رائٹرز اِپسوس کے نئے سروے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کو سراہنے کی شرح کم ہو کر صرف 33 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 64 فیصد امریکیوں نے ان کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
رائٹر اِپسوس کے 4 روزہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی موجودہ صدارتی مدت میں یہ ان کی مقبولیت کی سب سے کم سطح ہے، جو دسمبر 2017 میں ان کی پہلی مدت صدارت کے دوران ریکارڈ کی گئی کم ترین شرح کے برابر ہے۔ سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد امریکا میں پیٹرول کی قیمت گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی بڑھ چکی ہے۔ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران مہنگائی پر قابو پانے اور طویل جنگوں سے گریز کے وعدے کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ مقبولیت کی سب سے نچلی سطح پر جاگرے، وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کو بڑا دھچکا
انہوں نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گا اور جنگ کو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔
تاہم ایران کی مزاحمت اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و گیس کی برآمدات میں رکاوٹ کے باعث تنازع طویل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ٹرمپ نے جمعے کو اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا تھا کہ پیٹرول کے لیے ’تھوڑی سی زیادہ قیمت‘ ادا کرنا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے قابل قبول ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
سروے میں مجموعی طور پر 80 فیصد امریکیوں نے کہا کہ ایران میں امریکی مداخلت ’طویل عرصے تک جاری رہے گی‘۔ ان میں 87 فیصد ڈیموکریٹس اور 71 فیصد ری پبلکنز شامل ہیں۔ صرف 16 فیصد افراد کا خیال تھا کہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، معاشی پالیسیاں عوامی غصے کی زد میں
ایک حالیہ پول کے مطابق ٹرمپ کے مضبوط حامی سمجھے جانے والے ’میک امریکا گریٹ اگین‘ یا MAGA ووٹرز میں بھی صرف ایک تہائی افراد نے ایران جنگ کے معاشی اخراجات کو قابل قبول قرار دیا۔














