امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ نہ تو اس وقت کوئی مذاکرات ہورہے ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں کسی بات چیت کا شیڈول طے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح تک گر گئی، 64 فیصد امریکیوں نے کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کردیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات یا بات چیت جاری نہیں اور نہ ہی طے شدہ ہے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے جبکہ آبنائے ہرمز کھلی اور فعال ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں موجود تمام بحری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں دھماکے سے تباہ کردیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: اردوان کا ٹرمپ سے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور، امن کوششوں کی حمایت کی پیشکش
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز اور وسیع تر تنازع پر کشیدگی برقرار ہے۔ ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت کھلی اور آپریشنل ہے تاہم ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کی صورتحال سے متعلق مختلف مؤقف سامنے آتا رہا ہے۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) August 18, 2026
آبنائے ہرمز خلیج عرب کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے جس کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس لیے اس کے حوالے سے کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو ’سفید جھنڈا‘ لہرانے‘ کا مشورہ دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست پس پردہ رابطے کا ایک چینل موجود ہے جس میں ایران کی پاسداران انقلاب سے وابستہ حکام بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو اچھے ’پوکر کھلاڑی‘ قرار دیا تاہم ساتھ ہی کہا کہ وہ ’ختم ہو رہے ہیں‘۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کشیدگی: اگر عمان راستے میں آیا تو اسے بمباری کا نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
ٹرمپ کے تازہ بیان سے بظاہر امریکا اور ایران کے درمیان فوری سفارتی پیشرفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور تنازعے کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے۔














