جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی کے خلاف احتجاجی دھرنا اپنے دوسرے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ اس موقع پر دھرنے کے شرکاء کو موسمی اثرات سے بچانے کے لیے چیئرنگ کراس پر بڑے تنبو نصب کر دیے گئے ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی نے دھرنے کو کم از کم 8 روز تک بلا تعطل جاری رکھنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ اس سلسلے میں دھرنے کے شرکاء کے لیے کھانے پینے کے وسیع انتظامات کے ساتھ ساتھ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ادویات کا اسٹاک بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دھرنے کی وسعت کو برقرار رکھنے کے لیے پورے پنجاب سے کارکنان کی مرحلہ وار شرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس مقصود کے لیے صوبہ پنجاب کے عہدیداران کو دن کے حساب سے باقاعدہ ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں تاکہ دھرنے میں ہر روز نئی نرسری اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود رہے۔
یہ بھی پڑھیے پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی، لاہور اور پشاور میں دھرنے
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری نے کہا ’ہمارا بنیادی اور واضح مطالبہ ہے کہ پٹرولیم لیوی کو فی الفور ختم کیا جائے اور ملک میں پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔ اس کے علاوہ، جیسا کہ گزشتہ روز حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا تھا، ملک سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ کیے گئے نا انصافی پر مبنی معاہدوں کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ مطالبات کی منظوری اور مرکزی قیادت کی اگلی کال تک دھرنے کے شرکاء چیئرنگ کراس پر ہی ڈٹے رہیں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
جاگیرداروں کا 12 ارب اور تنخواہ دار طبقے پر 700 ارب کا ٹیکس، حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے لاہور دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت نہ صرف لاہور، بلکہ کراچی اور پشاور میں بھی ہزاروں کی تعداد میں عوام سڑکوں پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا یہ دھرنا کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عام عوام، وکلا، ڈاکٹرز اور تمام سیاسی و سماجی جماعتوں کے کارکنوں کی مشترکہ آواز ہے۔
آئی پی پیز میں دو نمبری اور معاہدوں پر شدید تنقید
حافظ نعیم الرحمان نے انکشاف کیا کہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں آئی پی پیز (IPPs) کا آغاز ہوا، جس کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے یکے بعد دیگرے ایسے معاہدے کیے جنہوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے پلانٹس کی صلاحیت میں شدید دھاندلی کی گئی؛ 100 میگاواٹ کے پلانٹ کو کاغذی کارروائی میں 200 میگاواٹ دکھایا گیا۔ حتیٰ کہ گنے کے بھوسے (Bagasse) سے چلنے والے پاور پلانٹس میں بھی کھلم کھلا دو نمبری اور کرپشن کی گئی۔ ان تمام غلط پالیسیوں اور آئی پی پیز کی ‘کیپسٹی پیمنٹ’ (Capacity Payment) کا سارا بوجھ اب غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔
ٹیکسوں کی بھرمار اور نا انصافی کا نظام
امیر جماعت اسلامی نے بجلی کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 200 یونٹ استعمال کرنے والے پہلے ہی شدید پریشان تھے، جبکہ اب زائد یونٹ استعمال کرنے والے مڈل کلاس اور عام شہریوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’ بین الاقوامی سطح پر جنگ کے بہانے پٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیں اور حکومت ہر بات کا ملبہ آئی ایم ایف پر ڈال دیتی ہے، کیونکہ یہ حکمران آئی ایم ایف کے غلام بن چکے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے گورنر ہاؤس کے راستے بند، جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے کا اعلان
انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ’ ایف بی آر (FBR) میں سالانہ 1,300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے، مگر نظام کی خرابی دور کرنے کے بجائے عوام کو کچلا جاتا ہے۔ ملک کے بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں نے مل کر پورے سال میں صرف 12 ارب روپے کا ٹیکس دیا، جبکہ دوسری جانب تنخواہ دار طبقے کی جیب سے 700 ارب روپے کا انکم ٹیکس نچوڑا گیا۔‘
حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کے اختتام پر دہرایا کہ پٹرولیم پروڈکٹس پر لیوی، بھتہ ٹیکس اور موٹر سائیکل سواروں سے لے کر پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافروں پر عائد غیر قانونی ٹیکس عوام کو بالکل منظور نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی حق و انصاف کی اس جنگ میں پیچھے نہیں ہٹے گی اور دھرنے اپنے مطالبات کی منظوری تک جاری رہیں گے۔














