پنجاب حکومت اور امریکا نے مصنوعی ذہانت و ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
بدھ کے روز مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات علی ڈار سے امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے لاہور میں ملاقات کی، جس میں پنجاب کے مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ایجنڈے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز اور امریکی سفیر کی اہم ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
امریکی سفارتخانے کے وفد نے نٹالی اے بیکر کی قیادت میں مصنوعی ذہانت پنجاب کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں علی ڈار نے امریکی وفد کو ادارے کے انتظامی ماڈل، ساخت اور ترجیحات کے بارے میں بریفنگ دی۔
علی ڈار نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق مصنوعی ذہانت کو بہتر طرز حکمرانی اور مؤثر عوامی خدمات سے جوڑا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اور کیلیفورنیا کے درمیان موجود بہن صوبائی تعلقات کو مصنوعی ذہانت، تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں امریکی سرمایہ کاری کا نیا باب، مریم نواز سے 30 رکنی کاروباری وفد کی اہم ملاقات
مشیر وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے فعال ترسیلی یونٹ قائم کیا گیا ہے، جو مصنوعی ذہانت کے وژن 2029 کو قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب مضبوط ڈیجیٹل بنیاد، باصلاحیت افرادی قوت اور تیزی سے ترقی کرتے ٹیکنالوجی کے نظام کی بدولت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں قیادت کے لیے تیار ہے۔
علی ڈار نے کہا کہ امریکی جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے پنجاب کے مصنوعی ذہانت کے نظام کو عالمی مہارت اور تحقیق سے منسلک کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی پرتگالی کمپنیوں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت
انہوں نے کہا کہ عالمی تحقیق، ٹیکنالوجی اور صنعتی مہارت کو پنجاب کی مصنوعی ذہانت سے متعلق ترجیحات سے جوڑنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
علی ڈار کے مطابق ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے ساتھ پنجاب میں نئے معاشی مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا مقصد صرف جدید ٹیکنالوجی اپنانا نہیں بلکہ شہریوں کو بہتر، تیز اور شفاف خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔













