امریکی سفارتخانے اسلام آباد اور ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان کے اشتراک سے سی گلوبل اکنامک، انٹرپرینیورشپ اینڈ انویسٹمنٹ ریڈینس فورم کا انعقاد کیا گیا، جس میں تقریباً 150 کاروباری افراد، او آر آئی سی انکیوبیشن سینٹرز کے ڈائریکٹرز، اسٹارٹ اپس کے بانیوں اور انوویشن ایکو سسٹم سے وابستہ رہنماؤں نے شرکت کی۔
فورم 18 اگست 2026 کو اسلام آباد میں یو ایس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔
امریکی سفارتخانے کی ڈائریکٹر پبلک انگیجمنٹ کے خیرمقدمی کلمات
فورم کا آغاز اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی ڈائریکٹر پبلک انگیجمنٹ کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا۔
اس کے بعد انٹرپرینیورشپ اینڈ ٹریڈ اسپاٹ لائٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارتی روابط اور پاکستانی کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے دستیاب وسائل سے متعلق پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔
اعلیٰ تعلیم میں انٹرپرینیورشپ اور جدت کے فروغ پر زور
پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر اقرار نے فورم کا باضابطہ افتتاح کیا اور پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں انٹرپرینیورشپ اور جدت کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
فورم میں گفتگو کے مختلف سیشنز بھی منعقد ہوئے۔ سپیریئر یونیورسٹی کی ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے یونیورسٹی اور صنعت کے درمیان تعاون کے موضوع پر خطاب کیا۔
انہوں نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان کے اختراعی خیالات کو پائیدار معاشی مواقع میں تبدیل کرنے میں انٹرپرینیورشپ کے کردار پر زور دیا۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے پرو ریکٹر ایئر وائس مارشل ڈاکٹر رضوان ریاض نے ریسرچ کمرشلائزیشن یعنی تحقیقی کام کو تجارتی سطح پر لانے کے حوالے سے اپنے خیالات اور تجربات سے آگاہ کیا۔
امریکی کاروباری شخصیت اسکاٹ فاکس کا ورچوئل خطاب
فورم کا مرکزی حصہ امریکی کاروباری شخصیت اور اینجل انویسٹر اسکاٹ فاکس کا ورچوئل کلیدی خطاب تھا۔
اسکاٹ فاکس نے امریکی مارکیٹ میں داخل ہونے، سرمایہ کاروں کے لیے تیار کاروباری منصوبے تشکیل دینے، گورننس اور شفافیت کو مضبوط بنانے اور امریکا سے ہم آہنگ سرمایہ اور سرمایہ کاروں کے نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کرنے کے حوالے سے عملی رہنمائی فراہم کی۔
پاکستانی کاروباری افراد اور محققین میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، ہیڈی اسمتھ
اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی ڈائریکٹر پبلک انگیجمنٹ ہیڈی اسمتھ نے کہا کہ امریکا انٹرپرینیورشپ، وینچر کیپیٹل اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں عالمی رہنما ہے، سلیکن ویلی کے معروف اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم سے لے کر مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل جدت اور تیزی سے ترقی کرنے والے کاروباروں کے قیام میں امریکا کا نمایاں کردار ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کے کاروباری افراد اور محققین میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، انہیں درست روابط اور بین الاقوامی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنے کے طریقہ کار کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہیڈی اسمتھ نے کہاکہ پاکستانی کاروباری افراد کو اسکاٹ فاکس جیسے امریکی سرمایہ کاروں اور امریکی انوویشن ایکو سسٹمز سے جوڑنے کے ذریعے ایسی سرگرمیاں ان کی عالمی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط کرتی ہیں اور ان شراکت داریوں کو فروغ دیتی ہیں جو آنے والے برسوں میں پاکستان کی انوویشن اکانومی کی تشکیل میں کردار ادا کریں گی۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں امریکی انوویشن لینڈ اسکیپ کو اجاگر کرنے پر فخر ہے، جو امریکی انٹرپرینیورشپ کی طاقت کی عکاسی کرتا ہے اور دنیا بھر میں جامع معاشی ترقی اور جدت کے لیے امریکا کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
نیٹ ورکنگ ریسیپشن، مستقبل میں تعاون کے مواقع کا جائزہ
تقریب کے اختتام پر امریکی سفارتخانے کی میزبانی میں نیٹ ورکنگ ریسیپشن کا اہتمام کیا گیا، جس میں کاروباری افراد، ماہرین تعلیم، سرمایہ کاروں اور ایکو سسٹم پارٹنرز نے شرکت کی۔
اس موقع پر شرکا نے مستقبل میں باہمی تعاون کے مواقع تلاش کرنے اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔














