاری کی گئی ہے، جس کی تیاری پر 2 سال کام ہوا۔ اس دوران ان شعبوں اور ٹریڈز کی نشاندہی کی گئی جہاں نوجوانوں کے لیے مستقبل میں مواقع موجود ہیں۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کو سامنے رکھتے ہوئے نصاب سازی کی گئی اور 21 ایسی جابز کی نشاندہی کی گئی جن میں نوجوانوں کو فوری روزگار یا اسٹارٹ اپ شروع کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لیبر فورس سروے جو پہلے چار پانچ سال میں ایک مرتبہ ہوتا تھا، اب ہر سال کرایا جائے گا۔ پالیسی کے تحت کم از کم 35 فیصد خواتین کو لیبر فورس کا حصہ بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے جبکہ نوجوانوں کی نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن اور نئے کاروبار و اسٹارٹ اپس کو فروغ دیا جائے گا۔
چین سے 50 جامعات، 70 ٹیکنیکل اداروں کے معاہدے
رانا مشہود کے مطابق چین کے ساتھ روزگار اور ہنر کے شعبے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ 50 یونیورسٹیوں اور 70 ٹیکنیکل ایجوکیشن اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتیں کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلے 3 سال میں 5 لاکھ بچے اور بچیاں پاکستان سے چین بھیجنے کا ہدف ہے۔ ان کے مطابق ہنر کا مطلب صرف کارپینٹر، ڈرائیور، الیکٹریشن یا پلمبر نہیں بلکہ انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، اکاؤنٹنسی، نرسنگ، ڈاکٹرز اور ہر شعبے کے ماہرین بھی اس کا حصہ ہیں۔
امریکا اور یورپ میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئی راہیں
انہوں نے بتایا کہ یورپ میں ان کی ٹیم کام کر رہی ہے جبکہ امریکا کی مختلف جامعات، جن میں یونیورسٹی آف الینوائے، یونیورسٹی آف شکاگو اور ڈی پال شامل ہیں، کے ساتھ بھی معاہدے کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق چین اور امریکا میں ہونے والی تحقیق، دستیاب مواقع اور نصاب کو پاکستانی جامعات میں متعارف کرایا جارہا ہے اور ٹیکنیکل ایجوکیشن اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا جارہا ہے تاکہ پاکستانی نوجوان دنیا سے پیچھے نہ رہیں۔
اے آئی اور گرین اکانومی مستقبل کے اہم شعبے
رانا مشہود نے مصنوعی ذہانت، گرین اکانومی اور جدید ٹیکنالوجی کو مستقبل کے اہم شعبے قرار دیا۔ ان کے مطابق اے آئی بعض ملازمتیں ختم کررہی ہے لیکن اس کے ساتھ نئی اسٹریمز اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہورہے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے اے آئی پالیسی لانچ کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث عناصر کا احتساب ہوگا، 9 مئی کے کرداروں کے خلاف کارروائی شروع، رانا مشہود
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز، سولر اور ونڈ انرجی سمیت کئی شعبوں میں بڑی صنعتیں وجود میں آرہی ہیں اور گرین اکانومی ملٹی ٹریلین ڈالر کی معیشت بنتی جارہی ہے۔ حکومت ان شعبوں میں بھی نوجوانوں کی تربیت کر رہی ہے۔
یورپ کو ہنرمند کارکنوں کی ضرورت، نوجوانوں کی اخلاقی تربیت بھی ہوگی
انہوں نے کہا کہ یورپ کے کئی ممالک میں آبادی منفی شرح کی طرف جاچکی ہے اور انہیں ہنرمند کارکنوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان اپنے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دے کر عزت کے ساتھ بیرون ملک روزگار کے لیے بھیج رہا ہے۔
ان کے مطابق نوجوانوں کو تکنیکی تربیت کے ساتھ سافٹ اسکلز اور اخلاقی تربیت بھی دی جارہی ہے تاکہ وہ بیرون ملک پاکستان کے سفیر کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
مسلم لیگ ن نوجوانوں کی جماعت نہیں، یہ تاثر درست نہیں، رانا مشہود
مسلم لیگ ن کے نوجوانوں سے تعلق کے بارے میں انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ مسلم لیگ ن نوجوانوں کی جماعت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میڈیا کے ذریعے ’جھوٹ کی بمبارمنٹ‘ ہے۔
مسلم لیگ ن کے سیاسی بیانیے اور نوجوانوں میں مقبولیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض بیانیوں کو منظم انداز میں بڑھایا جاتا ہے اور پاکستان مخالف قوتیں ایک دوسرے کے بیانیے کو آگے بڑھاتی ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا نوجوان اپنی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ سمیت پاکستان بھر کے نوجوان سمجھتے ہیں کہ جو جماعت ترقی اور خوشحالی لاسکتی ہے وہ مسلم لیگ ن ہے۔ پنجاب کو انہوں نے ایک ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اسے مزید آگے بڑھایا ہے جبکہ شہباز شریف کے دور میں شروع کیے گئے کاموں کو بھی مزید ایک سطح تک لے جایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری، کاروبار اور روزگار کے مواقع کے لیے دلچسپی لے رہی ہے۔ چینی، سعودی، جی سی سی ممالک، آذربائیجان اور ازبکستان سمیت مختلف ممالک کے ساتھ روابط اور مواقع بڑھ رہے ہیں۔
ویژن 2047، نوجوان وزیراعظم کو آئیڈیاز دیں گے
رانا مشہود نے کہا کہ پاکستان 2047 میں آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا اور اس وقت کا پاکستان ماضی جیسا نہیں بلکہ نوجوانوں کی قیادت میں ایک نیا پاکستان ہوگا۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے نوجوانوں سے کہا ہے کہ وہ آئیڈیاز، وژن، منصوبے اور رہنمائی فراہم کریں۔ نیشنل یوتھ کونسل میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یوتھ ایڈوائزری بورڈ بنایا گیا ہے جو وزیراعظم کو نوجوانوں کے آئیڈیاز دے گا۔
مزید پڑھیں: جنرل فیض نے مجھے دانستہ طور پر ٹارگٹ کیا، رانا مشہود کا انکشاف
6 ماہ تک پورے پاکستان سے آئیڈیاز اکٹھے کیے جائیں گے، کمیٹی ان پر کام کرے گی اور 8ویں ماہ تمام تجاویز کو یکجا کرکے ایک مشترکہ وژن قوم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس وژن کے تحت ہر سال ایک ہدف مقرر ہوگا اور 2047 کا پاکستان دنیا کو لیڈ کرنے والا پاکستان ہوگا۔
یوتھ لونز سے ساڑھے 9 سے پونے 10 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوئیں
رانا مشہود کے مطابق پہلے نوجوانوں کے لیے 60 یا 80 ارب روپے رکھے جاتے تھے، لیکن وزیراعظم نے یوتھ کے لیے 200 ارب روپے رکھنے کی ہدایت کی۔ کامن ویلتھ کی رپورٹ کے مطابق ساڑھے 3 لاکھ افراد نے قرضے لیے اور ان سے کم از کم ساڑھے 9 سے پونے 10 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ اوسطاً ہر قرض سے 3.3 ملازمتیں پیدا ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال وزیراعظم نے نوجوانوں کو قرضے دینے کے لیے 265 ارب روپے فراہم کیے ہیں جبکہ مزید مواقع بھی لائے جارہے ہیں۔
18 لاکھ لیپ ٹاپس نے فری لانسنگ اور ای کامرس کو فروغ دیا
لیپ ٹاپ اسکیم پر تنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ اسکیم پر ایک اسٹڈی بھی ہوئی ہے۔ پنجاب اور وفاق میں تقسیم کیے گئے 18 لاکھ لیپ ٹاپس نے پاکستان میں فری لانسنگ، ای کامرس اور آن لائن کام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق پاکستان آج فری لانسرز کے حوالے سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے اور آئندہ چند ماہ میں تیسرے نمبر پر آنے کی پیشگوئی ہے۔ کورونا کے دوران ورک فرام ہوم کے رجحان میں بھی لیپ ٹاپس نے پاکستان کی آن لائن معیشت چلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ خوشاب، تربت، وانا وزیرستان اور ملک کے دیگر دور دراز علاقوں کے نوجوانوں نے ایک لیپ ٹاپ کے ذریعے اپنی زندگی تبدیل کی۔ بعض نوجوان آج 20، 30 افراد کو روزگار دے رہے ہیں اور اپنے خاندانوں کو بہتر طریقے سے چلا رہے ہیں۔
اڑھائی لاکھ کروم بکس اور اڑھائی لاکھ ٹیبلٹس دینے کا منصوبہ
رانا مشہود نے بتایا کہ حکومت رواں سال اڑھائی لاکھ کروم بکس دینے جارہی ہے جبکہ وزیراعظم نے پورے پاکستان کے اسکولوں کے بچوں کے لیے ڈھائی لاکھ ٹیبلٹس کا منصوبہ بھی منظور کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج آن لائن شاپنگ، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ہر چیز ڈیجیٹل ہوچکی ہے اور مستقبل میں یہ تبدیلی مزید بڑھے گی۔ ڈیجیٹل پاکستان کے لیے آئی ٹی انٹروینشنز ناگزیر ہیں۔
مزید پڑھیں: رانا مشہود کی یونیسکو ڈائریکٹر سے ملاقات، نوجوانوں کو بااختیار بنانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال
بلوچستان میں ای لائبریریز، خصوصی کوٹہ اور آئی ٹی ٹریننگز
بلوچستان کے نوجوانوں کے حوالے سے رانا مشہود نے کہا کہ پورے بلوچستان میں ای لائبریریز قائم کی جارہی ہیں۔ وزیراعظم نے اس مقصد کے لیے تقریباً ڈھائی سے تین ہزار لیپ ٹاپس فراہم کیے ہیں، جن کے ذریعے بلوچستان کی تمام یونیورسٹیوں اور منسلک کالجز میں ای لائبریریز قائم کی جائیں گی۔
ٹیکنیکل ایجوکیشن کی ٹریننگز اور بیرون ملک روزگار کے پروگراموں میں بلوچستان کا خصوصی کوٹہ رکھا گیا ہے جبکہ ڈیجیٹل انٹروینشنز اور آئی ٹی ٹریننگز میں بھی بلوچستان کے بچوں کو شامل کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بلوچستان سمیت پورے پاکستان کے نوجوانوں کو فراموش نہیں کیا۔ وزیراعظم خود بھی بلوچستان جاکر نوجوانوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اور انہیں مسلسل انگیج رکھا جارہا ہے۔
بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے انہوں نے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو پاکستان کے دشمنوں کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل انتشار اور ایسی سرگرمیوں میں نہیں بلکہ تعلیم، ہنر، روزگار اور ترقی میں ہے۔
پانچویں نسل کی جنگ کا مقابلہ کیا، پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا
رانا مشہود نے عرب اسپرنگ کی مثال دیتے ہوئے شام، عراق، مصر اور لیبیا کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان نے پانچویں نسل کی جنگ کا بھی مقابلہ کیا اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔
ان کے مطابق 2022 میں ملک کے دیوالیہ ہونے کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، تاہم پاکستان کو وہاں سے واپس لایا گیا اور اسے درست سمت پر ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ راستے سے اکھڑنے کے بعد دوبارہ درست سمت میں آنے میں وقت لگتا ہے۔
’یوتھ اپنا مستقبل چاہتی ہے‘
رانا مشہود نے کہا کہ نوجوان ملک میں درپیش مسائل، پیٹرول، بجلی اور دیگر مشکلات سے آگاہ ہیں، لیکن وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ حکومت ان کے مستقبل کے لیے کام کررہی ہے۔ وزیراعظم کو وہ دن رات نوجوانوں کے ساتھ انگیج دیکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی نوجوان اپنا مستقبل چاہتے ہیں اور وزیراعظم اور مسلم لیگ ن ہی انہیں یہ مستقبل فراہم کرے گی۔ 2047 میں یہی بچے اور بچیاں کاروبار، بیوروکریسی، سیاست اور مختلف پروفیشنز میں قیادت کررہے ہوں گے، پاکستان کے اندر بھی اور پاکستان سے باہر بھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی یوتھ حکومت کے لیے سر کا تاج ہے، پاکستان کا مستقبل ہے اور حکومت ان کے آئیڈیاز کی بنیاد پر ویژن 2047 کی طرف بڑھ رہی ہے۔













