خاتون محتسب خیبر پختونخوا کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جاری، خواتین کو اربوں روپے کی جائیداد واپس دلائی گئی

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خاتون محتسب خیبر پختونخوا رباب مہدی نے ادارے کی پہلی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے بھر میں خواتین کو 4 ارب 10 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد ان کا حق دلوایا گیا، جبکہ 20 ہزار سے زائد سماعتیں بھی کی گئیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خاتون محتسب نے بتایا کہ ان کا ادارہ آئین کے تحت قائم کیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات، خصوصاً خواتین، کو روایتی عدالتی نظام کے طویل مراحل اور اخراجات سے بچاتے ہوئے فوری اور سستا انصاف فراہم کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں 90فیصد سے زائد خواتین وراثتی حصے سے محروم

انہوں نے بتایا کہ ادارے کے دائرہ اختیار میں دو اہم قوانین شامل ہیں، جن میں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کا قانون 2010 اور خیبر پختونخوا خواتین کے جائیداد کے حقوق کے نفاذ کا قانون 2019 شامل ہیں۔

خاتون محتسب کے مطابق ہراسانی کے مقدمات میں محتسب کو ہائی کورٹ جبکہ جائیداد کے حقوق سے متعلق مقدمات میں ضلعی عدالت کے اختیارات حاصل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے عہدے کا حلف اٹھایا تو ادارے میں 2 ہزار 397 مقدمات زیرالتوا تھے اور نئے درخواست گزاروں کو نومبر اور دسمبر کی تاریخیں دی جارہی تھیں۔

روایتی طریقہ کار کے تحت روزانہ 20 سے 25 مقدمات کی سماعت ہوتی تھی، تاہم انہوں نے روزانہ کی کاز لسٹ میں مقدمات کی تعداد بڑھا کر 80 سے 120 کردی، جس کے نتیجے میں صرف چار ماہ کے اندر تمام زیرالتوا مقدمات نمٹا دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان ہائیکورٹ نے خاتون محتسب نور جہاں مینگل کو عہدے سے برطرف کر دیا

ان کے مطابق اب روزانہ 15 سے 20 نئی شکایات موصول ہوتی ہیں اور اب تک مجموعی طور پر 4 ہزار نئے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ کسی بھی درخواست گزار کو 15 سے 20 دن کے اندر سماعت کی تاریخ مل جاتی ہے۔

خاتون محتسب نے کہا کہ ادارے میں وکیل کی موجودگی لازمی نہیں، کوئی بھی شہری بغیر وکیل کے اپنا مقدمہ خود پیش کرسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں، جبکہ شفافیت کیلئے سرکاری ویب سائٹ بھی شروع کی گئی ہے۔

جائیداد سے متعلق مقدمات میں محصولاتی ریکارڈ میں سقم یا فیصلوں پر عملدرآمد میں رکاوٹ کی صورت میں محتسب کی جانب سے کمیشن بھیجے جاتے ہیں۔ اب تک 226 کمیشن تشکیل دیے گئے، جن میں سے 144 مکمل ہوچکے ہیں اور ان کے ذریعے خواتین کو ان کے گھروں کی چابیاں حوالے کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے خاتون کو ہراساں کرنے پر پی ٹی وی کے 6 ملازمین کی ترقی روک دی

ادارے کی جانب سے پشاور تک محدود رہنے کے بجائے بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ہزارہ اور مالاکنڈ سمیت صوبے کے تمام ڈویژنز میں کھلی کچہریاں بھی منعقد کی گئیں۔ ان کچہریوں میں پہلی مرتبہ خاتون محتسب، ڈویژنل کمشنر اور علاقائی پولیس افسر ایک ساتھ موجود رہے تاکہ خواتین کو موقع پر ہی ریلیف فراہم کیا جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق کھلی کچہریوں میں 97 فیصد شکایات کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔

خاتون محتسب نے بتایا کہ ادارے نے حال ہی میں 48 جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ بھی رابطہ کیا تاکہ ہراسانی سے تحفظ کے قانون کے تحت انکوائری کمیٹیوں کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان کے مطابق ادارے کے پاس تقریباً 900 گواہیاں موجود ہیں، جو ان خواتین کی رضامندی سے ریکارڈ کی گئی ہیں جنہیں ان کا حق مل چکا ہے۔

انہوں نے 17 سال پرانے ایک مقدمے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یہ مقدمہ 2009 میں دائر کیا گیا تھا، جسے محتسب کے ادارے نے صرف دو ماہ میں نمٹا کر متعلقہ خاتون کو ان کے گھر کی چابیاں حوالے کیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: سابق وفاقی محتسب کو توہین عدالت کیس میں نوٹس جاری

خاتون محتسب نے میڈیا نمائندگان سے اپیل کی کہ ادارے کی کارکردگی اور مثبت پیش رفت کو بھی اجاگر کیا جائے، کیونکہ عموماً منفی خبریں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں جبکہ عوامی فلاح کیلئے کام کرنے والے اداروں سے متعلق آگاہی کم رہتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp