خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی کے دوران ہلاک ہونے والے 4 امریکی فوجیوں کو امریکی حکومت کے سرکاری جنگی ہلاکتوں کے ریکارڈ سے نکال کر ایک نئی کیٹیگری میں شامل کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیفنس کیژولٹی اینالیسز سسٹم ، جسے امریکی فوجی حکام اس جنگ کے جانی نقصانات کا بنیادی سرکاری ریکارڈ قرار دیتے رہے ہیں، نے گزشتہ ہفتے اپنی مرکزی فہرست سے ان 4 ہلاک فوجیوں کے علاوہ متعدد زخمی اہلکاروں کو بھی خارج کر دیا۔
اے پی کے مطابق یہ ریکارڈ اب ’اوورسیز آپریشنز‘کے عنوان سے قائم ایک نئے زمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں 4 ہلاک فوجیوں کے ساتھ 207 زخمی اہلکاروں کے نام بھی درج ہیں۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فہرست میں شامل تمام زخمی اہلکار براہِ راست ایران کے خلاف جنگ کے دوران ہی زخمی ہوئے تھے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیے ایرانی حملوں میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تفصیلات چھپائی جارہی ہیں، نیویارک ٹائمز
دوسری جانب پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جوئل والڈیز نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ سرکاری اعدادوشمار میں کمی بعض غیر معمولی ڈیٹا مسائل اور عارضی تکنیکی رکاوٹوں کا نتیجہ ہے، جنہیں جلد از جلد درست کیا جا رہا ہے۔
اے پی کی رپورٹ کے مطابق جنگی ہلاکتوں کی درجہ بندی میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ دفاع کو جنگ سے متعلق معلومات کی شفافیت پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جھڑپوں کے دوبارہ آغاز کے بعد فوجی حکام نے جنگی حکمتِ عملی اور جانی نقصانات کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں بہت کم معلومات جاری کیں۔
یہ بھی پڑھیے ایران تنازع: کویت میں ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے مئی کے اوائل کے بعد سے ایران جنگ کے حوالے سے کوئی باضابطہ پریس کانفرنس نہیں کی، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی صحافیوں کو جنگی ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق معمول کی رپورٹس جاری کرنا بند کر دی ہیں۔














