افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ، وسطی ایشیا میں فوجی مشقوں کی بڑی وجہ قرار

جمعرات 13 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان سے عسکریت پسند اور بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں کی ممکنہ دراندازی کے خطرے کو وسطی ایشیائی ممالک میں ہونے والی سالانہ فوجی مشقوں کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ خطے میں سکیورٹی خطرات بدستور بلند ہیں۔

ماسکو میں قائم سی آئی ایس انسٹیٹیوٹ کے شعبہ وسطی ایشیا کے سربراہ آندرے گروزِن کے مطابق افغانستان سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے پیش نظر خطے کے ممالک اپنی عسکری تیاریوں کو مسلسل مضبوط بنا رہے ہیں۔ روسی اخبار ازویستیا سے گفتگو میں انہوں نے روس اور کرغزستان کی حالیہ مشترکہ فوجی مشقوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وسطی ایشیا کو درپیش سیکیورٹی خطرات میں نمایاں کمی نہیں آئی۔

ان کے مطابق خطے میں ہونے والی فوجی مشقیں، خواہ وہ اجتماعی سلامتی معاہدے کی تنظیم (CSTO)، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے تحت ہوں یا دوطرفہ بنیادوں پر، بنیادی طور پر افغانستان سے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے کی جاتی ہیں۔

آندرے گروزِن نے 1999 اور 2000 کے ’’باتکن واقعات‘‘ کا حوالہ بھی دیا، جب ازبکستان کی اسلامی تحریک اور افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں سے وابستہ تربیت یافتہ جنگجوؤں نے کرغزستان کے راستے ازبکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔

ان کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد نسبتاً کم ہونے کے باوجود انہوں نے مقامی فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا، جس کے بعد بشکیک کو ماسکو، تاشقند اور آستانہ سے فوجی مدد طلب کرنا پڑی۔ ان واقعات کے باعث وسطی ایشیائی حکومتیں افغانستان سے اسی نوعیت کے کسی ممکنہ خطرے کو اب بھی سنجیدگی سے لیتی ہیں۔

دیگر سکیورٹی ماہرین نے بھی افغانستان کی شمالی سرحدوں، بالخصوص تاجکستان کے قریب صوبہ بدخشان میں حالیہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں عدم استحکام برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بدخشان میں طالبان اور مخالف گروپ کے درمیان جھڑپیں، 5 ہلاک، 16 زخمی

اسی تناظر میں روس اور کرغزستان کی مشترکہ فوجی مشقیں 11 اگست کو دشوار گزار پہاڑی علاقے میں شروع ہوگئی ہیں، جو 17 اگست تک جاری رہیں گی۔

مشقوں کے دوران دونوں ممالک کی افواج سرحدیں بند کرنے، حملے کرنے، فرضی غیر قانونی مسلح گروہوں کا صفایا کرنے اور شدت پسند گروہوں کی ممکنہ دراندازی روکنے کے لیے ڈرونز کے استعمال کی مشق کر رہی ہیں۔

مشقوں کی کمانڈ کے مطابق ان سرگرمیوں کا مقصد دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جنگی رابطہ کاری بہتر بنانا اور ماسکو و بشکیک کے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp