مصنوعی ذہانت طیاروں کو موسمیاتی حدت بڑھانے والی سفید لکیروں سے بچانے میں مدد دے گی

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں ایک اہم آزمائش کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ مصنوعی ذہانت کس طرح طیاروں کو فضا میں موسمیاتی حدت بڑھانے والی سفید لکیریں بنانے سے بچا سکتی ہے۔

برطانیہ میں 50 لاکھ پاؤنڈ کی لاگت سے شروع کیے جانے والے منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان علاقوں کی پیش گوئی کرنا ہے جہاں طیاروں کے گزرنے سے یہ سفید لکیریں بننے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، تاکہ طیاروں کو ان علاقوں سے متبادل راستے سے گزارا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی مدد سے والد نے بیٹے کے لیے روبوٹک بازو بنا ڈالا

اس آزمائش کی توجہ شمالی بحر اوقیانوس کے مشرقی حصے میں واقع شین وک سمندری فضائی حدود پر ہوگی، جو دنیا بھر میں طیاروں کی جانب سے بننے والی ان سفید لکیروں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی حدت میں تقریباً پانچ فیصد حصہ رکھتی ہے۔

30 ماہ پر مشتمل آپریشن بلیو اسکائیز منصوبے میں گوگل، برطانوی حکومت، کیمبرج یونیورسٹی اور امپیریل کالج لندن کے محققین شامل ہیں۔

طیاروں کے انجن سے خارج ہونے والی گرم گیس جب انتہائی سرد فضا سے ملتی ہے تو برف کے ننھے ذرات بنتے ہیں، جن کے نتیجے میں آسمان پر سفید لکیریں نمودار ہوتی ہیں۔ ان لکیروں کو بخاراتی لکیریں بھی کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت موزوں سائز کے کپڑے خریدنے میں مدد کر سکتی ہے؟

منصوبے کے تحت گوگل مصنوعی ذہانت کے ذریعے سیٹلائٹ تصاویر اور پروازوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرے گا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ طیاروں کے پیچھے یہ لکیریں کہاں بن رہی ہیں۔ ان معلومات کو موسمیاتی پیش گوئی کے ساتھ ملا کر ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی جہاں نئی سفید لکیریں بننے کے لیے فضائی حالات سازگار ہوں گے۔

تحقیق کا مقصد یہ ہے کہ طیاروں کو ان فضائی تہوں سے بچایا جاسکے جہاں ایسی لکیریں بننے کا امکان زیادہ ہو۔ آزمائش 2026 اور 2027 کی سردیوں میں منتخب شاموں اور راتوں کے دوران کی جائے گی۔

اس دوران تقریباً 10 ہزار پروازوں کے اس فضائی حدود سے گزرنے کی توقع ہے، تاہم ان میں سے صرف ایک محدود تعداد کو سفید لکیروں سے بچنے کے لیے اپنی پرواز کی بلندی تبدیل کرنا پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی مدد سے لڑکی کو اس کی کھوئی ہوئی آواز مل گئی

گوگل کے منصوبے کے تکنیکی سربراہ ڈاکٹر پال ہاجسن کے مطابق گزشتہ آزمائشوں سے اشارہ ملا ہے کہ طیارے کی پرواز میں اضافی ایندھن کے استعمال کے مقابلے میں موسمیاتی حدت بڑھانے والی سفید لکیر کو روکنے کا فائدہ نمایاں طور پر زیادہ ہوسکتا ہے۔

آپریشن بلیو اسکائیز کے نتائج سائنسی تحقیقی جریدوں میں شائع کیے جائیں گے اور انہیں وسیع تر ماہرین کی جانچ کے عمل سے گزارا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp