انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، متعدد ہلاکتیں، امدادی کارروائیاں جاری

ہفتہ 15 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقی انڈونیشیا کے جزیرے فلوریس کے قریب آنے والے 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ مختلف علاقوں سے اب تک کم از کم 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔

زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوگئے، جبکہ امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹا کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

20 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق

ریسکیو حکام کے مطابق جزیرے کے 4 مختلف قصبوں سے کم از کم 20 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 6 افراد زخمی ہیں اور 2 افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

ایک ریسکیو اہلکار نے امدادی کارروائیوں کا بنیادی مقصد ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ امدادی سرگرمیوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مشکلات پیش آرہی ہیں، کیونکہ متعدد سڑکیں مٹی کے تودے گرنے سے بند ہوگئی ہیں۔

زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ناگیکیو میں شہری ہفتے کی صبح اس وقت بلند مقامات کی طرف بھاگنے لگے جب زلزلے کے بعد سمندر کا پانی اچانک پیچھے ہٹتا دکھائی دیا۔

سمندر کی سطح میں اس تبدیلی کو ممکنہ سونامی کی علامت سمجھتے ہوئے حکام نے ابتدائی طور پر سونامی وارننگ جاری کی، تاہم بعد میں یہ وارننگ ختم کردی گئی۔

اس کے باوجود شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ متاثرہ اور نقصان زدہ عمارتوں میں واپس نہ جائیں کیونکہ مسلسل آفٹر شاکس کے باعث مزید عمارتیں منہدم ہوسکتی ہیں۔

زلزلے کے بعد درجنوں آفٹر شاکس محسوس کیے جاچکے ہیں، جن میں سب سے طاقتور کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی۔

ناگیکیو کے 56 سالہ رہائشی نے بتایا کہ زلزلے کے وقت وہ ایک مارکیٹ میں موجود تھے۔

ان کے مطابق زمین زور سے ہلنے لگی، تاہم خوش قسمتی سے ان کا خاندان پہلے ہی گھر سے باہر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ خوفزدہ ہوکر ادھر ادھر بھاگ رہے تھے اور عارضی طور پر محفوظ مقامات اور پہاڑی علاقوں کی جانب منتقل ہورہے تھے۔

متاثرہ خطے میں زیادہ تر چھوٹے قصبے اور دیہات واقع ہیں اور یہاں بلند و بالا عمارتوں کی تعداد بہت کم ہے۔

انڈونیشیا کی محکمہ موسمیات، آب و ہوا اور جیو فزکس ایجنسی نے زلزلے کے فوراً بعد ممکنہ سونامی کی وارننگ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو بلند مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔

متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد کو پیدل، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے ذریعے نقل مکانی کرتے دیکھا گیا، جبکہ کئی افراد پک اپ گاڑیوں میں سوار ہوکر محفوظ مقامات کی جانب گئے۔

ایجنسی کے زلزلہ اور سونامی ڈائریکٹر نے بتایا کہ سونامی وارننگ ختم کردی گئی ہے، تاہم سمندر کی سطح پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

فلوریس میں 1992 میں بھی تباہ کن زلزلہ آیا تھا

انڈونیشیا اور اس کے پڑوسی ممالک بحرالکاہل کے ’رنگ آف فائر‘ میں واقع ہونے کے باعث زلزلوں کی زد میں رہتے ہیں۔ یہ خطہ جاپان سے جنوب مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے وسیع علاقے تک پھیلے ہوئے شدید زلزلہ خیز زون پر مشتمل ہے۔

فلوریس میں 1992 میں بھی 7.7 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں سونامی پیدا ہوئی اور قریباً 2 ہزار 500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انڈونیشیا کی تاریخ کے بڑے زلزلے

انڈونیشیا میں 2004 میں سماٹرا کے ساحل کے قریب آنے والے 9.1 شدت کے زلزلے نے ایک تباہ کن سونامی کو جنم دیا تھا، جس کے نتیجے میں پورے خطے میں قریباً 2 لاکھ 20 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں قریباً ایک لاکھ 70 ہزار ہلاکتیں صرف انڈونیشیا میں ہوئی تھیں۔ یہ سانحہ جدید تاریخ کی مہلک ترین قدرتی آفات میں شمار ہوتا ہے۔

2018 میں جزیرے لومبوک میں آنے والے شدید زلزلے اور اس کے بعد کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے جھٹکوں کے نتیجے میں لومبوک اور قریبی سمباوا میں 550 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی سال جزیرہ سولاویسی کے شہر پالو میں 7.5 شدت کے زلزلے کے بعد آنے والی سونامی نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس میں 4 ہزار 300 سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتا ہوگئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سیلینا گومز اور والدہ لاکھوں ڈالرز فراڈ کے مقدمہ میں پھنس گئیں

سابق فوجیوں کی فیلڈ مارشل کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ میں بھرپور شرکت، پاک فوج کی قیادت پر اعتماد کا اظہار

بھارت میں زیر تعمیر سرنگ میں پانی بھرنے اور ملبہ گرنے سے 7 مزدور ہلاک

مقبوضہ کشمیر: قابض بھارتی حکام نے میرواعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا

مقبوضہ کشمیر: ادھم پور میں بھارت نواز ملیشیا کے رکن کی فائرنگ، ساتھی ہلاک، ایک زخمی

ویڈیو

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی