چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

ہفتہ 15 اگست 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کسی شخص کو سچا یا جھوٹا ثابت کرنے کے لیے دنیا میں جتنی بھی آزمائشیں ہیں، چربیلی یا انگاروں پر چلنا ان سب میں بھیانک آزمائش ہے۔ چربیلی ایک جانب صاحبان عقل و دانش کو سمجھ نہیں آتی تو دوسری جانب سائنس بھی اس کو درست نہیں سمجھتی۔ اس میں ہوتا یوں ہے کہ جس شخص یا افراد پر کوئی الزام ہوتا ہے، اسے خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے سرخ انگاروں سے بھری ہوئی خندق پر چلنا ہوتا ہے۔ جب وہ یہ خندق عبور کرکے باہر نکلتا ہے تو وہاں کھڑے ہوئے مددگار اسے اٹھا کر، اس کے پاؤں بکرے کے تازہ خون میں ڈبوتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے پیروں کو صاف کیا جاتا ہے۔ اگر اس کے پیروں پر جلنے کے نشان ہوں تو اسے مجرم سمجھا جاتا ہے، دوسری صورت میں اسے بے گناہ قرار دیا جاتا ہے اور اسے حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ الزام لگانے والوں سے جرمانہ طلب کرے۔ چربیلی کی یہ رسم آج کل کم ہوگئی ہے لیکن اس کا زور زیادہ تر بلوچستان یا اس سے ملحقہ سندھ کے شمالی علاقوں میں رہا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ آگ کا کام جلانا ہے پھر چربیلی کی رسم میں آخر ایسا کیا راز پوشیدہ ہے کہ سرخ انگاروں پر چلنے کے باوجود ملزم کے پاؤں نہ جلتے ہیں، نہ ہی ان پر آبلے پڑتے ہیں اور نہ ہی اسے درد محسوس ہوتا ہے۔

چربیلی کرانے کا فیصلہ عموماً جرگے کے سردار دیتے ہیں، جس پر عملدرآمد کے لیے کسی بزرگ کو مقدم مقرر کیا جاتا ہے۔

چربیلی کی خندق عموماً 9 فٹ لمبی رکھی جاتی ہے اور اس کی گہرائی ڈھائی سے تین فٹ ہوتی ہے، جس میں خشک موٹی لکڑیاں جلا کر انگارے بنائے جاتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ اگر مقدم ملزم یا مجرم سے مل جائے تو وہ انہیں فائدہ دے سکتا ہے۔ یہ فائدہ اس طرح دیا جاتا ہے کہ ایک تو خندق کی لمبائی کم رکھی جاتی ہے، دوسرے اس کی گہرائی بھی بہت کم رکھی جاتی ہے تاکہ اس کے اندر انگاروں کی ایک ہی تہہ بچھائی جا سکے۔ انگاروں کے بیچ میں بھی مقدم تھوڑے تھوڑے فاصلے پر خالی زمین چھڑوا دیتا ہے۔ ملزم اس زمین پر ایڑیاں رکھتا ہوا بڑی سہولت کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی سہولت جو مقدم دے سکتا ہے، وہ یہ ہوتی ہے کہ انگاروں پر چل کر جب ملزم یا مجرم باہر نکلتا ہے تو اس کے پاؤں ڈبونے کے لیے بکرے کے خالص خون کا انتظام کیا جاتا ہے۔ بکرے کے خالص خون میں ایک کیمیائی جز Fibrine ہوتا ہے۔ یہ پروٹین جلی ہوئی جلد پر ایک تہہ بن کر چڑھ جاتا ہے، جس سے تکلیف میں کمی آجاتی ہے۔ اگر مقدم بکرے کے خون کے بجائے بھیڑ یا کسی اور جانور کا خون پرات میں ڈلوا کر رکھے تو ملزم بے گناہ ہوکر بھی مجرم بن جائے گا کیونکہ بھیڑ کے خون میں Fibrine نام کا پروٹین نہیں ہوتا۔ چربیلی والے ملزمان کو ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ عموماً دیہاتی کسان ہوتے ہیں جو گرمی سردی میں ننگے پاؤں پھرنے کے عادی ہیں۔ ان کے پاؤں کے تلوے اتنے سخت ہو چکے ہوتے ہیں کہ کانٹا بھی ان کو لگ کر ٹوٹ جاتا ہے۔ ایسا شخص جب انگاروں کے اوپر سے چل کر جاتا ہے تو اسے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ ملزم چربیلی منعقد ہونے کی تاریخ سے پہلے ہی چار سیانوں کے کہنے پر اپنی ایڑیوں پر چلنے کی مشق کرتا ہے کیونکہ لوک دانش کے مطابق انسان کی ایڑی کے اندر ایسی مضبوطی ہوتی ہے کہ وہ سخت آزمائش میں بھی درد کا پیغام دماغ تک پہنچنے نہیں دیتی۔ اس طرح یہ مشق کرکے جب وہ آگ پر ایڑیوں کے بل چلتا ہے تو اسے کم تکلیف ہوتی ہے۔ سخت جغرافیائی حالات اور ماحول بھی آدمی کو اتنا سخت جان کردیتا ہے کہ اس کے دماغ کی مزاحمتی قوت عام انسانوں کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ قوت بھی اسے آگ پر چلنے میں مدد دے جاتی ہے۔

لیکن جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ آگ کا کام قدرتی طور پر جلانا ہی ہے پھر بھی چربیلی میں اکثر و بیشتر ملزمان کے پاؤں صاف رہتے ہیں۔ اس کے پیچھے کیا راز ہو سکتا ہے؟ یہ جاننے کے لیے لوک دانش یہ سائنس خاص طور پر کیمسٹری کی معلومات ہونا ضروری ہے۔ ایک کیمیکل جسے کیمسٹری میں Camphor کہا جاتا ہے اور ہم اسے کافور کے نام سے جانتے ہیں۔ چربیلی کے ملزمان اس سے کام لیتے ہیں۔ یہ کافور پیٹرول کی طرح ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے اور اس کی خاص خوبی یہ ہے کہ یہ آگ کی جلن سے محفوظ رکھتا ہے۔ مقدم ملزمان کے ساتھ معاملہ طے کرکے انہیں بے گناہ ثابت کرنے کی 100 فیصد ضمانت دیتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ وہ ان کے پیروں پر دم کیا ہوا پانی لیپ کرے گا، جس کے اثرات سے آگ انہیں کچھ نہیں کہے گی۔ جب کہ اصل حقیقت یہ ہوتی ہے یہ دم کیا ہوا پانی نہیں ہوتا بلکہ کافور ہوتا ہے جو آگ کے اثرات بھی ختم کردیتا ہے اور آبلے پڑنے بھی نہیں دیتا۔ ملزم چربیلی سے چند گھنٹے پہلے مقدم کا دیا ہوا کافور پیروں کے تلوؤں سے لےکر پنڈلیوں اور گھٹنوں تک مل دیتا ہے۔ اس طرح اس جگہ پر کافور کی تہہ چڑھ جاتی ہے۔ جب وہ انگاروں سے گزرتا ہے تو اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی، نہ ہی آگ کے نشانات پڑتے ہیں۔ اس کے بعد جب وہ اپنے پاؤں بکرے کے خالص خون میں ڈبوتا ہے تو اس میں موجود پروٹین Fibrine اس کے جسم پر ایک اور تہہ چڑھا دیتا ہے۔ یوں ملزم چربیلی سے بے گناہ بن کر باہر نکل آتا ہے۔ یہ سارا قصہ ملزم اور مقدم کے مابین ہونے والے معاہدے کی وجہ سے اس طرح طے پاجاتا ہے۔ دوسری صورت میں اگر ملزم اور مقدم کا آپس میں معاملہ طے نہ تو بے گناہ شخص بھی انگاروں پر چل کر مجرم ثابت ہوجائے گا کیوںکہ آگ کے اثرات اس کے پیروں اور پنڈلیوں پر ظاہر ہوجائیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp