فی کس آمدنی میں اضافہ، پاکستان دنیا کی 42ویں بڑی معیشت بن گیا

جمعرات 14 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی معیشت رواں مالی سال یعنی 26-2025 میں 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکی، جو حکومتی ہدف سے کم رہی۔

صنعتی اور تعمیراتی شعبوں کی سست روی کے باعث معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی، جس سے ملک میں بے روزگاری میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق معاشی شرح نمو میں سب سے زیادہ کردار خدمات کے شعبے نے ادا کیا، جبکہ صنعتی شعبہ 3.5 فیصد اور زرعی شعبہ 2.9 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل معیشت پاکستان کی ترقی کا نیا انجن بن سکتی ہے، شزا فاطمہ

مالی سال کے دوران ترسیلات زر میں اضافے، معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور شرح مبادلہ کے نسبتاً مستحکم رہنے کے باعث فی کس آمدنی بڑھ کر 1,901 ڈالر تک پہنچ گئی۔

اسی عرصے میں پاکستان کی معیشت کا حجم 452.1 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے بعد پاکستان دنیا کی 42ویں بڑی معیشت بن گیا۔

سیکریٹری منصوبہ بندی اویس منظور سمرا کی صدارت میں نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے 117ویں اجلاس میں رواں مالی سال کے ابتدائی 3 سہ ماہیوں کے اعداد و شمار کی بنیاد پر عبوری معاشی شرح نمو کی منظوری دی گئی۔

وزارت منصوبہ بندی کے مطابق حکومت 4.2 فیصد معاشی ترقی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

یہ شرح نہ صرف سرکاری ہدف بلکہ اسٹیٹ بینک کے 4.8 فیصد تک کے اندازوں سے بھی کم رہی، تاہم یہ عالمی مالیاتی فنڈ اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی پیش گوئیوں کے قریب رہی۔

پاکستان گزشتہ 4 برس سے معاشی استحکام کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، جن کے باعث قومی پیداوار متاثر ہوئی جبکہ غربت، بے روزگاری اور آمدنی میں عدم مساوات میں اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی معیشت میں بچت و سرمایہ کاری کا بحران

حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے بھی آئی ایم ایف کے ساتھ استحکام کی پالیسی جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے اور 2.8 کھرب روپے کے بنیادی بجٹ سرپلس کا ہدف تحریری طور پر دیا ہے۔

وزارت منصوبہ بندی کے مطابق ملکی معیشت کا مجموعی حجم 126.9 کھرب روپے یا 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

2023 کی مردم شماری کی بنیاد پر فی کس آمدنی 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 44 ہزار 511 روپے زیادہ ہے۔

زرعی شعبہ

زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے 1.53 فیصد کے مقابلے میں بہتر ہے۔ اہم فصلوں میں مجموعی طور پر 0.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

گندم کی پیداوار بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن ہو گئی، جو گزشتہ سال 2 کروڑ 84 لاکھ ٹن تھی۔

چاول کی پیداوار 10 ملین ٹن تک پہنچ گئی جبکہ گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 8 کروڑ 95 لاکھ ٹن رہی۔

تاہم کپاس کی پیداوار میں 0.5 فیصد کمی ہوئی اور یہ 71 لاکھ گانٹھوں تک محدود رہی، جبکہ مکئی کی پیداوار بھی 2.7 فیصد کم ہو کر 88 لاکھ ٹن رہی۔

صنعتی شعبہ

مالی سال 26-2025 میں صنعتی شعبے کی عبوری شرح نمو 3.51 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

ماہرین کے مطابق زیادہ ٹیکس، توانائی کی بلند قیمتیں، مہنگے قرضے اور غیر یقینی معاشی پالیسیوں نے صنعت کو شدید متاثر کیا۔

بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6.11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں خوراک، تمباکو، پیٹرولیم مصنوعات، ربڑ، الیکٹریکل آلات، آٹوموبائل، ٹرانسپورٹ آلات، فرنیچر اور فٹبال سازی کے شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں: ٹریڈ اینڈ انڈسٹریل فیئر کا آغاز، چینی گروپ کے پاکستانی اداروں سے متعدد معاہدے

تاہم بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 10.63 فیصد کمی اور تعمیراتی شعبے کی سست رفتار ترقی نے مجموعی صنعتی نمو کو محدود رکھا۔

تعمیراتی شعبہ 5.7 فیصد بڑھا، جبکہ گزشتہ سال اس کی شرح 8.8 فیصد تھی۔

حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی میں بھی 25 فیصد کمی ہوئی اور یہ 1.2 کھرب روپے سے کم ہو کر 893 ارب روپے رہ گئی۔

خدمات کا شعبہ

خدمات کے شعبے میں مالی سال کے دوران 4.1 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ ہول سیل اور ریٹیل تجارت، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج، اطلاعات و مواصلات، پبلک ایڈمنسٹریشن، سوشل سیکیورٹی اور تعلیم کے شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp