دنیا بھر میں پرانی اور استعمال شدہ کتابوں کی فروخت میں اچانک غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے جبکہ بعض کتب فروشوں کا خیال ہے کہ اس رجحان کے پیچھے کتابیں پڑھنے والے شوقین افراد نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی صنعت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کتابیں تو ہیں ہی، یہاں لائبریری سے سلائی مشین بھی ادھار ملتی ہے!
گزشتہ چند ماہ کے دوران آزاد کتب فروشوں نے ایسے غیر معمولی بڑے آرڈرز دیکھے ہیں جن میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں کتابیں خرید کر دور دراز گوداموں تک پہنچائی جا رہی ہیں۔
برطانیہ کے شمالی علاقے نارتھمبرلینڈ میں قائم بارٹر بکس کے مالک اسٹورٹ مینلی کے مطابق وہ ایک عام ہفتے میں 2 سے 3 ہزار کتابیں فروخت کرتے ہیں تاہم حال ہی میں ایک کینیڈین کمپنی نے ایک ہی مرتبہ اتنی کتابیں خرید لیں جتنی وہ عموماً پورے ایک ہفتے میں فروخت کرتے ہیں۔
مینلی کا کہنا ہے کہ 30 سال سے زائد عرصے سے سیکنڈ ہینڈ کتابوں کے کاروبار سے وابستگی کے باوجود انہوں نے اس سے پہلے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا۔ دنیا کے مختلف حصوں سے دوسرے کتاب فروش بھی اسی نوعیت کے غیر معمولی بڑے آرڈرز کی اطلاع دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ کا انوکھا کیفے جہاں گرما گرم چائے کے ساتھ کتابیں پیش کی جاتی ہیں
تاہم کتب فروشوں کو یہ معلوم نہیں کہ یہ کتابیں آخر کہاں جا رہی ہیں۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے بہت سی کتابیں بیرون ملک قارئین کے لیے نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تربیت کے لیے خریدی جا رہی ہیں۔
کتابوں اور اے آئی کے درمیان قانونی جنگ
پرانی کتابوں کی فروخت میں اس اچانک اضافے کا تعلق امریکا میں مصنوعی ذہانت کی تربیت اور کتابوں کے استعمال سے متعلق ایک اہم عدالتی فیصلے سے جوڑا جا رہا ہے۔
سنہ 2025 میں ایک امریکی جج نے فیصلہ دیا تھا کہ اس طریقے سے خریدی گئی کتابوں کو اے آئی سافٹ ویئر کی تربیت کے لیے استعمال کرنا امریکی کاپی رائٹ قانون کی خلاف ورزی نہیں تھا۔ یہ فیصلہ 3 مصنفین کی جانب سے اے آئی کمپنی اینتھروپک کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتیجے میں سامنے آیا۔
جج ولیم السوپ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اینتھروپک کی جانب سے مصنفین کی کتابوں کا استعمال انتہائی تبدیلی پر مبنی تھا اس لیے امریکی قانون کے تحت اس کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
تاہم گزشتہ ماہ عدالت سے متعلق دستاویزات منظرِ عام پر آنے کے بعد ایک اور تشویش سامنے آئی کہ اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ کی تربیت کے عمل میں کچھ کتابوں کو اسکین کرنے کے بعد تلف بھی کیا جا رہا تھا۔
اینتھروپک کے ترجمان نے بتایا کہ کلاڈ کی تربیت عوامی طور پر دستیاب ویب ڈیٹا، تجارتی طور پر حاصل کیے گئے ڈیٹا سیٹس اور کمپنی کی جانب سے خود تیار کردہ معلومات کے امتزاج سے ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کی صنعت میں کتابوں کو تربیتی مواد کے طور پر حاصل کرنا ایک عام طریقہ ہے۔
کمپنی نے تاہم واضح کیا کہ اس کے ڈیٹا حاصل کرنے کے پروگرام نایاب یا قدیم کتابیں خرید کر انہیں تباہ نہیں کرتے۔
بارٹر بکس کے مینلی کہتے ہیں کہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ان بڑے آرڈرز میں کوئی واضح ترتیب دکھائی نہیں دیتی۔ کبھی نایاب لاطینی زبان کی کتابیں خریدی جاتی ہیں تو کبھی کاؤ بوائے ناول یعنی بظاہر ایک دوسرے سے بالکل مختلف نوعیت کی کتابیں۔
ماہرین کے مطابق کتابوں کے موضوعات میں یہ غیر معمولی تنوع بھی اس شبہے کو تقویت دیتا ہے کہ خریداروں کا مقصد اے آئی کی تربیت ہو سکتا ہے کیونکہ نایاب اور غیر معمولی مواد بڑے لسانی ماڈلز کو نئی معلومات فراہم کر سکتا ہے اور ان کی تربیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
برطانیہ اور امریکا کے قوانین میں فرق
آکسفورڈ یونیورسٹی میں دانشورانہ ملکیت کے قوانین کی ماہر پروفیسر ایمیلی ہڈسن کے مطابق برطانیہ اور امریکا میں کاپی رائٹ قوانین مختلف ہیں۔
مزید پڑھیں: ہاتھوں سے محروم بلوچستان کے ادیب جنہوں نے پاؤں سے 19 کتابیں لکھیں
ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں اصولی طور پر کتابوں کو نقل کرنے، تربیتی مواد کے لیے لائبریری بنانے اور پھر اس مواد سے اے آئی کی تربیت کرنے کے لیے کاپی رائٹ کے مالک کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
اس فرق کے باعث امریکا میں سامنے آنے والا قانونی فیصلہ برطانیہ میں اسی طرح لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
کتابوں کی فروخت میں اضافہ، مگر سوال برقرار
دلچسپ بات یہ ہے کہ مینلی کے مطابق کچھ ایسی کتابیں بھی ہیں جو تقریباً 20 سال سے ان کی ویب سائٹ پر فروخت کے لیے موجود تھیں لیکن اب اچانک بک گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بچوں کوکتابیں کیسے پڑھائی جائیں؟
یوں پرانی کتابوں کی اچانک بڑھتی ہوئی طلب نے کتب فروشوں کے لیے کاروبار کے نئے مواقع تو پیدا کیے ہیں لیکن اس کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ کیا یہ کتابیں انسان پڑھنے کے لیے خرید رہے ہیں یا مشینیں انہیں پڑھ کر دنیا کے اگلے اے آئی ماڈلز کو سکھانے والی ہیں؟














