چین نے دوبارہ استعمال ہونے والے ژوچوئے-3 راکٹ کو کامیابی سے خلا میں بھیجنے کے بعد اس کے پہلے مرحلے کو زمین پر بحفاظت اتار لیا، جسے دوبارہ قابلِ استعمال راکٹ ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چین نے بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق 7 بج کر 35 منٹ پر ژوچوئے-3 وائی ٹو راکٹ لانچ کیا۔ راکٹ نے شمال مغربی چین کے ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے پرواز کی، جس کے بعد اس کا پہلا مرحلہ طے شدہ مقام پر کامیابی سے واپس اتار لیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے نے ہونگ ہو-03 سیٹلائٹ کو مقررہ مدار میں پہنچا دیا۔
یہ بھی پڑھیے چین نے لانگ مارچ 12 راکٹ کے ذریعے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کا نیا گروپ خلا میں پہنچا دیا
یہ چین کا کسی راکٹ کے پہلے مرحلے کی زمین پر کنٹرولڈ ریکوری کا پہلا کامیاب تجربہ ہے، جس میں قابلِ توسیع لینڈنگ ٹانگوں کا استعمال کیا گیا۔ اس سے قبل 10 جولائی کو لانگ مارچ-10 بی راکٹ کے پہلے مرحلے کو سمندر میں جال کے ذریعے کامیابی سے واپس حاصل کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق تازہ کامیابی چین کی دوبارہ قابلِ استعمال راکٹ ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
ژوچوئے-3 کو چینی کمرشل خلائی کمپنی لینڈ اسپیس نے تیار کیا ہے۔ یہ مائع آکسیجن اور میتھین سے چلنے والا 2 مرحلوں پر مشتمل راکٹ ہے، جس کی مجموعی لمبائی 66.1 میٹر اور دونوں مراحل کے جسم کا قطر 4.5 میٹر ہے، جبکہ پے لوڈ فیئرنگ کا قطر 5.2 میٹر ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ 9 ٹی کیو-12 اے مائع آکسیجن-میتھین انجنوں سے چلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے چین کا ’اسکائی آئی‘ سائنسی منصوبہ، دور افتادہ گاؤں سیاحت اور ترقی کا نیا مرکز بن گیا
خلائی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مائع آکسیجن میتھین انجن، اسٹین لیس اسٹیل سے تیار کردہ ڈھانچے اور عمودی لینڈنگ و ریکوری پر مشتمل اس ٹیکنالوجی کی کامیاب آزمائش چین میں کم لاگت اور بار بار لانچ کیے جانے والے راکٹوں کی تیاری میں مدد دے گی، جس سے مستقبل میں چین کے کم زمینی مدار میں سیٹلائٹ نیٹ ورک کی تشکیل تیز ہونے کا امکان ہے۔














