سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

جمعہ 14 اگست 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کبھی کبھی تاریخ اپنے راز کسی قلعے یا سرکاری دستاویزات میں نہیں چھپاتی بلکہ وہ لوہے کے ایک معمولی سے ٹکڑے کو اپنا امین بنا دیتی ہے۔

اسلام آباد کے گولڑہ ریلوے ہیریٹیج میوزیم میں محفوظ ایک چھوٹی سی لوہے کی چابی بھی ایسی ہی ایک داستان کی امین ہے۔ آج اسے دیکھیں تو شاید اندازہ نہ ہو کہ کبھی اسی چابی سے ایک ایسی ٹرین کے دروازے بند کیے گئے تھے جس میں قریباً 1200 انسان سوار تھے۔ باہر 1947 کا خون آشام برصغیر تھا، جبکہ اندر ایک نئے وطن تک پہنچنے کی امید زندہ تھی۔

اسلام آباد: ریلوے ہیریٹیج میوزیم گولڑہ میں محفوظ چابی

یہ خصوصی ٹرین جبل پور سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئی اور انیس دن کے طویل اور پُرخطر سفر کے بعد بالآخر 5 دسمبر 1947 کو ملیر پہنچی۔ یہ محض ایک ریل کا سفر نہیں تھا بلکہ یہ خوف، بھوک، سازش، مزاحمت، انتظار، دعاؤں اور زندگی بچانے کی جدوجہد کی ایک ایسی داستان تھی جس کے ہر موڑ پر موت کا خطرہ موجود تھا۔

اس داستان کے ہیرو کیپٹن سید محمد رفیع تھے، جو بعد میں میجر کے عہدے تک پہنچے اور جنہیں قریباً 1200 مہاجرین اور فوجی سامان سے لدی اس ٹرین کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

1947 میں تقسیمِ ہند کے ساتھ برصغیر میں انسانی ہجرت کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ لاکھوں مسلمان اپنا گھر، زمین، کاروبار اور اپنے عزیز چھوڑ کر پاکستان کی طرف روانہ ہوئے۔ مہاجر کیمپوں میں زندگی انتہائی کٹھن تھی۔ نہ مناسب چھت، نہ خوراک، نہ پانی اور نہ صفائی کا مؤثر انتظام۔ بیماریوں اور حملوں نے ان مشکلات کو مزید سنگین بنا دیا۔

ریلوے میوزیم میں محفوظ میجر ریٹائرڈ ایس ایم رفیع کی تحریر، تصویر، چابی، نقشہ اور ہری لال جھنڈیاں۔

میجر سید محمد رفیع کے پاس قریباً 500 فوجیوں پر مشتمل ایک کمپنی تھی، جو چھوٹے ہتھیاروں سے لیس تھی۔ ٹرین کی روانگی سے قبل مسافروں کے لیے خوراک، پانی اور دیگر ضروریات کا بندوبست کرنا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ تھا۔

روانگی سے پہلے تمام انتظامات مکمل کرنا مشکل اور وقت طلب مرحلہ تھا، مگر فوجی جوانوں نے یہ ذمہ داری پوری کی۔ رفیع نے اپنی عسکری یادداشتوں میں ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے لکھا کہ پھر وہ وقت آیا جب ان مہاجرین کو ایک ٹرین کے ذریعے پاکستان پہنچانا تھا۔ اس قافلے میں عورتیں، بچے اور بوڑھے سب شامل تھے۔

ٹرین روانہ ہونے والی تھی کہ مقامی حکام نے ایک عجیب شرط عائد کردی کہ تمام سامان صرف ایک لفٹ کے ذریعے پلیٹ فارم تک لے جایا جائے گا۔ رفیع نے احتجاج کیا، مگر شرط واپس نہ لی گئی۔ اسی دوران چند مسافروں نے ایک لمبا بانس لیا، اپنا سامان اس پر لادا اور دو افراد نے بانس کے دونوں سرے کندھوں پر اٹھا لیے۔ یوں سامان ایک ہی’لفٹ‘ میں پلیٹ فارم تک پہنچ گیا جس کا تصور شاید شرط عائد کرنے والوں نے بھی نہیں کیا تھا۔

اسلام آباد: گولڑہ ریلوے اسٹیشن کا خوبصورت منظر

کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تو رفیع نے انہیں خاموش کراتے ہوئے کہا کہ شرط پوری کردی گئی ہے۔ سامان ایک لفٹ ہی کے ذریعے پلیٹ فارم تک پہنچا ہے۔ حکام کے پاس مزید اعتراض کی گنجائش نہ رہی اور بالآخر تمام مسافروں کو اپنا سامان کمپارٹمنٹ میں رکھنے کی اجازت مل گئی۔

اس دور میں فوجی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے والی ٹرینیں ریلوے حکام کی معاونت سے چلتی تھیں۔ اس ٹرین کا ڈرائیور ہندو اور گارڈ عیسائی تھا، تاہم دونوں رفیع کی نگرانی میں تھے۔ ٹرین روانہ ہوئی تو رفیع کی کمپنی کے جوانوں نے قرآن پاک کی تلاوت کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ قافلے کو خیریت سے منزل تک پہنچائے۔

پہلا بڑا امتحان نئی دہلی میں سامنے آیا، جہاں ایک سکھ لیفٹیننٹ کرنل نے ٹرین میں موجود مسافروں کی تعداد پر اعتراض کیا۔ اس نے کہا کہ مسافروں کی تعداد مقررہ حد سے زیادہ ہے اور وہ ان کی گنتی کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد ٹرین کو پرانی دہلی لے جا کر جانچ پڑتال کرنے کی بات کی گئی۔

میجر ریٹائرڈ ایس ایم رفیع کی 1967 میں لکھی تحریر کا عکس

رفیع کو یہ محض معمول کی کارروائی محسوس نہ ہوئی۔ انہیں خدشہ تھا کہ ٹرین کو دوسری طرف لے جانے سے مسافروں کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ٹرین ان کی نگرانی میں ہے اور ان کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جائے گی۔ سکھ افسر نے گرفتاری اور کارروائی کی دھمکی دی، مگر رفیع اپنے مؤقف پر قائم رہے۔

کچھ دیر بعد رفیع کو بتایا گیا کہ ایریا کمانڈر بریگیڈیئر جی کے جونز ان سے ٹیلی فون پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نام سنتے ہی انہیں انڈین ملٹری اکیڈمی کا زمانہ یاد آگیا جہاں بریگیڈیئر جونز ان کے افسر رہ چکے تھے۔ رفیع نے گفتگو کا آغاز اسی پرانے تعلق کی یاد دہانی سے کیا اور بتایا کہ کمیشن حاصل کرنے میں بھی جونز کا اہم کردار رہا تھا۔

پرانے دنوں کی بات ہوئی، پھر رفیع نے موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور ٹرین کو فوری روانگی کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ حکم جاری ہوا اور سکھ افسر کو اسے ماننا پڑا۔ تاہم اس نے ٹرین کی روانگی میں تاخیر کردی۔ بالآخر دو دن بعد ٹرین دوبارہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی۔ اب اس کے سامنے ایسا راستہ تھا جہاں ہر چند میل بعد زندگی ایک نئے خطرے سے دوچار ہوسکتی تھی۔

اسلام آباد: اکتوبر 2003 میں قائم کیا گیا پاکستان ریلوے ہیریٹیج میوزیم گولڑہ

رفیع نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ سفر کے دوران انہوں نے ایسے مناظر دیکھے جنہیں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ راستے میں لاشیں تھیں، زخمی تھے، ادھ مرے انسان تھے۔ عورتیں، بچے، بوڑھے اور جوان، سب ایک ایسے المیے کی زد میں تھے جس میں انسانیت جیسے کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔

کچھ لوگ زندگی اور موت کے درمیان سسک رہے تھے اور کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں تھا۔ رفیع کے مطابق وہ مناظر برسوں بعد بھی ان کی یادوں میں زندہ رہے اور انہیں یاد کرکے ان کا دل بے چین ہوجاتا تھا۔ مگر ان کی اپنی ٹرین کو ابھی کئی خطرناک مرحلوں سے گزرنا تھا۔

ٹرین پانی پت پہنچی تو ڈرائیور نے اسے مین لائن سے ہٹا کر مہاجر کیمپ کے قریب روک دیا۔ رفیع کے مطابق وہاں بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود تھے جن سے ٹرین کے مسافروں کو خطرہ محسوس ہوا۔ انہوں نے فوراً اپنے جوانوں کو ہوشیار کیا۔ ڈرائیور نے بتایا کہ انجن میں پانی ختم ہوگیا ہے اور اسی وجہ سے خرابی پیدا ہوئی ہے۔

رفیع نے اپنے صوبیدار حق کو فوری طور پر پانی کا انتظام کرنے کا حکم دیا۔ جوانوں نے قریب ہی ایک کنواں تلاش کیا اور بالٹیوں کے ذریعے پانی انجن تک پہنچایا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے انجن کے چند پرزے ہلائے اور ٹرین کو دوبارہ چلنے کے قابل قرار دے دیا۔ رفیع نے اسے واضح ہدایت دی کہ آئندہ ان کی اجازت کے بغیر ٹرین کہیں نہیں روکی جائے گی۔

امبالہ کے قریب خفیہ اطلاع ملی کہ ریلوے پٹڑی کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ خطرہ یہ تھا کہ ٹرین کسی ایسی جگہ نہ رک جائے جہاں راستہ تباہ کیا جاچکا ہو۔ رفیع نے ایک بار پھر بریگیڈیئر جونز سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ ایک انجن ان کی ٹرین سے آگے چلایا جائے تاکہ پٹڑی کی صورتحال پہلے سے معلوم ہوسکے۔

درخواست منظور ہوگئی۔ ایک انجن آگے روانہ کیا گیا اور اس کے ذریعے راستے کی صورتحال سے آگاہی ملتی رہی۔ اس اقدام نے سفر کے ایک اور بڑے خطرے کو کم کردیا۔ اس کے بعد ٹرین کو مختصر راستے کے بجائے پٹیالہ اور جیسور کے راستے لاہور لے جانے کی کوشش کی گئی۔ رفیع نے اس راستے کو خطرناک سمجھتے ہوئے اپنے جوانوں کو پوری طرح چوکس رہنے کی ہدایت کی۔

مسلمان مہاجرین ریل گاڑی میں سوار ہو رہے ہیں، 1947 کی یادگار تصویر

پٹیالہ ریلوے اسٹیشن پر رات کے وقت بظاہر خاموشی تھی، مگر پلیٹ فارم سے کچھ فاصلے پر مدھم روشنی میں لوگوں کا ایک گروہ جمع تھا۔ ان کی سرگوشیوں اور نعروں سے رفیع نے اندازہ لگایا کہ وہ نہنگ سکھ تھے، جو روایتی طور پر جنگجو سکھ گروہوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں تلواریں اور کرپانیں تھیں۔

ٹرین کے ساتھ موجود تربیت یافتہ اور مسلح فوجیوں نے اپنی موجودگی سے واضح کردیا کہ یہ قافلہ لاوارث نہیں۔ حملہ نہیں ہوا اور ٹرین آگے بڑھ گئی۔ رفیع نے اس موقع کو بھی اللہ تعالیٰ کا فضل قرار دیا۔

سفر جاری تھا کہ اچانک ٹرین کی رفتار کم ہوئی اور پھر رک گئی۔ رفیع نیچے اترے تو چند فوجی جوان نظر آئے۔ سبز وردی اور کندھوں پر بستے۔ معلوم ہوا کہ وہ پاکستانی فوجی تھے جو مہاجرین کو بچانے کی کارروائیوں میں مصروف رہے تھے اور اسی دوران ان کا اپنا راشن ختم ہوگیا تھا۔ رفیع ان کے جذبے سے متاثر ہوئے اور فوری طور پر ان کے لیے بسکٹ، دودھ اور دوسری خوراک کا انتظام کیا۔

یہ منظر اس طویل سفر میں تقسیم کے دو مختلف چہرے ایک ساتھ دکھاتا ہے۔ ایک طرف بے گھر انسانوں کے لیے خطرات پیدا کرنے والے جتھے تھے، تو دوسری طرف انہی انسانوں کو بچانے کے لیے بنا راشن فرائض انجام دینے والے سپاہی۔ ٹرین پھر منزل کی طرف روانہ ہوگئی۔

آخرکار ٹرین اٹاری پہنچی، جہاں پاکستانی انجینئرنگ کور کے فوجی دستے موجود تھے۔ ضروری کارروائی مکمل ہوئی اور ٹرین نے دوبارہ حرکت کی۔ کچھ ہی دیر بعد ٹرین رک گئی۔ سامنے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک معمولی سی حد بندی تھی۔ رفیع کی یادداشت کے مطابق یہ قریباً ایک فٹ چوڑی اور ایک فٹ گہری تھی۔ مگر اس معمولی سی لکیر کی تاریخی اہمیت غیر معمولی تھی۔

ٹرین پاکستان میں داخل ہوئی تو مسافروں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ کئی افراد نے اترتے ہی اپنے وطن کی مٹی چومی۔ چہروں پر مسکراہٹیں تھیں اور آنکھوں میں آنسو۔ انیس دن کی صعوبتوں کے بعد یہ قافلہ بالآخر اس سرزمین تک پہنچ گیا تھا جس کے لیے وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر نکلے تھے۔

جبل پور سے لاہور اور پھر ملیر تک پہنچنے والی اس خصوصی ٹرین نے 1200 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کیا اور 5 دسمبر 1947 کو ملیر پہنچی۔ ٹرین کے دروازے اندر سے مقفل رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی ماسٹر چابی کیپٹن سید محمد رفیع نے اپنے پاس محفوظ رکھی۔ وقت گزرتا گیا، مگر انہوں نے اس معمولی سی چابی کو ایک تاریخی یادگار کے طور پر سنبھالے رکھا۔

29 اپریل 2015 میں میجر رفیع کی خدمات کے اعتراف میں ملیر کنٹونمنٹ کے آرڈیننس سینٹر میں رفیع آڈیٹوریم بھی قائم کیا گیا، جس کا افتتاح اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کیا۔

سید محمد رفیع یکم جون 1919 کو پیدا ہوئے اور 16 نومبر 2017 کو انتقال کرگئے۔ انہوں نے 14 نومبر 1943 کو انڈین ملٹری اکیڈمی، دہرادون سے کمیشن حاصل کیا۔ 1968 میں فوج سے ریٹائرڈ ہوئے، تاہم 1971 کی جنگ کے دوران انہیں دوبارہ طلب کیا گیا۔ لیکن سن 47 کے وہ انیس دن ان کی زندگی کی ناقابل فراموش یادوں میں شامل رہے۔ اس سفر میں ان کی نوبیاہتا بیوی ’چاند بی بی‘ بھی شریک تھیں جو 11 مئی 2024 کو کراچی میں انتقال کرگئیں۔

قریباً سات دہائیوں تک اس چابی کو اپنے پاس رکھنے کے بعد انہوں نے 2014 میں اسے گولڑہ ریلوے ہیریٹیج میوزیم کے حوالے کردیا۔

پاکستان میں ریلوے کا آغاز 13 مئی 1861 کو کراچی تا کوٹری ریلوے لائن سے ہوا، جبکہ گولڑہ ریلوے اسٹیشن 1881 میں قائم ہوا اور 1912 میں اسے جنکشن کا درجہ دیا گیا۔ وکٹورین طرز تعمیر اور صدیوں پرانے برگد کے درختوں میں گھرا یہ اسٹیشن آج بھی اپنی تاریخی خوبصورتی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اکتوبر 2003 میں یہاں پاکستان ریلوے ہیریٹیج میوزیم قائم کیا گیا، جہاں برطانوی دور کے ریلوے نظام سے وابستہ قدیم انجن، بوگیاں، سگنل لائٹس، ٹولز، لیمپس، ٹیلی فون سیٹ، گھڑیاں، دستاویزات، تصاویر اور دیگر نایاب اشیا محفوظ ہیں۔

میوزیم میں قائداعظم کے زیرِ استعمال برتن، لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا کیروسین لیمپ اور دونوں شخصیات کے زیرِ استعمال ریلوے بوگیاں بھی تاریخی ورثے کا حصہ ہیں۔

ان اشیا میں کچھ یادگاریں ایسی ہیں جن کی اہمیت محض ان کی عمر یا نایابی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ میجر سید محمد رفیع کی تصویر، ان کی یادداشتیں، ان کے ہاتھ سے بنایا ہوا سفر کا نقشہ اور وہ چھوٹی سی لوہے کی چابی۔ یہ اشیا صرف میوزیم میں رکھی ہوئی چیزیں نہیں بلکہ 1947 کے انسانی المیے اور اس دور کی ہجرت کی خاموش گواہیاں ہیں۔

آج گولڑہ میوزیم میں رکھی وہ چابی کسی ٹرین کا دروازہ نہیں کھولتی، نہ کسی بوگی کو مقفل کرتی ہے۔ مگر وہ تاریخ کا در ضرور کھولتی ہے۔ اس دروازے کے پار 1947 کے وہ انیس دن دکھائی دیتے ہیں جب قریباً 1200 انسان جبل پور سے ایک ایسے سفر پر روانہ ہوئے تھے جس کی ہر منزل پر موت ان کی منتظر ہوسکتی تھی۔

راستے میں سازشیں تھیں، پٹڑیوں کے ساتھ خطرات تھے، اسٹیشنوں پر مشتبہ جتھے تھے، زخمی انسان تھے، اجڑے خاندان تھے، دعائیں پڑھتے مسافر تھے اور ایک افسر تھا جو اپنے عزم پر قائم رہا اور اس داستان کا محور ایک چھوٹی سی لوہے کی چابی تھی۔

آج شیشے کے پیچھے خاموش پڑی وہ چابی زنگ کھا سکتی ہے، مگر اس سے جڑے انیس دن کبھی زنگ آلود نہیں ہوں گے۔ اور جب کوئی اسے غور سے دیکھتا ہے تو اسے لوہے کا ایک ٹکڑا نہیں، 1947 میں جبل پور سے پاکستان کے لیے روانہ ہونے والی وہ پوری ٹرین نظر آتی ہے، جو طویل سفر کے بعد ایک نئے وطن کی سرزمین تک پہنچی تھی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp