وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اس وقت آزاد کشمیر کی 25 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب ہوچکے ہیں، جبکہ مخصوص نشستوں کے انتخاب کے بعد پارٹی کی نشستیں قریباً 33 ہوجائیں گی۔
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ 53 رکنی ایوان میں دو تہائی اکثریت کے لیے 36 نشستیں درکار ہیں، جبکہ باقی 7 نشستوں پر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) مزید 3 نشستیں حاصل کرلے تو اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہوجائے گی۔
مزید پڑھیں:الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات ملتوی ہونے کی خبر جعلی قرار دے دی
رانا ثنااللہ کے مطابق آزاد کشمیر کے حالات پر قابو پانے، پسماندگی دور کرنے اور تعمیر و ترقی کے لیے مضبوط مینڈیٹ اور دو تہائی اکثریت وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مخصوص نشستوں کے بعد مسلم لیگ (ن) کی دو تہائی اکثریت مکمل ہوجائے گی۔
رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی پنجاب کی طرز پر تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع کیا جائے گا۔ مریم نواز نے پنجاب میں ترقی کا نیا دور شروع کیا ہے، اسی ماڈل کو آزاد کشمیر میں بھی آگے بڑھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا ہے، پارٹی قیادت عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے گی۔ نواز شریف نے آزاد کشمیر کے عوام سے جو وعدے کیے ہیں، ان شاء اللہ انہیں پورا کیا جائے گا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی اور موجودہ حالات میں بہتری کے لیے سیاسی مفاہمت ضروری ہے۔ احتجاج کرنے والوں کی اکثریت ترقی، امن اور پاکستان سے محبت کرنے والی ہے، تاہم امن و امان خراب کرنے والے چند عناصر کے عزائم مختلف ہوسکتے ہیں۔
53 رکنی ایوان میں دو تہائی اکثریت کے لیے 36 نشستوں کی ضرورت ہے۔ اگر 7 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) مزید 3 نشستیں حاصل کر لیتی ہے، تو اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ آزاد کشمیر کے حالات کی اصلاح کے لیے ایک مضبوط اور بااختیار حکومت کی ضرورت ہے۔ ہم کشمیری… pic.twitter.com/MiiBBL4XOU
— WE News (@WENewsPk) August 17, 2026
انہوں نے کہا کہ کشمیری بھائی پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے عوام ترقی، امن اور پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلق چاہتے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ساجد اقبال معمولی فرق سے منتخب ہوئے، ان کے حلقے کے عوام نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ساجد اقبال سے آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینے کی درخواست کی تھی، جو انہوں نے قبول کرلی۔
انہوں نے کہا کہ ساجد اقبال آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے مسلم لیگ (ن) کی ٹیم کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان کے اس فیصلے پر دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں، وہ اپنے حلقے اور آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں گے۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ اس وقت 25 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب ہوچکے ہیں۔ مخصوص نشستوں کے انتخاب کے بعد مسلم لیگ (ن) کی نشستیں تقریباً 33 ہوجائیں گی، جبکہ 53 رکنی ایوان میں دو تہائی اکثریت کے لیے 36 نشستیں درکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باقی 7 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) مزید 3 نشستیں حاصل کرلے تو اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہوجائے گی۔ آزاد کشمیر کے حالات پر قابو پانے، پسماندگی دور کرنے اور تعمیر و ترقی کے لیے مضبوط مینڈیٹ اور دو تہائی اکثریت وقت کی ضرورت ہے۔














