بھارتی ریاست مغربی بنگال میں بنگال اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب 2 مشتبہ پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرکے ان پر جاسوسی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے واقعے کو پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے جوڑتے ہوئے مختلف دعوے کیے ہیں، تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے آزادانہ طور پر کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
بھارتی اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق دونوں پاکستانی شہریوں کو شمالی 24 پرگنہ ضلع میں بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب گرفتار کیا گیا۔ وکلا کے مطابق ان کے خلاف جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا میں اس واقعے کو ایک بار پھر پاکستان اور آئی ایس آئی سے جوڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ بعض رپورٹس اور تبصروں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایک مبینہ پاکستانی ایجنٹ طویل عرصے تک بھارت میں موجود رہا، عوامی ٹرینوں میں سفر کرتا رہا اور بھارتی شناختی دستاویز بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا، تاہم دستیاب خبر میں ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں شیخ حسینہ کی میڈیا سے گفتگو پر بنگلہ دیش کا سخت احتجاج، دوطرفہ تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ
پاکستان مخالف حلقوں کی جانب سے ایسے واقعات کو فوری طور پر آئی ایس آئی سے منسلک کرنے کے طرزِ عمل پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی سیکیورٹی ادارے جاسوسی کے کسی نیٹ ورک کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس کے شواہد اور تحقیقات کی تفصیلات سامنے لائی جانی چاہئیں، محض الزامات کی بنیاد پر کسی ملک یا اس کے اداروں کو ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں۔
بھارتی میڈیا میں اس نوعیت کے الزامات سامنے آنے کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر گرفتار افراد کئی برس تک بھارت میں سرگرم رہے تو مقامی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے اس دوران ان کی سرگرمیوں کا سراغ کیوں نہ لگا سکے۔
واضح رہے کہ دستیاب رپورٹ میں صرف یہ تصدیق کی گئی ہے کہ بنگال ایس ٹی ایف نے بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب دو مشتبہ پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا اور ان پر جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ باقی دعوؤں کی حتمی تصدیق تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گی۔














