سپریم کورٹ کا فیصلہ این آر او نہیں، صحت کو سیاست سے الگ رکھنے کے لیے ریلیف ہے، طلال چوہدری

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ہر قیدی کو علاج اور مناسب طبی سہولتوں کی فراہمی اس کا حق ہے، تاہم کسی قیدی سے ملاقات کا فیصلہ جیل مینوئل اور عدالتی احکامات کے مطابق ہی کیا جاسکتا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت کا پہلے دن سے واضح مؤقف ہے کہ ہر ادارے کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ جیل حکام نے ملاقاتوں سے متعلق فیصلہ جیل مینوئل اور عدالت کی ہدایات کے مطابق کیا، احتجاج، دھمکی یا سڑک بلاک کرنے سے ملاقات نہیں ہوسکتی۔

مزید پڑھیں:گولی کی زبان سمجھنے والوں کو گولی سے ہی جواب دیں گے: طلال چودھری

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی آج انہی عدالتوں کے فیصلوں کو انصاف کی کرن قرار دے رہی ہے جن کے بارے میں ماضی میں اس جماعت کی جانب سے عدالتوں، ججز اور پارلیمنٹ کو تسلیم نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا جاتا رہا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ عدالت نے بھی سیاسی طرزعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح کیا کہ ملاقاتوں کو سیاست کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی این آر او سے جوڑنا درست نہیں، عدالت نے صحت کے معاملے کو سیاسی ایجنڈا بننے سے روکنے کے لیے ریلیف دیا ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ سیاسی مخالفین کی بیماریوں اور میڈیکل رپورٹس کو ماضی میں سیاسی بحث کا موضوع بنایا گیا۔ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کے معاملے پر بھی غیر مناسب رویہ اختیار کیا گیا، جبکہ میاں نواز شریف کے ڈاکٹرز کو بھی میڈیکل رپورٹس کے معاملے پر ہراساں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے سیاسی مخالفین کی میڈیکل رپورٹس پر کبھی بحث نہیں کی، بیماری کو سیاسی کمزوری سمجھ کر سیاست کرنا ہماری قیادت کا شیوہ نہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ 9 مئی، 26 نومبر اور اسمبلیاں توڑنے کے بعد اب پی ٹی آئی ہمدردی کا کارڈ استعمال کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا بھی کیا گیا۔

مزید پڑھیں:ناکام احتجاج میں لاشیں نہ ملنے پر عمران خان کی صحت کا بیانیہ لانچ کیا گیا ہے، طلال چوہدری

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی کارکردگی بتانے کے بجائے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا رہی ہے۔ صحت کو سیاست کا ایجنڈا بنانے والوں کو چاہیے کہ اپنی کارکردگی کو بھی سیاسی ایجنڈا بنائیں۔

طلال چوہدری نے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا میں 17 سال اور 4 وزرائے اعلیٰ کے بعد عوام کو کیا دیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام ریاستی ادارے پرعزم ہیں اور سیاسی معاملات کو آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp