امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون پر 2025 کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار کم ظاہر کرنے اور حقائق کو چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
کانگریس کو جمع کرائی گئی پینٹاگون کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تمام تصدیق شدہ شہری ہلاکتیں یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی بمباری کے نتیجے میں ہوئیں، جبکہ مزید 15 کیسز کا جائزہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں:پینٹاگون نے 41 نئی ’UFO‘ فائلیں جاری کردیں، حیران کن واقعات کی تفصیلات سامنے آگئیں
تاہم آزاد اداروں کے اعداد و شمار پینٹاگون کے تخمینے سے کہیں زیادہ ہیں۔ ایئر وارز کے مطابق یمن میں امریکی کارروائیوں کے دوران کم از کم 258 شہری ہلاک ہوسکتے ہیں، جبکہ یمن ڈیٹا پروجیکٹ نے ہلاکتوں کی تعداد 238 اور زخمیوں کی 467 بتائی ہے۔
پینٹاگون نے مغربی نصف کرہ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں کسی شہری ہلاکت کو رپورٹ نہیں کیا، حالانکہ ستمبر 2025ء سے کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ کے شبہے میں متعدد کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ پر امریکی حکام کی جانب سے بھی تنقید سامنے آئی ہے۔ امریکی اخبار دی انٹرسیپٹ سے گفتگو میں 2 حکام نے پینٹاگون کے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو حقائق چھپانے کی کوشش قرار دیا۔
مزید پڑھیں:امریکی جنگی ہلاکتوں کا ریکارڈ تبدیل، پینٹاگون کی شفافیت پر نئے سوالات اٹھ گئے
رپورٹ کے مطابق 2025 میں ان کارروائیوں کے دوران قریباً 120 افراد ہلاک ہوئے، تاہم پینٹاگون نے ان میں سے کسی کو شہری ہلاکت کے طور پر شمار نہیں کیا۔
پینٹاگون کے مطابق 2024 میں صرف 2 شہری ہلاکتیں تسلیم کی گئی تھیں، یوں 2025 کے اعداد و شمار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم جاری امریکی اسرائیلی جنگ کے باعث 2026 کے اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔














