سوال اٹھانا واجب ہے

بدھ 19 اگست 2026
author image

ساجد علی ثمر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کسی معاشرے میں تبدیلی ہمیشہ فلک شگاف نعروں، تشہیر زدہ تحریکوں یا شاہی محلوں پر قبضہ کرنے سے نہیں آتی، بلکہ یہ کسی نوجوان کے ذہن میں اٹھتے چنگاری نما سوال سے جنم لیتی ہے اور پھر روایتی حکومتی ڈھانچوں، جبر و تسلط کی کالی راتوں اور بوسیدہ سیاسی نظاموں کو آگ کی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

ایک ایسا سوال جو فکر و نظر کے نئے زاویے تراش کرتا ہے۔ وہ پرانی روایتوں کو پہلی بار شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور یہ درک کرتا ہے کہ انہیں صرف اس لیے درست نہیں مانا جا سکتا کہ انہیں ہمیشہ سے اسی طرح دیکھا جاتا رہا ہے۔

شاید پاکستان کا نوجوان بھی آج اسی مرحلے سے گزر رہا ہے۔

وہ خاموش ضرور دکھائی دیتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ بے خبر بھی ہو۔ شاید وہ بھی ایسے سوالات کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کے رحم و کرم پر ہے، جن کے جواب اسے اپنے اردگرد کے روایتی بیانیوں میں نہیں مل رہے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں جنریشن زی کی کامیاب تحریکوں نے جس سیاسی شعور کے ذریعے مثبت تبدیلی کی راہیں ہموار کی ہیں، ان میں ذیلی مقاصد کے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قدرِ مشترک تھی کہ آج کا نوجوان مشترکہ ملی مقاصد کے حصول کی فیصلہ سازی میں اپنی موجودگی کی ضرورت کا احساس دلانا چاہتا ہے۔

پاکستانی نوجوان کی صورتِ حال بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں، لیکن ابھی وہ روایتی سیاسی مصادر کے مطالعے میں مصروف ہے اور تنقید کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اور یہی تبدیلی زیادہ اہم ہے کہ کسی بھی مسئلے پر آواز اٹھانے سے پہلے اس کا بغور جائزہ بھی لیا جائے۔

وہ اپنے والدین اور اساتذہ سے ایسے سوالات پوچھتا ہے جو اس نے پہلے کبھی نہیں پوچھے۔ مثال کے طور پر، وہ فقط سلیبس کی تیاری نہیں کر رہا بلکہ یہ بھی سوچ رہا ہے کہ اس سلیبس کی ساخت کیا ہے اور یہ تاریخی و تحقیقی طور پر درست بھی ہے کہ نہیں۔

وہ ملازمت کو صرف روزی کا ذریعہ نہیں سمجھتا، بلکہ وہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا باعزت طور پر اظہار بھی کر سکتا ہے کہ نہیں۔

وہ سیاست کو صرف اس نظر سے نہیں دیکھتا کہ کون سی سیاسی جماعت اقتدار میں ہے، بلکہ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کے پاس اقتدار کا یہ حق کیوں کر ہے؟ اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں کہ نہیں؟

وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کی حمایت یا مخالفت فقط نظریات کی بنیاد پر نہیں کرتا، بلکہ اس کے مسائل ہی اب اس کا نظریہ ہیں۔

آج سے دو دہائیاں قبل معلومات کے ذرائع انتہائی محدود تھے۔ اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن بھی ہر جگہ میسر نہیں تھے، لیکن آج کا نوجوان ایک ہی واقعے کو مختلف ذرائع سے دیکھ سکتا ہے۔

وہ ایک پاکستانی تجزیہ کار کو بھی سنتا ہے اور کسی دوسرے ملک کے اسی مضمون کے ماہر کی رائے بھی پڑھتا ہے۔ وہ ریاستی بیانیہ بھی دیکھتا ہے، لیکن اس کے محرکات کو بھی سمجھ سکتا ہے۔

یعنی اب اس پر رائے تھوپی نہیں جا سکتی، بلکہ وہ رائے دینے کی پوزیشن میں ہے، اس لیے تو وہ بار بار اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتا ہے۔

وہ یہ سوال کر سکتا ہے کہ کوئی رسم صرف اس لیے کیوں درست ہے کہ ہمارے بڑوں نے اسے درست سمجھا؟ کوئی سیاسی شخصیت صرف اس لیے قابلِ احترام کیوں ہے کہ اس کے گرد کئی دہائیوں سے احترام کا ہالہ قائم ہے؟ کسی ادارے سے سوال کرنا بے ادبی کیوں سمجھا جائے؟

یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی ہے۔

اس نوجوان پر سوشل میڈیا کی نسل کا عنوان اس کا منفی تاثر پیش کرتا ہے، حالانکہ سوشل میڈیا اس کے لیے فقط معلومات کے منبع کا نام ہے۔ اس میں کیا سچ ہے، کیا جھوٹ ہے، یہ تو اس کے لیے ابھی طے کرنا باقی ہے۔ اور یہی وہ مرحلہ ہے جسے وہ کثیر الجہتی اور متنوع خیالات کی تلخیص سے طے کر رہا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک اپنی قوت کو ایک جگہ پر جمع نہیں کر سکا، کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں بنا سکا جہاں سے ایسی آواز بلند ہو جو نسلی، لسانی، علاقائی، صوبائی اور مذہبی شناخت سے بے نیاز ہو۔

ظہران ممدانی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس نے بہت سی نظریاتی آوازوں کو فقط سماجی مسائل کے حل کے لیے جمع کیا اور اس تحریک نے اسے مثالی کامیابی دلائی۔

یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ پاکستان کا نوجوان اٹھے، اپنے ہم عصروں کو جمع کرے اور ایک کھلے میدان میں اسکول کی اسمبلی کا سا ماحول بنائے، بلکہ وہ سماجی مسائل کے حل کے لیے ایسی اثر انگیز آواز بلند کرے کہ باقی ساری شناختوں کے حامل لوگ بھی جوق در جوق اس کی مدد کو آئیں۔

یہ سوچ ابھی غیر منظم ہے۔ اس کی کوئی ایک قیادت نہیں، کوئی متفقہ منشور نہیں اور کوئی واضح سمت بھی نہیں، لیکن خیالات سوالات کی شکل اختیار کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ سوالات اجتماعی شعور کے منظم ہونے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کسی بھی سماج میں جب اجتماعی شعور بیدار ہوتا ہے تو اس کی منزل کسی نظریے کا دفاع، کسی شناخت کا تحفظ یا کسی مذہب کی ترویج و تبلیغ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا مطمحِ نظر حکومت کا حصول یا طاقت کے استعمال کی خواہش ہوتی ہے، بلکہ اس کا واحد مقصد بہترین سماج کی تشکیل ہوتا ہے۔

ایسے ہی مثالی سماج کی تشکیل کے لیے پاکستان کا نوجوان پرانی حد بندیوں کو توڑنا چاہتا ہے، امکانات کی نئی راہیں تلاش کرنا چاہتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اب سوال اٹھانا اس پر واجب ہو چکا ہے

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp