پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر اور ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم نے ملک کے نوجوان کرکٹرز کی ترجیحات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے کھلاڑی اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور کھیل کو سمجھنے کے بجائے مالی فوائد حاصل کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ٹیسٹ: اسپنر نعمان علی کا نیا کارنامہ، عبدالقادر کا 37 سالہ ریکارڈ توڑ دیا
اقبال قاسم نے سنہ 1976 سے سنہ 1988 کے دوران پاکستان کی جانب سے 50 ٹیسٹ میچز میں 171 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ سنہ 1987 میں پاکستان کے تاریخی دورہ بھارت کے دوران ٹیسٹ سیریز جیتنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے اور بنگلورو میں کھیلے گئے 5ویں ٹیسٹ میں ان کی عمدہ بولنگ نے پاکستان کی یادگار کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
سابق چیف سلیکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دینے والے اقبال قاسم نے پاکستانی کرکٹ کے بدلتے ہوئے ماحول اور سلیکشن کے نظام کے بارے میں اپنے تجربات کی بنیاد پر نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی اور ترجیحات پر سوالات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کئی مرتبہ چیف سلیکٹر اور قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن رہ چکے ہیں اور ان کے دور میں سلیکٹرز بغیر تنخواہ یا معاوضے کے اعزازی بنیادوں پر کام کرتے تھے۔
اقبال قاسم کے مطابق ماضی یا اپنے دور کی کرکٹ پر بات کرنے کے بجائے وہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ بیشتر نوجوان کھلاڑیوں میں اپنی کھیل کی سمجھ اور مہارت بہتر بنانے کے لیے مطلوبہ دلچسپی اور محنت نظر نہیں آتی۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑی بظاہر پیسہ کمانے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
کامیابی کا بنیادی فارمولا آج بھی وہی ہے
اقبال قاسم نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کرکٹ میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں لیکن کامیابی کا بنیادی اصول آج بھی تبدیل نہیں ہوا۔
ان کے مطابق ایک کھلاڑی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے اور کھیل کو سمجھنے کے لیے ذاتی طور پر کتنا وقت دینے کے لیے تیار ہے لیکن پاکستانی کرکٹ میں ایسا کافی نہیں ہو رہا۔
مزید پڑھیے: آل راؤنڈر عامر جمال: کیا پاکستان کو نیا عبدالرزاق مل گیا ہے؟
سابق چیف سلیکٹر نے نوجوان کرکٹرز کی جانب سے کوچز، سپورٹ اسٹاف اور اعداد و شمار پر حد سے زیادہ انحصار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو میدان میں مسائل خود سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے مگر نوجوان کرکٹرز اس مقصد کے لیے خود کافی وقت نہیں دیتے۔
’ملک کے لیے کھیلنا سب سے بڑا اعزاز ہے‘
اقبال قاسم کا کہنا تھا کہ کسی بھی کرکٹر کے لیے پاکستان کی نمائندگی کرنا سب سے بڑی ترجیح اور سب سے بڑا اعزاز ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک کھلاڑی اپنی صلاحیت اور کھیل کا معیار بہتر بناتا ہے تو مالی فوائد خود بخود اس کے پیچھے آتے ہیں اس لیے کھلاڑیوں کو پیسے کے حصول کے لیے کھیل کے بجائے اپنی کارکردگی کو ترجیح دینی چاہیے۔
سال1987 کے دورہ بھارت کی یادیں
اقبال قاسم نے سنہ 1987 کے دورہ بھارت کے دوران بنگلورو ٹیسٹ سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیسٹ کے آرام کے دن ایک تقریب میں ان کی ملاقات بھارت کے سابق اسپنر بشن سنگھ بیدی سے ہوئی۔ بیدی اپنے شاگرد منندر سنگھ کی دوسری اننگز میں بولنگ سے خوش نہیں تھے۔
اقبال قاسم کے مطابق بیدی نے انہیں بتایا کہ جب پچ گیند کو اتنا زیادہ ٹرن دے رہی ہو تو گیند کو ضرورت سے زیادہ اسپن دینا مؤثر نہیں رہتا کیونکہ اس صورت میں بلے باز کو آؤٹ کرنا، ایل بی ڈبلیو کرنا یا کیچ کروانا مشکل ہوجاتا ہے۔
سلیکٹرز اور کپتان کا کردار
اقبال قاسم نے قومی سلیکشن کمیٹی میں اپنے دور کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کے اسکواڈ کے انتخاب اور پلیئنگ الیون کے انتخاب میں سلیکٹرز اور کپتان کے کردار الگ ہوتے ہیں۔
انہوں نے سابق کپتان مصباح الحق اور آل راؤنڈر شاہد آفریدی سے متعلق واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ذکا اشرف اور مصباح سے واضح کیا تھا کہ بہترین 16 کھلاڑیوں کا انتخاب سلیکٹرز کا اختیار ہے جبکہ پلیئنگ الیون کا فیصلہ کپتان کی ذمہ داری ہے۔
اقبال قاسم کے مطابق مصباح الحق شاہد آفریدی کو کھلانا نہیں چاہتے تھے جس پر انہوں نے کہا کہ یہ کپتان کا اختیار ہے لیکن آفریدی کو دورے کے لیے منتخب کیے گئے اسکواڈ سے خارج نہیں کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری
اقبال قاسم نے واضح کیا کہ اگر کپتان کسی کھلاڑی کو پلیئنگ الیون میں شامل نہ کرے تو یہ اس کا اختیار ہے تاہم اسکواڈ کے انتخاب کا فیصلہ سلیکٹرز کے دائرہ کار میں آتا ہے۔











