بیرسٹر گوہر کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئی یا نہیں؟

اتوار 16 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں مبینہ ملاقات کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے دعویٰ کیا ہے کہ بیرسٹر گوہر عمران خان سے ملاقات کرکے آئے ہیں، جبکہ دوسری جانب خود بیرسٹر گوہر نے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 15 اکتوبر 2025 کے بعد سے عمران خان سے نہیں ملے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ مانڈوی والا کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ بیرسٹر گوہر عمران خان سے ملاقات کرکے واپس آئے ہیں۔

تاہم سلیم مانڈوی والا کے دعوے کے فوری بعد بیرسٹر گوہرعلی خان نے اس کی واضح اور دوٹوک تردید کردی۔ جیو نیوز سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ 15 اکتوبر 2025 کے بعد عمران خان سے نہیں ملےاور اس عرصے کے دوران ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد مرتبہ ملاقات کی درخواست کی لیکن انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت یا پیشکش نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی طبیعت بالکل ٹھیک، بیرسٹر گوہر کی ان سے ملاقات بھی ہوئی ہے، سلیم مانڈوی والا کا انکشاف

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ وہ دوبارہ بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت طلب کریں گے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے اہل خانہ اور وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ اس بیان کے بعد سلیم مانڈوی والا کے دعوے کی تصدیق کے حوالے سے سوال مزید اہم ہوگیا ہے۔

پی ٹی آئی کے سابق رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے بھی بیرسٹر گوہر کی عمران خان سے حالیہ ملاقات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایسی کوئی ملاقات ہوئی ہے۔

شیر افضل مروت کے مطابق بیرسٹر گوہر کی والدہ کا انتقال ہوا ہے اور وہ اپنے آبائی علاقے میں موجود ہیں، جہاں لوگ ان سے تعزیت کے لیے آ رہے ہیں۔ ان حالات میں ان کے لیے اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے ملاقات کرنا بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ اگر بیرسٹر گوہر کی عمران خان سے ملاقات ہوئی بھی ہوتی تو اسے خفیہ رکھنے کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔ ان کے مطابق بیرسٹر گوہر ایسی ملاقات کی صورت میں پارٹی رہنماؤں کو ضرور آگاہ کرتے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی اور اس دوران کیا گفتگو ہوئی۔

سینیئر تجزیہ کار منیب فاروق نے بھی سلیم مانڈوی والا کے دعوے پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلیم مانڈوی والا ایک قابل احترام شخصیت ہیں، تاہم انہیں لگتا ہے کہ اس معاملے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔

منیب فاروق کے مطابق بیرسٹر گوہر کے محسن نقوی کے ساتھ اچھے تعلقات ضرور ہیں، تاہم اس کے باوجود ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہو پائی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ بیرسٹر گوہر کو ملاقات کی اجازت نہیں مل سکتی بلکہ اصل معاملہ پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے ردعمل کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایم این اے سہیل سلطان کیس: وفاقی حکومت کا جواب جمع، عدالت نے بیرسٹر گوہر کو مہلت دے دی

تجزیہ کار کے مطابق اگر بیرسٹر گوہر عمران خان سے ملاقات کرتے ہیں تو پارٹی کے بعض حلقوں میں اس پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ انہوں نے بالخصوص علیمہ خان کے قریبی حلقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے بعض سخت گیر عناصر بیرسٹر گوہر کے عمران خان سے رابطوں اور ملاقاتوں کو انتہائی حساس نظر سے دیکھتے ہیں۔

منیب فاروق کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر شاید اسی وجہ سے اپنی ذات کے لیے ملاقات پر زیادہ زور نہیں دیتے اور ترجیح دیتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں، اہل خانہ اور دیگر وکلا کو ملاقات کا موقع ملے۔ ان کے مطابق بیرسٹر گوہر اگر ملاقات کی خواہش ظاہر کریں تو ملاقات ممکن ہوسکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پارٹی کے اندر سیاسی ردعمل پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

سینیئر تجزیہ کار احمد ولید نے بھی بیرسٹر گوہر کی عمران خان سے ملاقات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر نے خود اس حوالے سے تردید کردی ہے۔

ان کے مطابق بیرسٹر گوہر اس وقت اپنی والدہ کے انتقال کے بعد اپنے آبائی علاقے میں موجود ہیں اور تعزیت کے لیے آنے والے افراد سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، اس لیے ان کا اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے ملاقات کرنا قرینِ قیاس نہیں۔

اصل حقیقت کیا ہے؟

موجودہ صورتحال میں ملاقات ہونے کا دعویٰ صرف سلیم مانڈوی والا کی جانب سے سامنے آیا ہے، جبکہ بیرسٹر گوہر نے خود اس دعوے کی واضح تردید کی ہے۔ مزید برآں شیر افضل مروت اور تجزیہ کاروں نے بھی ملاقات کے امکان پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

سیاسی طور پر یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ عمران خان سے ملاقاتیں اور ان سے براہِ راست رابطہ پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست میں انتہائی حساس معاملہ بن چکا ہے۔ بیرسٹر گوہر پارٹی کے چیئرمین ہونے کے باعث عمران خان سے ملاقات کے خواہاں رہے ہیں، تاہم ان کے مطابق 15 اکتوبر 2025 کے بعد انہیں ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp