عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ صرف عدالتی، سیاسی عمل سے جوڑنا درست نہیں : رانا ثنااللہ

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف ایک عدالتی فیصلہ ہے، اسے کسی سیاسی عمل کا نتیجہ قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے جو حقائق رکھے گئے، انہیں دیکھتے ہوئے حکومت نے میرٹ پر مناسب فیصلہ کیا، حکومت کو سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم ہے اور اس پر عمل بھی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی صحت سے متعلق راجا ناصر عباس کے خدشات درست نہیں، رانا ثنااللہ

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قیدی کے حقوق سے متعلق مختلف ترجیحات بیان کی ہیں اور عمران خان کی صحت سے متعلق معاملات کو بہتر انداز میں ڈیل کرنے پر زور دیا ہے۔ عدالت نے عمران خان کے اہل خانہ کو بھی اس معاملے پر عوامی سطح پر بات کرنے سے روکا ہے تاکہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی ہائیکورٹ کی جانب سے فیصلہ آیا تھا، جس کے بعد میڈیا پر بعض باتیں سامنے آئیں اور معاملہ خراب ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی اس معاملے پر بات ہوتی رہی ہے اور حکومت تحریک انصاف کے رہنماؤں سے کہتی رہی ہے کہ اس معاملے کا طریقہ کار عدالت سے رجوع کرنا ہے۔ ان کے بقول خوش آئند بات ہے کہ آج تحریک انصاف کے رہنما عدالت کے فیصلے کو سراہ رہے ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ جیل حکام یا انتظامیہ کے پاس عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی کوئی گنجائش نہیں، اسی طرح کسی دوسرے فریق کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظرانداز کرنے یا میڈیا میں ایسی صورتحال پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس سے دوبارہ تنازع جنم لے۔

یہ بھی پڑھیں: انتظامی یونٹس، نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام سے کسی کو انکار نہیں، لیکن یہ سب آئین کے تحت ہی ممکن ہے، رانا ثنااللہ

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت سے متعلق تمام رپورٹس طلب کی تھیں اور ان رپورٹس سے ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں جیل سے باہر علاج کی ضرورت ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں درست مؤقف اختیار کیا اور عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی مخالفت نہیں کی۔

وزیراعظم سے سہیل آفریدی کی دو ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ خود بھی ان ملاقاتوں میں شریک تھے۔ ان ملاقاتوں میں سہیل آفریدی نے مثبت انداز میں گفتگو کی، صوبے اور سیاسی معاملات پر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں سخت مؤقف رکھنے والے رہنماؤں کے ساتھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کرتے رہے ہیں۔

رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ حکومت کل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس سے بھی ملی، ان کے ساتھ بھی مثبت بات ہوئی۔ امید ہے آنے والے دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ میرٹ پر ہوا، پی ٹی آئی نے دیر کردی: رانا ثنا اللہ

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ریلیف عدالت سے ہی ملے گا اور عدالتی ریلیف کو کسی بھی طور پر سیاسی عمل کا نتیجہ قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

پیپلز پارٹی سے متعلق رانا ثنااللہ نے کہا کہ بلاول بھٹو کی تقاریر آزاد کشمیر کے انتخابات کے ماحول میں تھیں، اب انتخابات گزر چکے ہیں تو ان کے خیال میں بلاول بھٹو اپنی ’الٹی گنتی‘ کو سیدھا کرلیں گے۔ صوبوں کے معاملات صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں زیر بحث آنے چاہئیں، اقتصادی فورم پر ان پر بحث نہیں ہونی چاہیے تھی۔ پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ ہے اور حکومت اسے ساتھ لے کر چلے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’چیٹ جی پی ٹی انسان نہیں‘: اوپن اے آئی کی نوعمر صارفین کے لیے نئی حکمت عملی

ٹی وی میزبان و اداکار ساحر لودھی کے خلاف خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج، الزام کیا ہے؟

شاہ رخ خان کی رہائش گاہ پر 2 بڑے سانپ نکل آئے، وکی دوبے کی طلبی

وفاقی حکومت کا عمران خان کے شفا اسپتال سے علاج کے سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

عمران خان کی اسپتال منتقلی: سینیٹ میں وزیر برائے پارلیمانی امور کی عملدرآمد کی یقین دہانی، پی ٹی آئی اراکین کا خیرمقدم

ویڈیو

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد