ہم یوم آزادی اپنے شہدا اور غازیوں کو سراہنے کے لیے مناتے ہیں، کم عمر ترین رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی

جمعہ 14 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے نوجوان رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی کا کہنا ہے کہ یوم آزادی محض ایک جشن یا رسمی تقریب کا نام نہیں بلکہ یہ ان شہدا اور غازیوں کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور بقا کے لیے اپنی جان، مال اور صلاحیتیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ یوم آزادی ہمیں ان عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ملک کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔

یوم آزادی کے سلسلے میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ 14 اگست ہر پاکستانی کے لیے ایک ذمہ داری اور فرض کی یاد دہانی ہے۔ جو لوگ آج آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں انہیں ان افراد کو ضرور یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اس آزادی کے حصول اور اس کے تحفظ کے لیے نسل در نسل قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حفاظت اور اس کی آزادی کے تحفظ کے لیے آج بھی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار، سویلینز، بیوروکریٹس، کاروباری افراد، میڈیا سے وابستہ لوگ اور معاشرے کے مختلف طبقات اپنی اپنی سطح پر کردار ادا کر رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ملک کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ پاکستان صرف سیاسی عمل کے نتیجے میں قائم نہیں ہوا بلکہ اس کے قیام کے پیچھے قربانی، خون اور پسینے کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ یوم آزادی ہمیں اپنے ماضی کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یومِ آزادی کی تقریبات ہمیشہ اپنے لوگوں کے ساتھ منانے کو ترجیح دیتے ہیں خواہ یہ تقریبات ان کے حلقے، گاؤں یا ملک کے مختلف شہروں میں ہوں۔ ان کے مطابق عوام کے ساتھ وقت گزارنا اور نوجوان نسل کے مسائل، خیالات اور امیدوں کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

نوجوان پاکستان کا مستقبل اور امید ہیں

نوجوانوں کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو درپیش مسائل میں موجود خلا کو دور کرنے کے لیے انہیں مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف سراہنے تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں بااختیار، متحرک اور پُراعتماد بنانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان خود کو کمزور یا بے اثر نہ سمجھیں بلکہ اس ملک کا اہم فرد اور ستون سمجھیں، کیونکہ ان کے بغیر پاکستان کا مستقبل نامکمل ہے۔ اگر نوجوان اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کے ساتھ عملی میدان میں اتریں گے تو وہ نظام میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ جب تک ملک کا نوجوان قوم کی امید بن کر میدان میں نہیں اترے گا مایوسی کے خاتمے میں مشکلات برقرار رہیں گی۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ 14 اگست کے موقع پر امید، ذمہ داری اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کریں۔

ہر شعبے میں مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت

جمال رئیسانی نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر صرف سیاست دانوں کی ذمہ داری نہیں۔ نوجوان کاروبار، ٹیکنالوجی، سیاست، میڈیا، بیوروکریسی اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہر پاکستانی اپنے حصے کا چھوٹا یا بڑا مثبت کردار ادا کرے تو وہ نظام جس پر کئی دہائیوں سے تنقید کی جاتی رہی ہے اسے بتدریج تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ان کا مزید کہا تھا کہ تبدیلی کسی ایک فرد یا ادارے سے نہیں بلکہ اجتماعی کردار اور ذمہ داری کے احساس سے آئے گی۔

100 سالہ پاکستان کیسا ہوگا؟

جمال رئیسانی نے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کا پاکستان گزشتہ پاکستان سے مختلف ہے اور آنے والے برسوں میں ملک مزید تبدیل ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان اپنے قیام کے 79 سال مکمل کرنے کے قریب ہے اور آئندہ سال 80 سال کا سفر مکمل کرے گا جبکہ 2 دہائیوں بعد پاکستان اپنی 100ویں سالگرہ منائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ 100 سالہ پاکستان صرف عمر کے اعتبار سے آگے بڑھا ہوا ملک نہ ہو بلکہ اس کی قیادت، بیوروکریسی، میڈیا، سیکیورٹی فورسز اور دیگر اہم شعبوں میں نوجوان باصلاحیت افراد آگے بڑھ کر ملک کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والی نسل کو ایسا پاکستان دینا ہوگا جہاں نوجوان صرف مستقبل کی امید نہ ہوں بلکہ ملک کے موجودہ نظام اور فیصلہ سازی کا فعال حصہ بھی ہوں۔

جمال رئیسانی نے یوم آزادی کے موقع پر نوجوانوں کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ مایوسی کے بجائے امید کو اپنا شعار بنائیں، پاکستان کے محافظ بنیں اور جس شعبے میں بھی کام کر رہے ہیں، وہاں اپنی صلاحیتوں کو ملک کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان ذمہ داری، امید اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں تو پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور بہتر مستقبل کی طرف لے جایا جاسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp