سپریم کورٹ کا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم، کیا مسلم لیگ ن اس معاملے سے بالکل لاتعلق تھی؟

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے، تاہم وفاق اور ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت کرنے والی مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے بیانات سے ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے وہ اس سارے معاملے سے لاتعلق تھے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا۔ سینیٹر ناصر بٹ نے کہاکہ یہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سازش ہورہی ہے، جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے فیصلے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ن لیگ کی حکومت کے خلاف ایک بار پھر سازش ہورہی ہے، سینیٹر ناصر بٹ کا دعویٰ

دوسری جانب پی ٹی آئی نے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم عمران خان کی صحت کے معاملے پر کوئی سیاست نہیں کریں گے، حکومت عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائے۔

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل پیش کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو آزادانہ اور میرٹ پر مبنی قرار دے دیا۔

عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر رانا ثنااللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آزادانہ، حقائق کی بنیاد پر اور میرٹ پر ہے، پی ٹی آئی اس فیصلے کا خیرمقدم کر رہی ہے اور عدالت بھی پی ٹی آئی کی تعریف کر رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما، سینیٹر ناصر بٹ نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ انہیں لگتا ہے کہ میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف ایک بار پھر سازش ہو رہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ میاں صاحب ہمیشہ واپس آ جاتے ہیں، اور سازشی رہ جاتے ہیں۔

ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف سے جب عمران خان کی اسپتال منتقلی کے حکم پر سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی قومی اسمبلی کے سیشن سے باہر آئے اور انہیں اس حوالے سے کچھ بھی معلوم نہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے حکم کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے اور ان کی بہن و ڈاکٹر کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے سے متعلق عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے۔ یہ فیصلہ عدلیہ کی وہ ساکھ بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا جو ماضی میں متاثر ہوئی۔ سچ یہ ہے کہ اس فیصلے سے میرے دل کا بوجھ کچھ کم ہوا ہے، مون سون کی گھٹن بھری فضا میں یہ فیصلہ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔

انہوں نے کہاکہ ججز اس فیصلے پر مبارکباد کے مستحق ہیں، اگر اس میں ریاست کی نیک نیتی بھی شامل ہے تو اسے بھی سراہا جانا چاہیے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اور زندگی سب سے زیادہ اہم ہے، اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی جماعت اور اہلخانہ کو بھی آئندہ اس حوالے سے احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کا ذمہ دارانہ طرز عمل مستقبل میں راستے کھولنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے متضاد بیانات پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جارہے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ کے احکامات پر سینیئر تجزیہ کار بھی اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔

سینیئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے کہاکہ گزشتہ روز حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطہ ہوا اور آج منگل کو عمران خان کو بھی ریلیف مل گیا۔ دیکھتے ہیں اچھی خبروں کا یہ سلسلہ ہمیں کہاں لے کر جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈیل یا ڈھیل؟‘، عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حکم پر لوگوں کی مختلف رائے

سینیئر تجزیہ کار حسن ایوب نے کہاکہ سپریم کورٹ کا عمران احمد نیازی کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ تاریخی، میرٹ پر مبنی اور قابلِ تحسین ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی نمایاں ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کو سیاست سے مائنس کرنے کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی احتجاجی اور لانگ مارچ کی تحریک کو کمزور اور غیر مؤثر بنانے کی راہ بھی ہموار ہورہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp