وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے تعمیراتی اور ہاؤسنگ شعبے کی بحالی کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
حکومت نے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی تجویز دی ہے تاکہ تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:بجٹ 27-2026: تنخواہ پر ریلیف، اب آپ کا کتنا ٹیکس کٹے گا، جانیے اس خبر میں!
وزیر خزانہ نے کہا کہ کنسٹرکشن سیکٹر پاکستان کی معیشت میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
کنسٹرکشن سیکٹر معیشت کا اہم ستون
قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران محمد اورنگزیب نے کہا کہ تعمیراتی شعبے سے بڑھ کر کوئی دوسرا شعبہ ایسا نہیں جو بیک وقت روزگار، سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے سکے۔
انہوں نے کہا کہ جب کنسٹرکشن سیکٹر ترقی کرتا ہے تو اس کے اثرات معیشت کے متعدد شعبوں پر مرتب ہوتے ہیں، جن میں سیمنٹ، سریا، شیشہ، ماربل، پینٹس، ٹائلز، ہارڈویئر اور دیگر درجنوں صنعتیں شامل ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ 40 سے زیادہ صنعتوں کی ترقی اور معاشی سرگرمیوں میں وسعت کا باعث بنتا ہے۔
جائیداد کی خریداری پر ٹیکس آدھا کرنے کی تجویز
حکومت نے فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کی تجویز پیش کی ہے۔ محمد اورنگزیب کے مطابق خریداری پر موجود 2.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کو کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے جائیداد کی خریداری کی لاگت کم ہوگی اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
فروخت پر ٹیکس بھی نمایاں کم ہوگا
وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ فائلرز کے لیے جائیداد کی فروخت پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:بجٹ 27-2026: فری لانسرز اور آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس رعایت میں توسیع؟
اس کے تحت فروخت پر موجود 5.5 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس سے پراپرٹی مارکیٹ میں لین دین کی لاگت میں واضح کمی آئے گی۔
تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کی توقع
محمد اورنگزیب نے اس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس شرحوں میں کمی کے نتیجے میں تعمیراتی شعبے میں نئی سرمایہ کاری آئے گی، ہاؤسنگ منصوبوں کو فروغ ملے گا اور ملک بھر میں تعمیراتی سرگرمیاں تیز ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد معیشت کے اس اہم شعبے کو دوبارہ متحرک کرنا ہے تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور اس سے وابستہ صنعتوں کو بھی ترقی مل سکے۔
پراپرٹی مارکیٹ اور صنعتوں کے لیے مثبت اشارہ
واضح رہے کہ اگر یہ تجاویز پارلیمنٹ سے منظور ہو جاتی ہیں تو پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری بڑھنے، تعمیراتی منصوبوں میں تیزی آنے اور متعلقہ صنعتوں کی پیداوار میں اضافے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔
بجٹ 27-2026 میں کنسٹرکشن سیکٹر کے لیے تجویز کردہ یہ ریلیف پیکیج حکومت کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا ہے۔













