امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع طے کرنے کے لیے تہران کے باضابطہ مذاکرات کاروں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایرانی پاسداران انقلاب کی قیادت سے بیک چینل رابطے کیے، تاہم مفاہمت کی کوششیں ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) تک پہنچنے کے باوجود کامیاب نہ ہوسکیں۔
فوکس نیوز کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایران کے رسمی مذاکرات کاروں کے پاس جنگ ختم کرنے کے لیے مطلوبہ اختیارات نہیں، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اسلامی انقلابی گارڈ کور کی قیادت تک براہِ راست رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی امن مذاکرات کاروں نے ایران کے روایتی سفارتی اور مشرقِ وسطیٰ کے رابطوں کے بجائے پاسداران انقلاب کے عہدیداروں سے پسِ پردہ بات چیت کی۔
NEW: Axios reports a secret communication line between Donald Trump and Iran’s Revolutionary Guard.
The backchannel targets one of Iran's most powerful military-security institutions amid ongoing tensions.
The U.S. and Iran escalated into direct military conflict earlier in… pic.twitter.com/xInS2lL6yn
— Zubiqo (@zubiqo) August 16, 2026
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان رابطوں کے نتیجے میں ایک مفاہمتی یادداشت بھی تیار ہوئی، تاہم یہ کوشش بالآخر ناکام ہوگئی اور جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوسکا۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث واشنگٹن اپنی بحری تعیناتیوں میں بھی ردوبدل کر رہا ہے۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی بحرالکاہل سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل کیا جارہا ہے، جبکہ یو ایس ایس ابراہم لنکن طویل تعیناتی کے بعد واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔
Listen to the Assistant Navigator explain her job and responsibilities on USS George Washington (CVN 73) while underway in the Indo-Pacific region.
As America’s forward-deployed aircraft carrier, GW stands as a powerful symbol of the United States’ commitment to a free and… pic.twitter.com/PnLcX5WMId
— USS George Washington (CVN 73) (@GW_CVN73) August 15, 2026
فوکس نیوز کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن تقریباً 9 ماہ سے تعینات ہے اور 200 سے زائد دن جنگی علاقے میں گزار چکا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی جہاز کا دورہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا ہرمز کھولنے سے قبل امریکا سے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی
رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ کی طویل تعیناتیوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی نے واشنگٹن کے لیے بحری وسائل پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب ریٹائرڈ امریکی بحری افسران نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کارروائی کے لیے بحرالکاہل سے طیارہ بردار بحری جہاز منتقل کرنا چین کے لیے بھی ایک اہم تزویراتی پیغام ثابت ہوسکتا ہے۔














