مصنوعی ذہانت کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے پرانی اور نایاب کتابوں کی بڑے پیمانے پر خریداری اور پھر ان علمی اثاثوں کو تلف کردیے جانے کے معاملے نے دنیا بھر کے کتب فروشوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پرانی اور نایاب کتابوں کی خریداری میں اچانک غیر معمولی اضافہ، وجہ شوق مطالعہ یا کچھ اور؟
بعض معاملات میں کتابیں خریدنے کے بعد ان کی جلدیں کاٹ کر صفحات اسکین کیے جاتے ہیں اور اصل کتابیں ری سائیکل کر دی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اے آئی کو تربیت دینے کے لیے آخر لاکھوں کتابوں کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے اور کیا اس عمل سے انسانی علمی ورثے کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران برطانیہ، آئرلینڈ اور یورپ کے دیگر حصوں میں پرانی کتابوں کے کاروبار سے وابستہ افراد نے ایسے غیر معمولی آرڈرز کی نشاندہی کی ہے جن میں بیک وقت ہزاروں کتابیں خریدنے کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کتابوں کا موضوع بھی ایک جیسا نہیں تھا بلکہ بعض آرڈرز میں انتہائی نایاب یا مخصوص علمی کتابیں شامل تھیں تو بعض میں ایسے پرانے ناول اور غیر معروف عنوانات بھی موجود تھے جن کی عام مارکیٹ میں طلب بہت کم ہے۔
آئرلینڈ کے ایک کتب فروش کو حال ہی میں ایک ہی آرڈر میں تقریباً 5 ہزار کتابوں کی درخواست موصول ہوئی جبکہ یورپ کے دیگر کتاب فروشوں نے بھی اسی نوعیت کے بڑے اور بظاہر غیر معمولی آرڈرز کی اطلاع دی۔ بعض دکانداروں کو شبہ ہے کہ ان کتابوں کو عام قارئین کے لیے نہیں بلکہ ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرنے اور اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم ہر ایسے آرڈر کے پیچھے اے آئی کمپنی کا ہونا ثابت نہیں ہوا اس لیے کتاب فروشوں کے خدشات کو فی الحال شبہ اور قیاس کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
کتابیں خریدنے کے بعد انہیں تلف کیوں کیا جاتا ہے؟
اے آئی ماڈل کو کسی کتاب کا مواد پڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے صفحات پہلے ڈیجیٹل متن یا تصاویر میں تبدیل کیے جائیں۔
مزید پڑھیے: ‘مصنوعی ذہانت ادیبوں کے اثاثے چرانے میں مشغول، کیا ’خالی کتاب تحریک‘ یہ سلسلہ روک پائے گی؟
لاکھوں کتابوں کو ایک ایک صفحہ کھول کر اسکین کرنا انتہائی سست عمل ہے اس لیے صنعتی پیمانے پر تباہ کن اسکیننگ کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کتاب کی ریڑھ کی ہڈی یا جلد کاٹ دی جاتی ہے، صفحات الگ ہو جاتے ہیں اور پھر مشینیں انہیں بہت تیزی سے اسکین کر لیتی ہیں۔
اس عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اصل کتاب دوبارہ قابل مطالعہ شکل میں نہیں رہتی۔ صفحات اسکین ہونے کے بعد کاغذ کو عموماً ری سائیکل کر دیا جاتا ہے۔ یوں کمپنی کے پاس کتاب کا ڈیجیٹل مواد محفوظ رہتا ہے لیکن اصل کاغذی کتاب ختم ہو جاتی ہے۔
نایاب اور گنی چنی کاپیوں والی کتابوں کے لیے شدید خطرہ
یہ طریقہ خاص طور پر اس وقت تشویش کا باعث بنتا ہے جب بات ایسی کتابوں کی ہو جن کی صرف چند کاپیاں باقی رہ گئی ہوں۔ کسی مقبول ناول کی لاکھوں کاپیوں میں سے ایک کاپی ضائع ہونا شاید بہت بڑا نقصان نہ ہو لیکن اگر کسی تاریخی، علمی یا نایاب ایڈیشن کی آخری چند کاپیوں میں سے ایک بھی تلف ہو جائے تو نقصان صرف ایک کتاب کا نہیں بلکہ ثقافتی ورثے کا ہو سکتا ہے۔
معاملہ اینتھروپک کے ’پروجیکٹ پاناما‘ سے کیسے سامنے آیا؟
اس بحث کا سب سے نمایاں حوالہ اے آئی کمپنی اینتھروپک کا خفیہ منصوبہ ہے جسے عدالتی دستاویزات میں پروجیکٹ پاناما کا نام دیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق کمپنی نے بڑی تعداد میں استعمال شدہ کتابیں حاصل کرکے انہیں اسکین کیا اور اصل کتابوں کو تلف کیا تاکہ اپنے اے آئی ماڈلز جن میں چیٹ بوٹ کلاڈ بھی شامل ہے کے لیے بڑے پیمانے پر تربیتی مواد تیار کیا جا سکے۔
اس معاملے میں ایک اہم قانونی فرق بھی سامنے آیا۔ امریکا میں ایک وفاقی جج نے سنہ 2025 میں قرار دیا کہ کمپنی کی اپنی ملکیت میں موجود کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کرکے اے آئی کی تربیت کے لیے استعمال کرنا مخصوص حالات میں فیئر یوز کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ تاہم اسی مقدمے میں بغیر اجازت حاصل کیے گئے پائریٹڈ مواد کا استعمال الگ قانونی مسئلہ قرار پایا۔
مزید پڑھیں: مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین
بعد ازاں اینتھروپک نے ایسے مقدمے میں 1.5 ارب ڈالر کے تصفیے پر بھی اتفاق کیا جس میں مصنفین نے الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی نے تقریباً 4 لاکھ 82 ہزار کتابوں کی غیر قانونی نقلوں کو اے آئی کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔ عدالت نے حال ہی میں اس تصفیے کی حتمی منظوری دی۔
اب صرف اینتھروپک ہی زیر بحث نہیں
اے آئی اور کتابوں کا تنازع اب مزید وسیع ہو چکا ہے۔ جولائی 2026 میں معروف ناشرین جن میں ہیچیٹ بک گروپ، سینگیج لرننگ اور ایلزوئیر شامل ہیں اور مصنف اسکاٹ ٹورو نے گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ ان کا الزام ہے کہ گوگل نے لاکھوں کاپی رائٹ شدہ کتابوں کو اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جبکہ ان کتابوں کے اصل استعمال کی اجازت اس مقصد کے لیے نہیں دی گئی تھی۔
یہ مقدمہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ اے آئی کمپنی کتاب پڑھ سکتی ہے یا نہیں بلکہ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ اگر کسی کتاب سے اے آئی کو تربیت دے کر ایک انتہائی منافع بخش تجارتی نظام تیار کیا جائے تو اس کتاب کے مصنف اور ناشر کو اس کا معاوضہ ملنا چاہیے یا نہیں۔
کتب فروش خوش بھی، پریشان بھی
دلچسپ بات یہ ہے کہ پرانی کتابوں کے دکانداروں کے لیے یہ صورت حال مکمل طور پر بری بھی نہیں۔ ایسے بڑے آرڈرز ان کاروباروں کے لیے اچانک آمدنی کا ذریعہ بن رہے ہیں اور بعض ایسی کتابیں بھی فروخت ہو رہی ہیں جو کئی برس سے دکانوں یا آن لائن فہرستوں میں موجود تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’گوگل اے آئی خلاصہ گلے پڑگیا‘، آن لائن ٹریفک متاثر ہونے پر ببلشرز کا احتجاج
لیکن دوسری طرف کتاب فروشوں کو خدشہ ہے کہ وہ انجانے میں ایسے مواد کی فراہمی کا حصہ بن رہے ہیں جسے اسکین کرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا۔ خاص طور پر نایاب اور تاریخی کتابوں کے معاملے میں یہ تشویش زیادہ سنگین ہے۔ یورپ میں بعض قدیم کتابوں کے ڈیلرز نے اسی وجہ سے اے آئی کمپنیوں کی جانب سے غیر معمولی خریداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔
برطانیہ اور امریکا کے قوانین ایک جیسے نہیں
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ دانشورانہ ملکیت کے مطابق برطانیہ میں کاپی رائٹ شدہ کتابوں کو اے آئی کی تربیت کے لیے نقل کرنے کے حوالے سے قانونی صورتحال امریکا سے مختلف ہے۔ برطانیہ میں بنیادی اصول یہ ہے کہ کتاب کو نقل کرکے تربیتی ڈیٹا بنانے جیسے اقدامات کے لیے عموماً کاپی رائٹ کے مالک کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
اسی لیے امریکا میں کسی خاص صورت حال میں قانونی قرار دیا جانے والا عمل لازماً برطانیہ یا یورپ میں بھی قانونی نہیں سمجھا جا سکتا۔
کیا کتابوں کا مستقبل خطرے میں ہے؟
یہ تنازع دراصل ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر اے آئی کو انسانوں کے صدیوں کے علمی ذخیرے سے سیکھنا ہے تو اس علم کے اصل ذرائع کی حفاظت کون کرے گا؟
کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا بذات خود کوئی نئی بات نہیں۔ اس کے برعکس، ڈیجیٹل آرکائیونگ بہت سی نایاب کتابوں کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ڈیجیٹل نقل حاصل کرنے کے بعد اصل کتاب کو تلف کر دیا جائے خصوصاً اس وقت جب وہ کتاب پہلے ہی نایاب ہو۔
اور یہی وجہ ہے کہ اے آئی کے لیے کتابوں کی غیر معمولی خریداری کا معاملہ محض ٹیکنالوجی کی ایک عجیب خبر نہیں رہا۔ یہ کاپی رائٹ، مصنفین کے حقوق، علمی ورثے، کتابوں کی بقا اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے درمیان ایک نئی اور پیچیدہ بحث بن چکا ہے۔
ایک اور مسئلہ: اے آئی کی تدوین کتابیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں
اے آئی اور کتابوں کا تعلق اب صرف اس بحث تک محدود نہیں رہا کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں اپنے ماڈلز کی تربیت کے لیے انسانی مصنفین کی پرانی کتابیں حاصل کر رہی ہیں۔ ایک طرف اے آئی کے لیے کتابوں کی خریداری اور انہیں ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرنے اور انہیں تلف کردینے کا معاملہ زیر بحث ہے تو دوسری طرف خود اے آئی کی مدد سے تیار ہونے والی نئی کتابوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
سال 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ایمیزون پر سنہ 2023 سے سنہ 2026 کے دوران فروخت ہونے والی 14,419 شائع شدہ صنفی فکشن ای بکس کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے کتابوں کے مکمل متن کا تجزیہ کرکے ان میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی موجودگی کا اندازہ لگایا اور فروخت کے اعداد و شمار سے اس کا موازنہ کیا۔
مزید پڑھیں: اے آئی کا استعمال کیوں کیا؟ نیویارک ٹائمز نے صحافی کو برخاست کردیا
تحقیق کے مطابق جن کتابوں میں نمایاں مقدار میں اے آئی سے تیار کردہ متن پایا گیا ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس عرصے میں کسی سہ ماہی میں فروخت ہونے والی کتابوں کی تعداد تقریباً 19 گنا بڑھی جبکہ مجموعی سہ ماہی آمدنی تقریباً 9 گنا بڑھی یعنی کتابوں کی تعداد آمدنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی اور فی کتاب اوسط آمدنی میں کمی آئی۔
کیا اے آئی کی یہ کتابیں پرانی کتابوں کی ہوبہو نقل ہوتی ہیں؟
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اے آئی سے تیار ہونے والی ہر کتاب کو کسی پرانی کتاب کی ہو بہو نقل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
بہت سے افراد اے آئی ٹولز کی مدد سے کسی موضوع یا ادبی صنف پر نئی کہانی، ناول، رہنما کتاب یا دوسری تحریر تیار کرتے ہیں اور پھر اسے اپنی طرف سے خود شائع کردیتے ہیں۔ بعض صورتوں میں انسان اے آئی کی تیار کردہ تحریر میں ترمیم اور تدوین بھی کرتا ہے جبکہ بعض کتابیں بہت کم انسانی مداخلت کے ساتھ شائع کی جاتی ہیں۔
تاہم اس کے ساتھ ایک دوسرا مسئلہ بھی موجود ہے۔ تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ زیادہ اے آئی مواد رکھنے والی بعض مقبول کتابوں میں پہلے سے موجود کتابوں کی زبان سے نسبتاً زیادہ مماثلت پائی گئی خصوصاً ان کتابوں میں جو زیادہ فروخت ہوئیں۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت کی کہانیاں انسانی تحریروں پر بازی لے گئیں، نئی تحقیق کے حیران کن نتائج
لیکن محققین نے اس بنیاد پر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ کتابیں کسی مخصوص پرانی کتاب کی لفظ بہ لفظ نقل ہیں۔ اس لیے زیادہ محتاط نتیجہ یہی ہے کہ اے آئی سے تیار شدہ بعض کتابوں میں سابقہ تحریروں سے مماثلت دیکھی جا سکتی ہے مگر ہر اے آئی کتاب کو کسی پرانی کتاب کی نقل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بعض جگہ واقعی کتابوں کی نقل بھی سامنے آئی
البتہ اے آئی سے متعلق کتابی جعل سازی کے کچھ واضح واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ ماضی میں معروف مصنفین اور صحافیوں نے ایمیزون پر اپنی کتابوں کے نام، موضوعات یا شخصیات کو استعمال کرتے ہوئے ایسی کتابیں دیکھی ہیں جو بظاہر اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی تھیں۔ بعض صورتوں میں جعلی سوانح عمریاں اصل مصنف کی کتابوں کے مواد کو دوبارہ بیان کرتی نظر آئیں جبکہ بعض کتابوں میں اصل کام کے جملوں اور ساخت سے غیر معمولی مماثلت پائی گئی۔
مثلاً مصنفہ اسٹیفنی لینڈ کے بارے میں ایک جعلی سوانح عمری سامنے آئی جو ان کی اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب کے جملوں کو بڑی حد تک نئے الفاظ میں بیان کرتی تھی۔ اسی طرح صحافی کارا سوئشر کی کتاب کے آس پاس بھی اے آئی سے تیار کردہ مبینہ نقلی کتابوں کی ایک بڑی تعداد سامنے آئی تھی جن میں بعض کے مصنفین کے نام اور شناخت بھی مشکوک تھی۔
یہ کتابیں اے آئی کمپنیاں شائع کر رہی ہیں یا عام لوگ؟
مذکورہ 14,419 کتابوں والی تحقیق کا تعلق بنیادی طور پر اے آئی کمپنیوں کے خود کتابیں شائع کرنے سے نہیں بلکہ خود اشاعتی مارکیٹ سے ہے۔
محققین نے ایمیزون پر موجود خود شائع شدہ کتابوں کا جائزہ لیا تھا۔ اس ماڈل میں عام افراد یا خود شائع کرنے والے پروڈیوسرز اے آئی ٹولز کی مدد سے کتاب تیار کرکے اسے براہ راست آن لائن مارکیٹ میں پیش کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی ایک اے آئی ماڈل تمام سیکیورٹی خامیاں نہیں پکڑ سکتا، نئی تحقیق
یعنی ضروری نہیں کہ کسی کتاب کے پیچھے کوئی بڑی اے آئی کمپنی بطور ناشر موجود ہو۔ ایک فرد بھی اے آئی کی مدد سے کتاب تیار کرکے اسے خود شائع کر سکتا ہے۔ یہی آسانی اس رجحان کو تیزی سے پھیلانے والی بڑی وجوہات میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ روایتی اشاعت میں مصنف، ایڈیٹر، پروف ریڈر، ڈیزائنر اور ناشر سمیت کئی مراحل شامل ہوتے ہیں جبکہ خود اشاعتی پلیٹ فارم اس عمل کی کئی رکاوٹیں ختم کر دیتے ہیں۔
کچھ افراد بڑی تعداد میں کتابیں تیار کر رہے ہیں
اس رجحان کا ایک تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اے آئی کے ذریعے کتاب تیار کرنے کی لاگت اور وقت بہت کم ہونے کی وجہ سے کچھ افراد بہت بڑی تعداد میں کتابیں مارکیٹ میں ڈال سکتے ہیں۔
حالیہ جائزوں میں ایسے مشتبہ مصنف نام بھی سامنے آئے ہیں جن کے نام سے بہت کم عرصے میں غیر معمولی تعداد میں کتابیں شائع ہوئیں۔
بعض معاملات میں ایک ہی نام سے ایک ہفتے میں متعدد سوانحی کتابیں شائع ہونے کی نشاندہی ہوئی جبکہ بعض جعلی مصنف پروفائلز کے تحت درجنوں کتابیں سامنے آئیں۔
مزید پڑھیے: مصنفین مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں کام کھو بیٹھنے کے خدشے کا شکار
یہ معاملہ خاص طور پر اس وقت سنگین ہو جاتا ہے جب اے آئی سے تیار کردہ کتاب کسی معروف شخصیت، مصنف یا نئی ریلیز ہونے والی کتاب کے نام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے۔ ایسی صورت میں قاری کو یہ معلوم کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ وہ اصل مصنف کی کتاب خرید رہا ہے یا کسی نے اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک نقلی یا کم معیار کی کتاب فروخت کے لیے پیش کر دی ہے۔
اے آئی اور کتابوں کی دنیا کا عجیب تضاد
یوں کتابوں کی دنیا میں ایک دلچسپ اور قدرے عجیب صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ ایک طرف اے آئی کمپنیوں کو اپنے ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے انسانی مصنفین کی پرانی کتابوں اور دیگر تحریری مواد کی ضرورت ہے جبکہ دوسری طرف انہی اے آئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے نئی کتابیں بھی بڑی تعداد میں تیار ہو کر مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہیں۔
یہ رجحان مستقبل کی کتابی صنعت کے لیے ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے کہ اگر اے آئی انسانی کتابوں سے سیکھ کر نئی کتابیں بنانے میں مدد دے رہا ہے اور پھر یہی کتابیں انسانی مصنفین کے ساتھ اسی مارکیٹ میں مقابلہ کر رہی ہیں تو مصنف کے تخلیقی کام، حق اشاعت، کتاب کی اصل حیثیت اور قاری کے اعتماد کا تحفظ کیسے کیا جائے گا؟ یہی وہ سوال ہے جس نے اے آئی، کتابوں اور اشاعتی صنعت کے درمیان تعلق کو آنے والے برسوں کی اہم ترین بحثوں میں شامل کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: تخلیق کا سفر ذہن سے شروع ہوتا ہے مصنوعی ذہانت سے نہیں، 9 برس کی عمر میں ناول نگار بننے والی ایمن رحمان
یوں کتابوں اور اے آئی کی یہ کہانی صرف اس بات تک محدود نہیں کہ کتنی کتابیں اسکین ہوئیں یا کتنی تلف ہوئیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مستقبل کی مصنوعی ذہانت جس انسانی علم پر کھڑی ہو رہی ہے اس علم کے تخلیق کاروں اور اس کے اصل ذخیرے کے ساتھ انصاف کیسے کیا جائے گا۔














