نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت، ہم مطالبہ نہیں بلکہ تجویز کی حمایت کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال

اتوار 16 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ محض سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ بہتر طرز حکمرانی اور اختیارات کی مؤثر تقسیم کا مسئلہ ہے، ہم نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ نہیں بلکہ اس سوچ کی تائید کر رہے ہیں کہ بڑے صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرکے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔

نجی ٹیلیویژن کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی جماعت کی بنیادی سوچ یہ ہے کہ ملک میں انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ آج سے تقریباً 3 سال قبل بھی نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے بات شروع ہوئی تھی اور اس وقت سے مختلف حلقوں میں اس موضوع پر بحث جاری ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کئی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ سے بھی اس معاملے پر بات ہوئی ہے، جبکہ وفاقی کابینہ کے متعدد وزرا اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

انہوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق وفاقی وزرا خالد مقبول صدیقی، جام کمال، محسن نقوی اور علیم خان سمیت دیگر رہنما بھی نئے انتظامی یونٹس کے موضوع پر بات کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ بڑے صوبوں کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کے مسائل حل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہے۔ انہوں نے سندھ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد کی آبادی صوبے کی مجموعی آبادی کا بڑا حصہ ہے، لیکن موجودہ نظام میں ان شہروں کے عوام صوبائی حکومت کی تبدیلی میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتے۔

مصطفیٰ کمال نے کراچی کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس اربوں روپے کے وسائل ہونے کے باوجود شہر میں بنیادی سہولیات کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ ان کے مطابق کراچی میں پانی کی عدم دستیابی، نکاسی آب اور دیگر شہری مسائل نے لوگوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے، حتیٰ کہ شہر کو دنیا کے مشکل ترین رہائشی شہروں میں شمار کیا جانے لگا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مجھے محسن نقوی کی قابلیت پر کوئی شک نہیں، اگر وہ چاہیں تو نئے صوبے بن جائیں گے، مفتاح اسماعیل

انہوں نے کہا کہ اگر کسی بڑے شہر کی آبادی صوبے کا تقریباً 40 فیصد ہو لیکن وہ اپنے انتظامی معاملات اور حکومتی فیصلوں میں مؤثر اختیار نہ رکھتی ہو تو اس نظام پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کا مقصد کسی صوبے یا علاقے کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ انتظامی کارکردگی بہتر بنانا اور عوام کو ان کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اختیار دینا ہونا چاہیے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس کی حمایت کو سیاسی مطالبہ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ اصل بحث گورننس اور عوامی سہولت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، بڑے صوبوں میں شہریوں کے بنیادی مسائل مؤثر انداز میں حل کرنا مشکل رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر قومی سطح پر کھلے ذہن کے ساتھ بحث ہونی چاہیے اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر یہ دیکھا جانا چاہیے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کو کیا فراہم کر رہا ہے اور اسے کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ کا ایران سے ڈیل کے لیے خفیہ رابطہ، پاسداران انقلاب کو براہِ راست پیغام پہنچایا گیا، فوکس نیوز کا دعویٰ

معروف دوا صرف ایک بیماری تک محدود نہیں، تحقیق میں حیران کن طبی فائدہ سامنے آگیا

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی، لاہور اور پشاور میں دھرنے

آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں پر پولنگ 24 اگست کو، امیدواروں کے نام بھی سامنے آگئے

نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

ویڈیو

نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

اسلام ماخا چیف کی ’یو ایف سی‘ فائٹ میں مسلسل 17 ویں فتح، نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کردیا

ایران کا ہرمز کھولنے سے قبل امریکا سے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

کالم / تجزیہ

انکار کا اعزاز

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں