غزہ میں کینسر کے مریضوں کی اموات میں ہوشربا اضافہ، اسرائیلی پابندیاں جان لیوا بن گئیں

جمعرات 13 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کی جانب سے غزہ کا واحد کینسر اسپتال تباہ کرنے اور علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے پر سخت پابندیوں کے باعث غزہ میں کینسر کے مریضوں کی اموات کی شرح جنگ سے پہلے کے مقابلے میں  2سے 3 گنا بڑھ گئی ہے، جبکہ تقریباً 17,000 مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

اسپتال کی تباہی، ہزاروں مریض بے سہارا

گزشتہ برس اسرائیل نے غزہ کے مخصوص کینسر اسپتال کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے دھماکے سے اڑا دیا تھا کہ فوجیوں کو اس کے نیچے حماس کی جانب سے استعمال ہونے والی سرنگ ملی ہے، تاہم آج تک اس دعوے کے ثبوت پیش نہیں کیے جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین، پاکستان کا سلامتی کونسل میں فوری اقدامات کا مطالبہ

 نتیجتاً اندازاً 17,000 کینسر کے مریض اب مقامی طور پر کیموتھراپی یا کسی بھی جدید علاج تک رسائی سے محروم ہو چکے ہیں۔

سرحدی پابندیاں، زندگی اور موت کی جنگ

2025 میں ہونے والے اسرائیل-حماس ‘جنگ بندی’ معاہدے میں آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت دی گئی تھی، مگر اسرائیلی فوج نے مصر جانے والے روزانہ کے قافلوں پر سخت حد بندی برقرار رکھی ہے۔

اسرائیلی فوجی ادارے کوگاٹ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے طبی انخلا کو مربوط کرتا ہے اور غزہ سے نکلنے کے لیے وصول کنندہ ملک کی باضابطہ درخواست اور ‘مطلوبہ سیکیورٹی جانچ’ سے گزرنا لازمی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس بارے میں فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

33 سالہ خلود ابو صحمود، جو رحم کے کینسر کی ایڈوانسڈ سٹیج میں مبتلا ہیں اور 2 بچوں کی ماں ہیں، گزشتہ اکتوبر سے علاج کے لیے مصر یا کسی اور ملک جانے کی منتظر ہیں۔

اس دوران ان کا کینسر پھیپھڑوں اور ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔ اپنی حالت بیان کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ان کی بیماری روز بروز شدت اختیار کر رہی ہے اور جسمانی حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔

کوگاٹ کے مطابق فروری میں رفح کراسنگ کی محدود بحالی کے بعد سے اب تک تقریباً 5,800 غزہ کے شہری طبی علاج کے لیے مصر جا چکے ہیں۔

ادارے کا دعویٰ ہے کہ ریاستِ اسرائیل کی جانب سے طبی انخلا پر کوئی پابندی نہیں، بلکہ یہ مکمل طور پر وصول کنندہ ملک کی درخواست پر منحصر ہے۔

تاہم فلسطینی حکام کے مطابق رفح کی بحالی کے بعد سے صرف 11,000 افراد، بشمول مریض، سرحد پار کر سکے ہیں، جو جنگ بندی معاہدے کے تحت متوقع تعداد سے نصف سے بھی کم ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کا غزہ میں انسانی بحران اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید اظہارِ تشویش

حکام کے مطابق مزید 20,000 مریض، جن میں 5,000 کینسر کے مریض شامل ہیں، بیرونِ ملک علاج کے لیے رجسٹرڈ ہیں مگر انہیں ابھی تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

تباہ حال طبی نظام

جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے کی لڑائی تو رک گئی، مگر اسرائیلی افواج غزہ کے نصف سے زائد رقبے پر قابض رہیں، جو اب بڑھ کر تقریباً دو تہائی ہو چکا ہے۔ غزہ کی 20 لاکھ سے زیادہ آبادی کی اکثریت ساحلی پٹی کے ایک تنگ حصے میں عارضی خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں مقیم ہے۔

جنگ سے پہلے غزہ کے طبی نظام نے بین الاقوامی امداد اور مقامی ڈاکٹروں کی محنت کی بدولت خاطر خواہ ترقی کی تھی۔ لیکن جنگ کے دوران زیادہ تر اسپتال یا تو مکمل تباہ ہو گئے یا شدید نقصان کا شکار ہوئے اور جو اسپتال اب بھی فعال ہیں وہاں کینسر کے علاج اور تشخیصی سہولات سمیت ضروری طبی سامان کی 70 فیصد تک قلت ہے۔

جنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں میں کئی اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین بھی شامل تھے، جن میں ترک-فلسطینی دوستی اسپتال سے وابستہ کینسر کے ماہرین بھی تھے، جسے مارچ 2025 میں اسرائیل کی زیرِ نگرانی مسمار کر دیا گیا۔

روزانہ 3 سے 5 اموات، حکام پریشان

غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفا کے سربراہ محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ مریضوں کو ضروری کیموتھراپی نہ ملنے کے باعث روزانہ 3 سے 5 اموات ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ میں انسانی بحران شدید، اسرائیلی پابندیوں نے امدادی کوششیں مفلوج کر دیں

ترک-فلسطینی دوستی اسپتال کے سابق سربراہ اور فلسطینی سرجن صبحی سقائی کے مطابق جنگ سے پہلے یہ شرح روزانہ ایک سے 2 اموات کے قریب تھی اور بعض اعداد و شمار کے مطابق یہ اوسطاً 1.7 یومیہ تھی۔

سقائی کے مطابق بڑھتی ہوئی اموات کی بنیادی وجہ مقامی علاج کی عدم دستیابی اور سرحدی پابندیاں ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی بمباری میں استعمال ہونے والے مواد سے پیدا ہونے والے زہریلے اثرات کے باعث کینسر کے پھیلاؤ کی رفتار میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ سے قبل غزہ میں کینسر کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تقریباً 11,000 تھی، جس کے بعد نئی رجسٹریشن کا سلسلہ تقریباً رک گیا۔

سقائی کا اندازہ ہے کہ اس عرصے میں مزید 6,000 افراد کینسر کا شکار ہو چکے ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ابتدائی سٹیج پر تشخیص ہونے کی صورت میں کئی مریضوں کا علاج ممکن ہے، مگر وہ بیماری سے لاعلم خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں کوئی طبی امداد میسر نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

قطر اور مراکش سمیت 6 عرب فٹبال فیڈریشنز کی فیفا صدر انفانٹینو کی حمایت

دلچسپی و لگن سے عاری نوجوان کرکٹرز کی توجہ کھیل سے زیادہ پیسہ کمانے پر ہے، اقبال قاسم

حکومت سازی کی تیاریاں، آزاد کشمیر کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟

آزاد کشمیر میں حکومت سازی کی تیاریاں، نواز شریف نے پارٹی کا اہم مشاورتی اجلاس طلب کرلیا

وائٹ ہاؤس کی تاریخ کی کم عمر ترین ترجمان کیرولین لیویٹ کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان، وجہ کیا بتائی؟

ویڈیو

حکومت سازی کی تیاریاں، آزاد کشمیر کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

آزاد کشمیر کے عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مسترد کر دیا، تشدد کسی صورت برداشت نہیں ہوگا،  ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس

کالم / تجزیہ

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہییں

13 برس بعد معلوم ہوا