تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے بڑے اصلاحاتی پیکیج کی تیاری، بورڈ اور خصوصی بینک کے قیام کی تجویز

اتوار 16 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے ملک میں تعمیراتی صنعت کو بحال، جدید اور تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے جامع اصلاحاتی پیکیج پر کام شروع کردیا ہے، جس میں کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ، خصوصی کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کے قیام، درآمد و برآمد کی پالیسیوں میں بہتری اور ٹیکس اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں۔

یہ پیشرفت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد خان چیمہ کی زیرصدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سامنے آئی، جس میں تعمیراتی شعبے سے متعلق ریگولیٹری، انتظامی اور مالیاتی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔

مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: تعمیراتی شعبے کی بحالی کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی تجویز

اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وفاقی سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیپٹن (ر) محمود، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے منیجنگ ڈائریکٹر، کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندوں اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

مجوزہ اصلاحات کے تحت کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ کو تعمیراتی صنعت کے فروغ کے ساتھ ساتھ شعبے کے معیار، کنٹریکٹرز اور کنسلٹنٹس کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی جائے گی۔

بورڈ میں سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ ملک بھر میں تعمیراتی معیار بہتر بنانے کیلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا جاسکے۔

سینیٹر احد چیمہ نے کہاکہ وفاقی حکومت اور کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان تعمیراتی شعبے کیلئے ایسے ادارے کے قیام کی ضرورت پر مکمل طور پر متفق ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کا مجوزہ فریم ورک حتمی منظوری کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کیا جائے گا۔

تعمیراتی منصوبوں کے لیے ذمہ داری کا دورانیہ بڑھانے کی تجویز

حکومت نے سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں تعمیراتی نقائص کی ذمہ داری کے مقررہ دورانیے میں بھی اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سینیٹر احد چیمہ کے مطابق عوامی ترقیاتی منصوبوں کے لیے موجودہ ایک سالہ ڈی ایل پی کو جلد بڑھا کر 3 سال کیا جائےگا، جبکہ مستقبل میں اسے 5 سال تک لے جانے کے لیے روڈ میپ بھی تیار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ شہری اور عوامی انفراسٹرکچر منصوبے مکمل ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد خراب نہیں ہونے چاہییں۔ ذمہ داری کی مدت بڑھانے سے کنٹریکٹرز اور منصوبوں پر عملدرآمد کرنے والے ادارے بہتر معیار برقرار رکھنے اور سرکاری اثاثوں کو قبل از وقت خراب ہونے سے بچانے پر زیادہ توجہ دیں گے۔

کنسلٹنٹس بھی احتساب کے دائرے میں آئیں گے

اجلاس میں تعمیراتی منصوبوں کے کنسلٹنٹس کے احتساب سے متعلق موجودہ قانونی خلا پر بھی غور کیا گیا۔

سینیٹر احد چیمہ نے نشاندہی کی کہ اس وقت ناقص کارکردگی یا معاہدے کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار موجود ہے، تاہم کنسلٹنٹس کے لیے اسی نوعیت کا مؤثر قانونی احتسابی نظام موجود نہیں۔

مجوزہ کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ کے تحت کنسلٹنٹس کو بھی براہ راست ریگولیٹری نگرانی میں لانے کی تجویز ہے، جس کے نتیجے میں ڈیزائن میں خامیوں اور تکنیکی غلطیوں پر انہیں قانونی اور مالی طور پر جواب دہ بنایا جاسکے گا۔

کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندوں نے بھی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ بہتر ڈیزائن اور عوامی سرمایہ کاری کے تحفظ کیلئے کنسلٹنٹس کا مؤثر احتساب ضروری ہے۔

تعمیراتی شعبے کے لیے خصوصی بینک کی تجویز

اجلاس میں تعمیراتی کمپنیوں کو مالی اور پرفارمنس گارنٹیز کے حصول میں درپیش مشکلات اور خصوصی کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔

سینیٹر احد چیمہ نے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے ساتھ باضابطہ مشاورت شروع کی جائے۔

انہوں نے کہاکہ خصوصی تعمیراتی بینک کے قیام کی تجویز پر اسٹیٹ بینک اور بینکس ایسوسی ایشن کی رائے حاصل کرنے کے بعد اس کی مالی استعداد اور فزیبلٹی کا جائزہ لیا جائے گا۔

مجوزہ اصلاحاتی پیکیج میں تعمیراتی صنعت کے لیے مخصوص ٹیکس مراعات اور درآمد و برآمد کی پالیسیوں کو بھی معقول بنانے کی تجاویز شامل ہیں، جن کا مقصد جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا اور ملک میں مقامی استعداد بڑھانا ہے۔

سینیٹر احد چیمہ نے کہاکہ حکومت کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر سرکاری انفراسٹرکچر منصوبہ کم لاگت، پائیدار اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل ہو۔

مزید پڑھیں: فی کس آمدنی میں اضافہ، پاکستان دنیا کی 42ویں بڑی معیشت بن گیا

انہوں نے واضح کیاکہ عوامی فنڈز قومی امانت ہیں اور ناقص تعمیر یا تکنیکی ڈیزائن کی خامیوں کے باعث ان کے ضیاع کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی اور ریگولیٹری دونوں ذمہ داریاں رکھنے والا آزاد ادارہ احتساب کا نظام مضبوط بنانے، تنازعات کے حل کو بہتر کرنے اور پاکستان کے تعمیراتی معیار کو عالمی معیار کے قریب لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp