ابنِ انشا مرحوم ایک بہترین مزاح نگار ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے، ان کی ایک غزل مجھے بہت پسند ہے۔
شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی
یا ہم ہی کو خبر نہیں ہوتی
قمر جلالوی جو کہ بر صغیر کے ایک عظیم شاعر گزرے انہوں نے بھی اس زمین میں طبع آزمائی کی۔ ان کی غزل کے مطلع کا مصرعہ ثانی پاک وطن کی موجودہ صورتِ حال کے پیرائے میں بالکل درست بیٹھتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں
شبِ غم کی سحر نہیں ہوتی
ہو بھی تو میرے گھر نہیں ہوتی
خیر، اگست کا مہینہ چل رہا ہے۔ پاکستان کو وجود میں آئے قریباً 80 سال چکے ہیں۔ اس ملک کی سیاست میں مختلف ادوار گزرے۔ جمہوریت، آمریت، صدارتی نظام اور پھر ‘ہائبرڈ نظام’ جو فی الوقت قائم ہے۔
مسئلہ یہاں یہ درپیش ہے کہ قائداعظم کی رحلت کے بعد اس ملک کی بدقسمتی رہی کہ کوئی بلند پایہ، بالغ نظر اور دور اندیش رہنما اسے میسر نہ آ سکا۔ جو بھی حکمران یا سیاسی جماعت اقتدار میں آئی، اس نے اپنے ذاتی و سیاسی مفادات کو قومی مفاد پر فوقیت دی۔ ہم اس ضمن میں تو کبھی سنجیدہ بات کرتے ہی نہیں کہ مصورِ پاکستان اور قائدِ اعظم کیسا نظام چاہتے تھے؟ اور آج ہم کس فرسودہ نظام کی پیروی کر رہے ہیں؟
حالیہ دنوں میں وزیرِ داخلہ نے فرمایا کہ پاکستان کا نظام ‘کولیپس’ یعنی مکمل تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موصوف نے بالکل بجا فرمایا۔ میں نے اپنے ایک انگریزی کالم میں لکھا تھا کہ یہ نظام ابھی نہیں، بلکہ خان لیاقت علی خان کی شہادت کے ساتھ ہی کولیپس کر گیا تھا۔ کیونکہ اس کے بعد اس ملک کو کوئی نظریاتی حکمران نصیب نہیں ہو سکا۔ جو بھی اقتدار میں آیا، اس نے ملکی سیاست، آئین اور نظامِ حکومت کو، معذرت کے ساتھ، اپنے گھر کی لونڈی سمجھا۔
مجھے اس ضمن میں آغا شورش کاشمیری کا ایک شعر یاد آرہا ہے جو یہاں لکھنا موزوں نہ ہوگا۔
البتہ آج جب اس نظام پر بحث گلی گلی اور قریہ قریہ پھیل چکی ہے تو میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ہم اور تمام عالم جس زہریلے نظام کے زیرِ اثر ہیں جس میں کیپٹل ازم، سودی بینکاری اور سرمایہ دارانہ نظام شامل ہیں، وہ بالیقین عام آدمی کے استحصال پر کھڑا ہے۔ امریکہ بہادر جسے جمہوریت کا چیمپئن سمجھا جاتا ہے، وہاں بھی صرف اربوں پتی افراد ہی سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہم جو اس فرسودہ نظام کو حجت گردانتے ہیں، ہماری سیاست میں بھی عام آدمی کی کوئی نمائندگی نہیں ہوتی۔
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام
کروڑوں روپے لگا کر جو کاروباری اشرافیہ سیاست میں قدم رکھتے ہیں، وہ اپنی اس سرمایہ کاری سے منافع کا تقاضا بھی کرتے ہیں۔ یہ بیماری ہماری جڑوں میں اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ اس کا تریاق اتنی آسانی سے ممکن نہیں۔ ابلیس نے اپنے چیلوں سے یہی تو کہا تھا کہ:
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اس نخلِ کہن کو سر نگوں؟
اب جب اس فرسودہ اور تباہ شدہ نظام (پاکستان کی شامِ غم) کو بدلنے کی بات چھڑے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی بنیاد ہی استوار نہ کی جائے؟ اگر زمین تیار کیے بغیر بنجر مٹی پر شجر کاری کی جائے گی تو اس کا انجام کیا ہوگا؟ حکیم الامت علامہ اقبال کو بھی یہی تشویش درپیش تھی جب انہوں نے اپنے مرشد مولانا روم سے سوال کیا۔ تو رومی نے انہیں یہی نقطہ سمجھایا۔
گفت رومی ہر بنائے کہنہ کہ آباداں کنند
می ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنند
رومی فرماتے ہیں کہ کسی بھی پرانی اور بوسیدہ عمارت کو تب تک صحیح معنوں میں آباد نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ پہلے اس کی بنیاد کو ویران یا منہدم نہ کر دیا جائے۔ اگر ہم ابھی آئین میں ترامیم کر کے بالفرض صدارتی نظام لے بھی آئیں تو اس سے کیا حاصل ہوگا؟ بنیاد تو وہی رہے گی، مسائل بھی وہی رہیں گے اور خمیر میں موجود برائیاں اور ابلیسی تخم بھی برقرار رہے گا۔
تاریخ بھی اس بات پر شاہد ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کس طرح رونما ہوتے ہیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد جب خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو آلِ سعود نے جزیرہ نما عرب میں عثمانی دور کی تمام جڑیں اکھاڑ پھینکیں اور اپنا ایک الگ سسٹم لے کر آئے۔
ترکیہ میں اتاترک نے عثمانیوں کے پرانے نظام کو درہم برہم کر کے ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی۔ روس میں بالشویک انقلاب نے زار کی بادشاہت، اس کی اشرافیہ اور بیوروکریسی کا نام و نشان تک مٹا دیا۔ اپنے پڑوس چین اور ایران پر نظر دوڑائیں۔ جب امام خمینی کا انقلاب آیا تو شاہ کا پورا نظام تہہ و بالا کر دیا گیا۔ چین میں عوام افیون کے عادی ہو چکے تھے لیکن ماؤ نے پرانے نظام کی جڑوں تک کو اکھاڑ پھینکا۔
اسی لیے میں ابنِ انشاء کے شعر پر قمر جلالوی کے مصرعہ کو پسند کرتا ہوں اور فوقیت بھی دیتا ہوں۔ کیونکہ اوروں کے ہاں تو شامِ غم کی سحر ہو جاتی ہے لیکن ہمارے گھر میں 75 سالوں سے زائد گزرنے کے بعد بھی نہیں ہو رہی۔ اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ پاک وطن کے ساتھ ہوا یہ کہ قراردادِ مقاصد کے بعد، اقبال و جناح جس پاکستان کی تکمیل چاہتے تھے اور جس انگریزی نظام کو تہہ و بالا کر کے جو نظام نافذ کرنا چاہتے تھے اسے آنے والی نسلوں نے فراموش کر دیا۔
ملک جاگیرداروں، آمروں اور ضمیر فروش ملاؤں کے ہاتھ میں رہا، آئین آن آن ٹوٹتا رہا اور عوام خوابِ غفلت میں مدہوش رہے۔
اب جبکہ یہ بحث چھڑ ہی چکی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ جن پرانے اور بوسیدہ خیالات و نظریات پر یہ ملک کھڑا ہے، انہیں مسمار کیا جائے اور اقبال و جناح کی فکر پر اس ریاست کی بنیاد رکھی جائے۔ ورنہ ہماری شامِ غم کی کبھی سحر نہیں ہوگی اور ہم وہی لکیر پیٹتے رہیں گے، حاصل کچھ ہوگا نہیں۔
خیالِ زلفِ دوتا میں نصیر پیٹا کر
گیا ہے سانپ نکل، تو لکیر پیٹا کر!
ہر پاکستانی اس کرب کو گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔ ہر محبِ وطن شہری چاہتا ہے کہ ایک ایسا نظام آئے جو اس کے حقوق کا تحفظ کرے، جہاں اسے خوشحالی، روزگار اور تعلیم نصیب ہو۔ لیکن اس استحصالی نظام میں یہ ہرگز ممکن نہیں۔
پیارے وطن پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے 79 برس ہو چکے ہیں۔ ہم عزمِ مصمم کے ساتھ امید کرتے ہیں کہ پاکستان بالآخر اپنے بانیان کی فکر اور اسلامی قوانین کے مطابق ایک حقیقی اور فلاحی ریاست کے طور پر تکمیل پائے گا، انشااللہ!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














