جاپان میں پولیس نے ایک 32 سالہ خاتون کو معروف مانگا پبلشر کمپنی کے آن لائن اسٹور پر 2 ہزار سے زائد جعلی آرڈرز دینے اور بعد ازاں انہیں منسوخ کرنے یا سامان وصول کرنے سے انکار کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
جاپانی میڈیا کے مطابق اوساکا سے تعلق رکھنے والی ریسٹورنٹ ورکر مایو یوشیدا نے جولائی 2024 سے مئی 2025 کے دوران کمپنی کے آن لائن اسٹور سے 2 ہزار 100 سے زائد مرتبہ مانگا اور اینیمی سے متعلق مصنوعات آرڈر کیں۔ ان آرڈرز کی مجموعی مالیت تقریباً 4.3 ارب ین (27.2 ملین ڈالر) بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ترکیہ کا یہ غار وہی جگہ ہے جہاں ہومر نے اوڈیسی تخلیق کی تھی؟
تحقیقات کے مطابق خاتون نے آرڈرز کے لیے 238 مختلف اکاؤنٹس استعمال کیے۔ بعض مواقع پر اس نے کنوینیئنس اسٹور کے ذریعے ادائیگی کا طریقہ منتخب کیا، تاہم مقررہ وقت تک رقم ادا نہ کرنے کے باعث آرڈرز خودکار طور پر منسوخ ہوجاتے تھے۔
خاتون مبینہ طور پر کئی مرتبہ کیش آن ڈیلیوری کے ذریعے بھی سامان منگواتی رہی لیکن پارسل پہنچنے پر اسے وصول کرنے یا ادائیگی کرنے سے انکار کردیتی تھی۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کو بار بار ترسیل اور کورئیر کے اخراجات برداشت کرنا پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ترکیہ کا یہ غار وہی جگہ ہے جہاں ہومر نے اوڈیسی تخلیق کی تھی؟
کمپنی کے مطابق ان مسلسل جعلی آرڈرز اور منسوخیوں کے باعث اسے تقریباً 75 لاکھ ین (تقریباً 47 ہزار ڈالر) کا براہِ راست مالی نقصان ہوا، جبکہ بعض مصنوعات عارضی طور پر ’آؤٹ آف اسٹاک‘ ظاہر ہونے کے باعث دیگر صارفین کو خریداری کا موقع بھی نہیں مل سکا۔
پولیس کے مطابق مایو یوشیدا نے دورانِ تفتیش آرڈرز دینے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اسے روزمرہ زندگی میں شدید دباؤ محسوس ہوتا تھا اور پسندیدہ مصنوعات فروخت ہونے سے قبل آرڈر کرنے سے اسے اطمینان اور ذہنی سکون ملتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بکری کے شکار پر آئے اژدھے کو ہاتھ پر ڈسنے کے باوجود شخص دبوچ لیا
خاتون نے یہ بھی واضح کیا کہ اسے کمپنی سے کوئی ذاتی رنجش نہیں تھی۔ حکام نے اسے کاروباری سرگرمیوں میں مبینہ طور پر دھوکہ دہی کے ذریعے رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔














