ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈا پر 50 فیصد ٹیرف 3 دن کے لیے معطل کرنے کا اعلان، تجارتی ڈیل طے پاگئی

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی مخصوص مصنوعات پر آدھی رات سے لاگو ہونے والے 50 فیصد اضافی ٹیرف کو 3 روز کے لیے معطل کرتے ہوئے اوٹاوا کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پانے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ پیشرفت کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی اور امریکی صدر کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد سامنے آئی، جس کے تحت فی الوقت 20 ارب ڈالر کا دوطرفہ تجارت متاثر ہونے سے بچ گیا ہے۔

تجارتی کشیدگی اور 50 فیصد ٹیرف کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی سائٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک پیغام میں تصدیق کی کہ دستاویزات کو حتمی شکل دینے کی شرط پر دونوں ممالک کے درمیان ‘ڈیل’ طے پا گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور کینیڈا کے طیارے جلد گرین لینڈ پہنچیں گے، مشترکہ دفاعی کمانڈ کا اعلان

اس سے قبل امریکی انتظامیہ نے کینیڈا پر موٹر گاڑیوں، الکحل اور ڈیری انڈسٹری میں امریکی تجارت کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے ہاکی اسٹکس، وائن اور دیگر مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ تجارتی پابندیاں ٹیرف ایکٹ 1930 کی شق 338 کے تحت لگائی جا رہی تھیں، جو کہ کسادِ بازاری کے دور کا ایک شاذ و نادر استعمال ہونے والا قانون ہے۔

کی اسٹون پائپ لائن پروجیکٹ کی ممکنہ بحالی

ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ اشارہ بھی دیا کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان متنازع ’کی اسٹون ایکس ایل‘ پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں اس منصوبے کی منظوری دی تھی، تاہم بعد میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے 2021 میں اس کے پرمٹ منسوخ کر دیے تھے۔

مزید پڑھیں:امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ’پیچیدہ‘ لیکن کینیڈا خوش ہوگا، صدر ٹرمپ

اس پروجیکٹ کی ممکنہ بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی نئی راہ قرار دیا جا رہا ہے۔

کاروباری برادری کا ردعمل

امریکی دفتر برائے تجارتی نمائندہ (یو ایس ٹی آر) کے مطابق 50 فیصد ٹیرف سے تقریباً 20 ارب ڈالر کا کینیڈین برآمداتی حجم متاثر ہونا تھا، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ 382 ارب ڈالر کی مجموعی تجارت کا چھوٹا حصہ ہونے کے باوجود چھوٹے تاجروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔

کینیڈین فیڈریشن آف انڈیپنڈنٹ بزنس کے صدر ڈین کیلی نے خبردار کیا تھا کہ اتنی بھاری شرح سے کینیڈا کی امریکا کو ہونے والی فروخت مکمل طور پر معطل ہو سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور کینیڈا میں معاہدہ، پناہ کے متلاشیوں کا راستہ بند کر دیا گیا

امریکی چیمبر آف کامرس نے بھی ٹیرف میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے اقدامات سے سپلائی چین متاثر ہوگی، قیمتیں بڑھیں گی اور ‘یو ایس ایم سی اے’ کے تحت قائم 13 ملین امریکی ملازمتیں خطرے میں پڑیں گی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور آٹو پارٹس پر بھی ٹیرف عائد کر چکی ہے، جبکہ ’یو ایس ایم سی اے‘ تجارتی معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا اشارہ دے کر خطے کی اقتصادی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp