انکار کا اعزاز

اتوار 16 اگست 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی تاریخ میں سرکاری ایوارڈ لینے سے انکار کرنے والے حضرات ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں، جب کہ اصول کی بنیاد پر حکومتِ وقت کو ایوارڈ لوٹانے والے اس سے بھی کم ہیں۔

بعض دفعہ ایوارڈ وصول کرنے سے زیادہ اسے واپس کرنے والوں کی قامت اور توقیر میں اضافہ ہوتا ہے۔ برصغیر میں اس کی سب سے بڑی مثال رابندر ناتھ ٹیگور کی ہے جنہوں نے 1919 میں جلیاں والا باغ میں جنرل دائر کے حکم پر نہتے شہریوں کے قتلِ عام پر احتجاجاً سر کا خطاب واپس کر دیا اور وائسرائے ہند کے نام ایک سخت خط لکھا تھا۔

ادیب، صحافی اور فن کار کسی معاشرے کا ضمیر ہوتے ہیں۔ سرکاری اعزازات کو قبول و رد کرنا ان کا انفرادی فیصلہ ہوسکتا ہے البتہ جب اس قبیلے سے تعلق رکھنے والا فرد حرفِ انکار بلند کرتا ہے تو یہ اس کا امتیاز بن جاتا ہے۔

پاکستان میں ہر سال حکومتی ایوارڈز کی بندر بانٹ میں صحافی بھی اپنا حصہ وصول کر کے ہی رہتے ہیں اور پھر تنقید کی زد میں آتے ہیں۔ اس تیرہ و تار ماحول میں ایک اجلے آدمی ضمیر نیازی کا تذکرہ کرنے کو میرا جی چاہا ہے جنہوں نے ایوارڈ اور اس کے ساتھ ملنے والی رقم واپس کرکے عزت کمائی تھی۔

سرکار کے ساتھ ان کی اصول پسندی کا یہ واحد ٹکراؤ نہیں تھا۔ ان کی زندگی میں اور بھی کئی مواقع آئے جب تولے جانے پر وہ ہلکے ثابت نہیں ہوئے۔

ضمیر نیازی کا مع 50 ہزار کے تمغۂ  حسنِ کارکردگی واپس کرنا ہو، گورنر کا چیک ہو، وفاقی حکومت کی طرف سے امدادی رقم کا معاملہ یا پھر ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری لینے کے لیے گورنر ہاؤس جانے سے انکار، سب واقعات پیپلز پارٹی کے ادوار میں ہوئے تھے۔

1995 میں صدر فاروق احمد خان لغاری نے صحافت میں ان کی خدمات پر تمغۂ حسن کارکردگی دیا تھا جسے انہوں نے اسی سال کراچی میں شام کے 6 اخبارات بیک جنبشِ قلم بند کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاجاً واپس کر دیا تھا کیوں کہ ان کے نزدیک ایم پی او کے تحت یہ اقدام آزادیِ صحافت پر کھلا حملہ تھا جس کی نظیر فوجی حکومتوں کے دور میں بھی نہیں ملتی تھی۔

معروف ادیب ڈاکٹر اسلم فرخی نے ’آنگن میں ستارے‘ میں ان کے خاکے ’کچھ احوال اپنے ضمیر کا‘ میں لکھا ہے:

’بظاہر نیازی صاحب بڑے حلیم الطبع، بردبار اور نرم مزاج ہیں مگر جب آزمائش کی گھڑی آتی ہے تو یہی بردبار اور نرم مزاج درویش صحافی انتہائی پامردی اور جرأت کے ساتھ ان اعزازات کو ٹھکرا دیتا ہے جن کے حصول کے لیے اربابِ اشتیاق سر گاڑی پیر پہیہ بن جاتے ہیں… میرا خیال ہے کہ  نیازی صاحب ملکی تاریخ میں سرکاری اعزاز واپس کرنے والے اولین صاحبِ کردار بزرگ ہیں۔ ان کے بے جھجک انداز عمل سے مرزا غالبؔ کا مصرع ’وگر ز شاہ رسد ارمغاں بگر دانیم‘ یاد آتا ہے۔‘

غالب کا شعر کچھ یوں ہے….!

اگر ز شحنہ بود گیر و دار نندیشم

وگر ز شاہ رسد ارمغاں بگردانیم

ترجمہ: صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

اگر کوتوال کی طرف سے کوئی گرفت ہو تو ہم بے خوف رہیں اور اگر ایسے میں بادشاہ بھی کوئی تحفہ بھیجے تو اس تحفے کو لوٹا دیں۔

1990 میں گورنر سندھ فخر الدین جی ابراہیم ان کی خیریت دریافت کرنے آئے تو جاتے ہوئے 50 ہزار کا چیک چھوڑ گئے جس کے ساتھ یہ پیغام بھی تھا کہ اسے صحافت میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں دیا جا رہا ہے۔

ضمیر نیازی نے اس عنایتِ خسروانہ کو قبول نہیں کیا اور اسے واپس کرتے ہوئے اس کے ساتھ خط میں اپنا نظریۂ صحافت بھی بیان کر دیا۔

’میں اس اصول کا قائل ہوں کہ رپورٹروں کے علاوہ ہر صحافی کو اپنے اور بااقتدار طبقے کے درمیان مناسب فاصلہ رکھنا چاہیے۔ اسے نقد رقم یا کسی اور صورت میں کوئی اعزاز یا انعام قبول نہیں کرنا چاہیے۔ میرے اصول شاید دقیانوسی لگیں، لیکن میں نہایت عاجزی سے انہی پر کاربند رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔

35 برس سے زیادہ ہونے کو آتے ہیں کہ میں اپنی بساط کے مطابق خوف و خطر سے بے نیاز ہو کر اور ستائش کی تمنا اور صلے کی پروا کیے بغیر ایمانداری سے صحافت کے پیشے کی خدمت میں مصروف ہوں اور میرا ذاتی فلسفہ، مجھے مجبور کر رہا ہے کہ میں آپ کا بھیجا ہوا چیک واپس کر دوں۔‘

1994 میں حکومت نے ایک بھونڈا مذاق یہ کیا کہ ضرورت مند اور ناداروں کے لیے مختص امدادی رقم سے 40 ہزار کا چیک بھجوایا  تو جسور و غیور ضمیر نیازی کو بہت تکلیف ہوئی اور انہوں نے اسے حکومت کے منہ پر مارنے میں اس دفعہ بھی تاخیر نہیں کی۔

اسلم فرخی کے بقول ’نیازی صاحب کی اس توہین اور بے توقیری پر معروف صحافی غازی صلاح الدین نے دی نیوز میں کالم لکھا۔ پڑھنے والے چونکے مگر کمان سے نکلا تیر کب واپس آیا ہے۔‘

1996 میں ضمیر نیازی کو کراچی یونیورسٹی نے اعزازی ڈگری دینے کا اعلان کیا تو انہوں نے اسے گورنر ہاؤس کے بجائے کراچی یونیورسٹی میں لینے پر اصرار کیا۔ ان کے دوستوں اور وائس چانسلر نے بہتیرا سمجھایا لیکن وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔

بااصول انسان، پاکستانی صحافت پر وقیع تصانیف کے مصنف اور سرکار سے ٹکر لینے نے انہیں مزاحمت کی سپاہ کا وہ رجز گزار بنا دیا تھا جس پر صحافت فخر کر سکتی ہے۔

تمغۂ حسن کارکردگی لوٹانے کے 2 سال بعد ضمیر نیازی کو انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے نثار عثمانی ایوارڈ دیا۔ ایک ساونت صحافی سے منسوب یہ ایوارڈ سرکاری ایوارڈ سے کہیں بڑھ کر ذریعۂ عزت ہے۔

معروف دانشور راحت سعید نے لکھا تھا:

’ضمیر نیازی جو اس سے قبل حکومت کی جانب سے دو مالی عنایات اور ایک سرکاری اعزاز مسترد کر چکے ہیں، اس غیر سرکاری مگر محترم اعزاز کے حقیقی مستحق تو ہیں ہی لیکن یہ اعزاز ان کے لیے باعثِ افتخار بھی ہے کیونکہ یہ ملک میں آزادیِ صحافت، انسانی حقوق اور سماجی انصاف کے لیے جدوجہد کے ان تھک و بے باک مجاہد نثار عثمانی کے نام سے منسوب ہے اور ان کی یادگار کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ پہلی بار یہ اعزاز انگریزی ماہنامے نیوز لائن کی مرحوم مدیر رضیہ بھٹی کو دیا گیا تھا۔‘

ضمیر نیازی کے اس تذکرے کو ہم ایوارڈ لوٹانے کی ایک اور مثال سے روشن کرتے ہیں کیوں کہ پاکستان میں اس طرح کی مثالیں ڈھونڈے سے ہی ملتی ہیں اور اس کے لیے بھی ماضی میں بہت پیچھے جانا پڑتا ہے۔

پاکستان ٹائمز اور ویو پوائنٹ کے ایڈیٹر اور ممتاز صحافی مظہر علی خان کی اہلیہ طاہرہ مظہر علی خان نے بھی اپنے مرحوم شوہر کو ملنے والا ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کیا تھا۔

معروف صحافی اور دی نیوز آن سنڈے کی سابق ایڈیٹر فرح ضیا نے 1993 میں طاہرہ مظہر علی خان کے فرنٹیئر پوسٹ میں پروفائل کا آغاز جس قصے سے کیا تھا اس پر ہم اپنی بات ختم کرتے ہیں:

’انہوں نے اپنے مرحوم خاوند کو ملنے والا ستارہ امتیاز ٹھکرا دیا۔ اس لیے نہیں کہ وہ حکومت وقت کی توہین کرنا چاہتی تھیں، جس کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک کام کر رہی ہے بلکہ اس لیے کہ ساری زندگی تو مظہر علی خان کے ساتھ پاکستان دشمنوں جیسا سلوک کیا گیا تھا۔‘

کن کی طرف سے؟ ’تقریباً ہر حکومت کی طرف سے۔‘ اور اب وہ سوچ رہے تھے کہ بیوہ سر ڈھانپے ہوئے ستارہ امتیاز حاصل کرنے کے لیے چلی آئے گی۔

بہت سے لوگوں کا خیال تو یہ بھی تھا کہ اعزاز دینا اس بات کی نشاندہی تھی کہ ریاست نے مظہر علی خان کی خدمات کو تسلیم کر لیا تھا۔ لیکن میں نے کہا نہیں۔ وہ ان کی خدمات کو تسلیم کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ ہمیں ان کی تصدیق کی ضرورت نہیں۔ مظہر بھی اسے کبھی قبول نہ کرتے اس لیے میں نے بھی انکار کر دیا۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یوم آزادی پریڈ میں بگھی کے استعمال پر آئی جی اور چیف کمشنر تنقید کی زد میں، محسن نقوی دفاع میں سامنے آگئے

خیبر پختونخوا کے مزید 4 تاریخی مقامات یونیسکو کی فہرست میں شامل

پاکستان ریلوے کا سب سے بڑا منصوبہ، ایم ایل ون: کام کب شروع ہوگا؟

جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے مذاکرات کی پیشکش

لبرٹی کا کیپری سینما جہاں ٹکٹیں خریدنے والوں کی طویل قطاریں لگتی تھیں

ویڈیو

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ماضی کی حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی، نواز شریف

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی