غزہ میں ممکنہ جنگ بندی اور پائیدار امن کے حصول کے لیے سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں۔ حماس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اپنے سینئر رہنما خلیل الحیہ کی قیادت میں مصری حکام سے اہم مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچ گیا ہے۔
حماس نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ان کا نمائندہ وفد خلیل الحیہ کی سربراہی میں اتوار کے روز قاہرہ پہنچا ہے، جہاں وہ مصری ثالثوں کے ساتھ غزہ میں فائر بندی کے امور پر تبادلۂ خیال کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے غیر مسلح ہونے سے متعلق معاہدے کے لیے اسرائیل پہلے اپنے وعدے نبھائے، حماس کا ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی ثالث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت غزہ میں حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں سے اسلحہ واپس لیا جانا، علاقے سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا اور غزہ کا نظامِ حکومت غیر جانبدار فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے حوالے کرنا شامل ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ میں تعطل کے شکار فائر بندی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے صدر ٹرمپ کی تازہ ترین تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو نے ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ مسترد کردیا، حماس کو غیر مسلح کرنے تک اسرائیلی فوج واپس نہیں ہوگی
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کے ان 60 فیصد علاقوں سے، جو اس کے کنٹرول میں ہیں، اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک حماس کا مکمل طور پر خاتمہ اور اس سے اسلحہ واپس نہیں لے لیا جاتا۔ دوسری طرف، باقی ماندہ 40 فیصد علاقے کا کنٹرول رکھنے والی تنظیم حماس اس مطالبے کی مسلسل مزاحمت کرتی آئی ہے۔
موجودہ صورتحال میں یہ ابھی واضح نہیں ہو سکا کہ خلیل الحیہ کا یہ وفد امریکی صدر کے داماد اور مذاکرات کار جیریڈ کوشنر، ‘بورڈ آف پیس’ کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف یا ایگزیکٹو بورڈ کے رکن اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سے ملاقات کرے گا یا نہیں، جو رواں ہفتے ہی اسرائیل اور مصر کا دورہ کرنے والے ہیں۔














